உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کوروناوائرس: خودکو اور دوسروں کو نقصان سے بچانا ضروری،مسجدوں میں اجتماعی نماز سے گریز کیا جائے: مولاناارشدمدنی

    عبادت گاہ خصوصی ایکٹ 1991کو وشو بھدر پجاری پروہت مہا سنگھ کے ذریعہ قانو ن کی دستوری حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے کہ اس سے ایک طبقہ کی حقوق سلبی ہوتی ہے۔ تاہم جمعیۃ علماءہند نے ایکٹ کے دفاع میں عرضی داخل کی ہے۔

    جمعیتہ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ خودکو اور دوسروں کو نقصان سے بچانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو ضررسے بچانا شرعا ضروری ہے اور مسجدوں میں اجتماعی نماز سے گریز کیا جائے۔ یہ اپیل انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
    خودکو اور دوسروں کو نقصان سے بچانے کی اپیل کرتے ہوئے جمعیتہ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ دوسروں کو ضررسے بچانا شرعا ضروری ہے اور مسجدوں میں اجتماعی نماز سے گریز کیا جائے۔ یہ اپیل انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس ایک انتہائی مہلک بیماری ہے، صحت کے ماہرین اورڈاکٹروں کا متفقہ طورپر کہنا ہے کہ کسی متاثرہ شخص کی قربت اس کے پھیلنے کا سبب بنتی ہے۔ لاک ڈاؤن یعنی مکمل طورپر بندی اسی لئے کی جاتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے قریب نہ جائیں اور اپنے اپنے گھروں میں ہی ر ہیں، یہ ایک متعدی بیماری ہے۔ چنانچہ اس سے شدید اجتماعی ضررکا اندیشہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ  شرعی طورپر خودکو اور دوسروں کو ضررسے بچاناضروری ہے اس صورت میں مسجد میں یاکسی اورجگہ جمعہ کی نماز کے لئے جمع ہونا قطعی مناسب نہیں ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم امت مسلمہ سے اپیل کرتے ہیں کہ مسجد میں خادم، موذن اورامام کے علاوہ اورایک آدمی یعنی بشمول امام چارافرادنمازجمعہ اداکرلیں اورخطبہ مختصرکیا جائے۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ وزارت صحت کے علاوہ حکومت نے بھی کسی طرح کے اجتماع کو ممنوع قراردیا ہے اور اس نے اپنے آڈرکی دفعہ 9 میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تمام لوگ مذہبی مقامات کو اپنے اجتماعات کیلئے بند رکھیں اس لئے محتاط رہنا چاہئے۔ انسانی زندگی کی حفاظت کے لئے شرعی ہدایات کو ملحوظ رکھیں جذبات کے بجائے شریعت کی منشاء کے مطابق عملکریں۔
    انہوں نے کہاکہ انسانیت کی بنیادپر مذہب سے اوپر اٹھ کر محلہ وپڑوس میں موجود غریب اورمعاشی طورپر کمزور افرادکا بطورخاص خیال رکھاجائے کیونکہ اللہ کے غصہ سے نجات حاصل کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ غریب ونادارلوگوں کے ساتھ حسن سلوک بھی ہے، حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈاکرنے والاہے، مولانامدنی نے کہا کہ حکومت کو بھی غریب اورمحروم طبقات کے لئے کوئی ایسی حکمت عملی تیارکرنی چاہئے جس سے کوئی غریب بھوکا نہ رہ جائے۔
    Published by:sana Naeem
    First published: