ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس: سعودی شیعہ صوبہ قطیف لاک ڈاون، مقامی لوگوں کا احتجاج

قطیف میں اکثریت شیعہ آبادی پر مشتمل ہے جہاں حکومت کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ کورونا سے متاثر لوگوں میں سے بیشتر حال ہی میں ہمسایہ ایران سے زیارت کرکے لوٹے تھے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 09, 2020 04:30 PM IST
  • Share this:
کورونا وائرس: سعودی شیعہ صوبہ قطیف لاک ڈاون، مقامی لوگوں کا احتجاج
کورونا وائرس: سعودی شیعہ صوبہ قطیف لاک ڈاون: فوٹو گیٹی امیجیز، اے ایف پی

ریاض۔ شیعہ اکثریت والے مشرقی سعودی صوبے قطیف میں کورونا وائرس کے گیارہ( 11) واقعات سامنے آنے کے بعد سعودی حکام نے پورے صوبے کو قرنطینہ میں رکھنے کے اعلان کے ساتھ علاقے کو مکمل طور پر لاک ڈاون کردیا ہے۔ حکام کے اس اقدام کو امتیازی سلوک قرار دے کر مقامی لوگ احتجا ج کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت کا استدلال ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے یہ قدم اٹھا یا گیا ہے جو عارضی نوعیت کا ہے۔ قطیف میں اکثریت شیعہ آبادی پر مشتمل ہے جہاں حکومت کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ کورونا سے متاثر لوگوں میں سے بیشتر حال ہی میں ہمسایہ ایران سے زیارت کرکے لوٹے تھے۔


سعودی وزارت داخلہ نے سرکاری نیوز ایجنسی کے ذریعہ جاری بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے سبھی نئے گیارہ واقعات چونکہ قطیف میں ہی سامنے آئے ہیں اس لئے وہاں آنے جانے پر تا حکم ثانی پابندی لگا دی گئی ہے۔ سعودی حکام اب تک ملک میں کورونا وائرس سے 234لوگوں کے متاثر ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ چین اور اٹلی کے بعد ایران بھی بری طرح اس وبا کی زد پر ہے۔ کورونا وائرس کے سبب سعودی ذمہ داران نے مکّہ مکرمہ میں عمرہ و طواف پر بھی وقتی طور پر پابندی لگا دی تھی اور مدینہ منورہ میں رات کے وقت مسجد نبوی میں بڑے مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں تھی۔


کورونا وائرس کے سبب سعودی ذمہ داران نے مکّہ مکرمہ میں عمرہ و طواف پر بھی وقتی طور پر پابندی لگا دی تھی


جہاں تک قطیف کا تعلق ہے تو وہاں کی شیعہ آبادی نے الزام لگایا ہے کہ کورونا کی آڑ میں اس کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی دیگر سعودی شہریوں کی طرح تمام آزادیاں دی جائیں۔ واضح رہے کہ 2011 میں بہارِ عرب تحریک کے دوران جس نے مغربی ایشیا اور افریقہ کے کئی ملکوں میں انقلاب برپا کر دیا تھا، سعودی عرب کے اس شیعہ غلبے والے صوبے قطیف میں بھی حکومت کے خلاف احتجاج کا طوفان اٹھا تھا اورلوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

اگر اس وبا پر اطمینان بخش طریقے سے آئندہ دنوں میں قابو نہیں پایا جا سکا تو 2020 کے حج پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حج کے موقع پر جہاں دنیا بھر کے کوئی 50 لاکھ فرزندان توحید یکجا ہوتے ہیں، کورونا وائرس سے متاثر ملکوں کے عازمین حج کو سفر حج سے روکا گیا تو ایک عجیب و غریب صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
First published: Mar 09, 2020 04:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading