ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کووڈ 19کا قہر : آندھراپردیش کے کرنول میں غریبوں کے مسیحا،2 روپئے والے ڈاکٹر کا انتقال

ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین نہ صرف ضلع کرنول بلکہ ریاست آندھرا پردیش ، تلنگانہ اور کرناٹک میں ویسے ہی جانے جاتے تھے۔ جسے کرنول شہر میں جانے پہنچنے جاتے ہیں ۔

  • Share this:
کووڈ 19کا قہر : آندھراپردیش کے کرنول میں غریبوں کے مسیحا،2 روپئے والے ڈاکٹر کا انتقال
ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین نہ صرف ضلع کرنول بلکہ ریاست آندھرا پردیش ، تلنگانہ اور کرناٹک میں ویسے ہی جانے جاتے تھے۔ جسے کرنول شہر میں جانے پہنچنے جاتے ہیں ۔

کرنول :14 اپریل کو ڈاکٹر کے ایم اسمعیل کا کورونا کی وجہ سے انتقال ہو گیا ۔ ضلع کرنول میں اب تک9 افراد نے کورونا کی وجہ سے انتقال کر گئےاور 297سے زیادہ افراد اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، ڈاکٹر کے ایم اسمعیل کا انتقال نہ صرف اُنکے خاندان کے لئے بلکہ علاق ر ائلسیما بالخصوص حلقہ کرنول کی غریب عوام کو ہوا ، ڈاکٹر صاحب شہر میں 2 روپئے والے ڈاکٹر کے نام سے مشہور تھے ۔آئے جانتے ہیں کہ کون تھے ڈاکٹر کے ایم اسمعیل اورکمی شائد سے محسوس کی جا رہی ہے ۔


ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین ایک لافانی شکست ہے ۔ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین نہ صرف ضلع کرنول بلکہ ریاست آندھرا پردیش ، تلنگانہ اور کرناٹک میں ویسے ہی جانے جاتے تھے۔ جسے کرنول شہر میں جانے پہنچنے جاتے ہیں ۔ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین یکم مارچ 1942 میں ہوئی ، اُن کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ، لیکن کامیابی حاصل کرنے میں انکی غریبی آڑے نہیں آئی۔انکی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول اُردو، کرنول میں ہوئی ۔جو اس وقت پر مسلم اسکول کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین نے، پی ، یو، سی عثمانیہ کالج کرنول میں پڑی ۔ پی یو سی کی کامیابی کے بعد ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین نے فرسٹ ایئر ایم۔ بی۔ بی۔ یس کی تعلیم وشاکھا پٹنم میں کی اور سیکنڈ ایئر سے وہ کرنول میڈیکل کالج میں داخلہ لیا ۔


  ڈاکٹر کے  ایم اسمعیل حسین۔(فائل:فوٹو)۔
ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین۔(فائل:فوٹو)۔


کرنول میڈیکل کالج میں ہی بطور پروفیسر آف میڈیسن کی حیثیت سے خدمات انجام دی۔بعد میں وہ ضلع اننت پور کے رائے درگھ میں بھی اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے چند سال بعد وہ وی آرا یس لے لئےاور اُنہیں قابلیت کو دیکھتے ہوئے انجمن اسلامیہ کرنول کی جانب سے اُنہیں ڈاکٹر عبدالحق یونانی کالج کے اسپیشل افسر بنائے گئے۔ ڈاکٹر صاحبِ دو مرتبہ اپولواسپتال کےمنیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی اور نندیال کے شانتی رام میڈیکل کالج میں پروفیسر آف میڈیسن کی حیثیت سے خدمات انجام دی اور بعد میں ایک سو سالہ انجمن اسلامیہ کرنول کے انچارج کرسپانڈنٹ بھی بنائے گئے۔

ڈاکٹر صاحب کے سیاسی سفر پر نظر ڈالے تو ڈاکٹر صاحب سیاسی میدان میں بھی ایک مشہور شخصیات جانے جاتے ہیں۔ اُن کا سیاسی سفر تلگو دیشم پارٹی سے شروع ہوا ۔ ان کے تعلقات سابق وزیر اعلیٰ این ٹی آر اور چندر بابو نائیڈو سے بہت اچھے تھے۔ تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے اُنہیں دو مرتبہ حلقہ کرنول سے ٹکٹ دی ۔لیکن ڈاکٹر صا حب نے اسے قبول نہیں کیااور اپنے جانب سے ٹی ، جی ، وینکٹیش کو ٹکٹ دینے کی تجویز پیش کی۔ ڈاکٹر کےایم ڈاکٹر اسمعیل صاحب ، متحدہ آندھرا پردیش وقف بورڈ کے ڈائرکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ضلع وقف بورڈ صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں ہیں ۔ڈاکٹر کے ایم اسمعیل حسین کو اُن کےدوراندیش نظریہ کے ساتھ دیکھا جائے تو اس قسم کا ڈاکٹر شاید اس صدی میں کرنول کی سرزمین پر نہیں ملے گا۔

ڈاکٹر صاحب کرنول کے قدیم شہر میں واقعہ عثمانیہ کالج کے روبرو اپنے ایک بڑا سا اسپتال قائم کیا تھے جو بنا کیس مذہب اور ملت کی پرواہ کیے بغیر ایسی خدمت انجام دے رہے تھے کہ جس کا کوئی جواب نہیں ، ہر دن سینکڑوں مریض اُن کے پاس علاج کے لیے آتے اور اللہ کے فضل سے صحت یاب ہو کر جاتے ، ڈاکٹر صاحب کے مریض علاقہ ر ائلسیما ، آندھرا ، تلنگانہ ،اور کرناٹک کے علاوہ ریاست راجستھان سے بھی آتےہیں۔ڈاکٹر صاحب کی ایک خاص بات تھی کہ وہ کس سے بھی اپنی فیس نہیں مانگتے ، اور ایک بہت خاص بات یہ تھی کہ وہ شام سے رات 3 بجے تک اپنی خاموش خدمت انجام دیتے رہے ، لیکن کسے پتہ تھا کہ ایک ملی سماجی خدمات انجام دینے والے فرد ایک دن اچانک کوڈ 19کا شکار بن جائیں گے اور 14 اپریل کو وہ ہم سے دور چلا گئے۔ ایک ایسا ڈاکٹر جو سماجی خدمات انجام دیتے ہوئے کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ۔ ڈاکٹر صاحبِ کے انتقال سے نہ صرف کرنول بلکہ ریاست آندھرا پردیش ، تلنگانہ اور کرناٹک میں مایوسی دیکھی جارہی ہے ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Apr 27, 2020 04:32 PM IST