உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Coronavirus: کیا اومیکرون لائے گا انفیکشن کی ایک اور لہر؟ اگلے 8 ہفتوں میں صاف ہوگی تصویر

    کیا اومیکرون لائے گا انفیکشن کی ایک اور لہر؟

    کیا اومیکرون لائے گا انفیکشن کی ایک اور لہر؟

    ہندوستان میں ’اومیکرون وویو‘ (Omicron in India) ہے یا نہیں اس کے واضح ہونے میں چھ سے آٹھ ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ مہاراشٹر میں اومیکرون کا پہلا کیس ملنے پر ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (صحت) ڈاکٹر پردیپ ویاس نے کہا، ’ہم ویکسی نیشن کو جلد سے جلد پورا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ‘

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک میں ہفتہ کو کورونا وائرس انفیکشن کے اومیکرون ویرینٹ کے دو نئے کیسیز سامنے آئے۔ گجرات (Omicron in Gujarat) کے 72 سالہ شخص جب کہ مہاراشٹر (Omicron In Maharashtra) کے 33 سالہ شخص کے اومیکرون سے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد اب تک ملک میں اس ویرینٹ کے چار کیسیز درج کیے جاچکے ہیں۔ اس سے پہلے، کرناٹک میں دو افراد کے وائرس سے متاثرہ ہونے کی خبر سامنے آئی تھی۔ اُدھر ماہرین نے کہا ہے کہ ہندوستان میں ’اومیکرون وویو‘ (Omicron in India) ہے یا نہیں اس کے واضح ہونے میں چھ سے آٹھ ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ مہاراشٹر میں اومیکرون کا پہلا کیس ملنے پر ریاست کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (صحت) ڈاکٹر پردیپ ویاس نے کہا، ’ہم ویکسی نیشن کو جلد سے جلد پورا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ‘ ساتھ ہی یہ یقینی کریں گے کہ لوگ ماسک پر خاص زور دیتے ہوئے کوویڈ پروٹوکال پر عمل کریں۔

      انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے مطابق مہاراشٹر حکومت کے کوویڈ ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر ششانک جوشی نے کہا، ’اس وقت اومیکرون ویرینٹ کے ساتھ بہت سارے نامعلوم ویرینٹس ہیں۔ ہمیں گھبرانا نہیں بلکہ محتاط رہنا چاہیے۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ اومیکرون اگلے کچھ ہفتوں میں ڈیلٹا ویرینٹ کی جگہ لے گا یا نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اگلے چھ سے آٹھ ہفتے اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ہندوستان میں اومیکرون ویرینٹ کا کیا اثر ہوگا۔

      وزارت صحت نے ان ریاستوں کو لکھا مکتوب
      اس درمیان، مرکزی وزارت صحت نے ہفتہ کو کرناٹک، کیرل، تمل ناڈو، جموں کشمیر، اوڈیشہ اور میزورم کو خط لکھ کر کوویڈ-19 کے پھیلائو پر کنٹرول کے لئے ’جانچ۔پتہ لگانا، علاج کرنا۔ ویکسین لگانا، کوویڈ کے مناسب رویے اپنانے‘ کی پالیسی کے ضروری قدم اُٹھانے کو کہا ہے۔ کچھ ضلعوں میں انفیکشن کے بڑھتے کیسیز، ہفتہ واری پھیلائو کا تناسب اور ہفتہ واری ہلاکتوں کے بڑھتے کیسیز کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا گیا ہے۔

      نئے اومیکرون ویرینٹ کو دیکھتے ہوئے سبھی ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام ریاستوں کو 27 نومبر کو لکھے مکتوب کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے ہفتہ کو کہا کہ سبھی ریاستوں کو صلاح دی گئی ہے کہ بین الاقوامی مسافروں پر سخت نظر رکھیں، اُبھرتے ہاٹ اسپاٹ کی نگرانی کریں، متاثرہ لوگوں کے رابطے میں آئے لوگوں کا فوری پتہ لگائیں۔ ساتھ ہی سبھی متاثرہ نمونے کو جینوم سیکوئسنگ کے لئے بھیجنے، معاملوں کی فوری پہچان کرنے اور ہیلتھ انفرااسٹرکچر کی تیاریوں کا جائزہ کرنے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔

      کہاں ملا گجرات کا کیس؟
      گجرات کے محکمہ صحت نے بتایا کہ زمبامبوے سے لوٹا گجرات کے جام نگر شہر کا 72 سالہ ایک شخص کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون‘ سے متاثرہ پایا گیا ہے۔ گجرات کے ہیلتھ کمشنر جے پرکاش شیو ہرے نے تصدیق کی ہے کہ جام نگر شہر کا متعلقہ شخص کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون‘ سے متاثرہ پایا گیا ہے۔

      عہدیداروں نے کہا ہے کہ یہ شخص 28 نومبر کو زمبامبوے سے گجرات آیا تھا اور دو دسمبر کو کورونا وائرس سے متاثرہ ملا تھا، جس کے بعد اُس کا سیمپل جینوم سیکوئسنگ کے لئے بھیجا گیا تھا۔ حالانکہ، متاثرہ شخص ویکسین کی دونوں ڈوز لے چکا ہے۔ جام نگر کے میونسپل کمشنر کمار کھراڑی نے کہا تھا کہ سیمپل جینوم سیکوئسنگ کے لئے احمدآباد بھیجا گیا تھا تا کہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ شخص اومیکرون سے متاثر ہے یا نہیں۔

      انہوں نے کہا کہ یہ شخص پچھلے کئی سال سے زمبامبوے میں رہ رہا ہے اور وہ ریاست میں اپنے سسر سے ملنے آیا تھا۔ عہدیدار نے کہا کہ بخار ہونے کے بعد ڈاکٹر نے اُنہیں آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کرانے کی صلاح دی اور پرائیوٹ لیب نے جمعرات کو عہدیداروں کو اس کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع دی۔

      کھراڑی نے کہا کہ اس کے بعد، اس شخص کو گرو گوبند سنگھ سرکاری اسپتال کے آئیسولیٹیڈ وارڈ میں ٹرانسفر کردیا گیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ضلع عہدیداروں نے پروٹوکال کے مطابق اس شخص کے رابطے میں آئے لوگوں کا پتہ لگانا پہلے ہی شروع کردیا ہے۔ مرکز کے مطابق، ’زیادہ خطرے‘ والے ملکوں م یں برٹین سمیت یوروپین کنٹریز اور ساوتھ افریقہ، برازیل، بوتسووانا، چین، ماریشس، نیوزی لینڈ، زمبامبوے، سنگاپور، ہانگ کانگ اور اسرائیل شامل ہے۔

      کیسے سامنے آیا ممبئی کا معاملہ!
      اُدھر ممبئی کے پاس کلیان ڈومبی ولی میونسپل علاقے کا ایک شخص کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون سے متاثرہ پایا گیا۔ مہاراشٹر مین اس ویرینٹ کے پھیلائو کا یہ پہلا کیس ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو دلی میں کہا تھا کہ 33 سالہ یہ شخص 23 نومبر کو ممبئی کے لئے فلائٹ سے پہلے دبئی کے راستے سائوتھ افریقہ دلی ایئرپورٹ پہنچا تھا جہاں اُس نے کوویڈ ٹسٹ کے لئے سیمپل دیا تھا۔

      وہیں، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ابھی آبادی کے ایک بڑے حصے کو پھیلائو کے خلاف بنیادی تحفظ حاصل کرنا ابھی باقی ہے، اس لئے کوویڈ مخالف ویکسین کی بوسٹر ڈوز دینے کے بجائے دونوں ڈوز دینے کو ہی ترجیح دینی چاہیے۔

      کیا مدد کرے گا بوسٹر ڈوز؟
      کورونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ کے سامنے آنے سے پیدا ہوئی تشویش اور ویکسین سے انفیکشن کے تئیں ملی حفاظت میں کمی ہونے سے بوسٹر ڈوز دینے کی ضرورت سمجھی جارہی ہے۔ بہت سے ممال میں بھلے ہی بوسٹر ڈوز دینا پہلے سے شروع کردیا گیا ہو، لیکن کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں چونکہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہم چھ سے آٹھ مہینے پہلے ہی شروع ہوئی تھی، اس لئے یہاں کی ترجیح الگ ہونی چاہیے۔

      ہندوستانی ’سارف۔کوو۔2‘ جینومیکس سیکوئسنگ کنسورٹیم‘ (انساکوگ) نے، خطرے والے علاقوں اور انفیکشن کے زیادہ قریب رہنے والی آبادی کے 40 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین کی بوسٹر ڈوز دینے کی وکالت کی ہے، لیکن ماہرین کی رائے اس سے الگ ہے۔

      نئی دلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف امیونولوجی (NII) کے ستیہ جیت رتھ نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ دنیا میں کسی بھی ٹیکے لئے بوسٹر کی ضرورت ہے یا نہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے کہا، ’حال کے سروے میں قوت مدافعت کی معیاد اور سیکورٹی میں فرق نظر آنے لگا ہے۔ اس لئے میں ان اعدادوشمار کی بنیاد پر بوسٹر ڈوز کے بارے میں جلد بازی میں کوئی یقینی رائے نہیں دے سکتا۔‘

      وائرس کے نئے ویرینٹ ’اومیکرون‘ پر بڑھتی تشویش کے درمیان، پارلیمانی کمیٹی نے کوویڈ مخالف ویکسین کے اثردار ہونے کا جائزہ کییے جانے جب کہ کورونا کے نئے ویرینٹ پر قابو پانے کے لئے بوسٹر ڈوز کی ضرورت کی جانچ کے لئے زیادہ ریسرچ کرنے کی سفارش کی ہے۔ صحت پر پارلیمانی کمیٹی نے جمعہ کو پیش کی اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ’ایمیونواسکیپ‘ نظام تیار کررہے نئے ویرینٹ سے سنجیدگی سے نمٹا جانا چاہیے۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: