ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

Covid-19 in J&K:جموں وکشمیرمیں کووڈکی صورتحال تشویشناک،طبی ماہرین نےکہاحالات ہوسکتے ہیں بےقابو

طبی ماہرین نے صاف کہا کہ صورتحال دھماکہ خیز ہئے اور انتظامیہ سے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔جی ایم سی سرینگر کے کمیونٹی میڈیسن صدر شعبہ محمد سلیم خان نے میٹنگ کے دوران کہا کہ اگر انتظامیہ نے فوری طور اقدامات نہیں کئے تو اسپتالوں میں مریضوں کا سیلاب اُمڈ آئے گا

  • Share this:
Covid-19 in J&K:جموں وکشمیرمیں کووڈکی صورتحال تشویشناک،طبی ماہرین نےکہاحالات ہوسکتے ہیں بےقابو
سری نگر میونسپل کارپوریشن میں منعقدہ اجلاس کی تصویر میں میئر جنید عظیم متو دیکھے جاسکتے ہیں

جموں  کشمیر میں طبی ماہرین کووڈ کی بڑھتے معاملات کو لیکر کافی پریشان ہیں ۔سرینگر میں مئیر جنید عظیم متوکی جانب سے بُلائی گئی میٹنگ کے دوران طبی ماہرین نے صاف کہا کہ صورتحال دھماکہ خیز ہئے اور انتظامیہ سے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔جی ایم سی سرینگر  کے کمیونٹی میڈیسن صدر شعبہ محمد سلیم خان نے میٹنگ کے دوران کہا کہ اگر انتظامیہ نے فوری طور اقدامات نہیں کئے تو اسپتالوں میں مریضوں کا سیلاب اُمڈ آئے گا اور حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔



اسکمز سرینگر کی ماہر ڈاکٹر انجم فاضلی نے مئیر سے سوال کیا کہ آخر مُلک کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں سے سیاحوں کو آر ٹی پی سی آر ٹیسٹوں کے بغیرکشمیر آنے کی اجازت کیونکر دی جا رہی ہئے اور سیاحتیمقامات پر لوگوں کی بھیڑ کیوں جمع ہوتی ہئے۔ سرینگر کے مئیرنے میٹنگ کے بعد نیوز18 کو بتایا کہ طبی ماہرین نے صاف کہاکہ حالات پچھلے سال کے مقابلے  میں ابتر ہیں۔انھوں نے لیکنکہا کہ لاک ڈاون فی الحال نہیں لگایا جاسکتا لیکن کووڈقواعد وضوابط پر سختی سے عمل کروایا جائے گا۔


جموں  کشمیر کے ممتاز ماہر امراض سینہ پروفیسر نوید نذیر نے نیوز18 کو بتایا کہ کووڈ کی دوسری لہر پہلی لہر سے خطرناک ہئےکیونکہ انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہئے اور نوجوان اور بچے بھی متاثر ہورہئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسپتال پہنچتے پہنچتے مریضوں کے پھیپھڑے کافی متاثر ہوتے ہیں۔انھوں نے عوام سے کہا کہ وہ کووڈ ایس او پی کے ساتھ ٹیکے لگوائیں ۔جموں کشمیر میں آج چھٹے روز ایک ہزار سے زیادہ معاملےسامنے آئے ۔پچھلے دو دن سے 1500 سے زیادہ معاملے سامنے آرہئے ہیں جو پچھلے چھ ماہ میں چوبیس گھنٹے میں سب سے زیادہ معاملے ہیں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Apr 19, 2021 09:39 PM IST