ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بچوں میں کورونا انفیکشن کو لے کر نہ ہوں کنفیوز ، ایکسپرٹس نے دیا ہر سوال کا جواب

نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے بچوں میں کورونا سے وابستہ کئی افواہ کو لے کر حقائق پر مبنی جانکاری فراہم کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے علاج کو لے کر کافی انفراسٹرکچر کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ عام طور پر بچوں میں کورونا کی علامتیں نہیں ہوتی ہیں اور انتہائی کم معاملات میں اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔

  • Share this:
بچوں میں کورونا انفیکشن کو لے کر نہ ہوں کنفیوز ، ایکسپرٹس نے دیا ہر سوال کا جواب
بچوں میں کورونا انفیکشن کو لے کر نہ ہوں کنفیوز ، ایکسپرٹس نے دیا ہر سوال کا جواب ۔ پی ٹی آئی ۔ فائل فوٹو ۔

نئی دہلی : کورونا وبا کے ساتھ اس سے وابستہ کئی گمراہ کن خبریں بھی سماج میں کافی پھیل رہی ہیں ۔ اب مرکزی حکومت کی جانب سے اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے بچوں میں کورونا سے وابستہ کئی افواہ کو لے کر حقائق پر مبنی جانکاری فراہم کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے علاج کو لے کر کافی انفراسٹرکچر کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ عام طور پر بچوں میں کورونا کی علامتیں نہیں ہوتی ہیں اور انتہائی کم معاملات میں اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔


وہیں ایمس کے ڈٓائریکٹر رندیپ گلیریا نے جانکاری دی ہے کہ ملک اور دنیا میں ایسا کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے جو بتاتا ہو کہ آنے والی لہروں میں بچوں پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دوسری لہر کے دوران بچے کورونا انفیکشن کے بعد ٹھیک ہوگئے ، جنہیں اسپتال میں بھرتی کرنا پڑا ، انہیں یا تو پہلے کوئی بیماری رہی ہوگی یا پھر امیونٹی کی سطح کم ہوگی ۔


بچوں میں شروع ہوچکا ہے ویکسین کا ٹرائل


کووڈ ورکنگ گروپ کے چیئرپرسن ڈاکٹر این کے چوپڑا نے کہا کہ گزشتہ 24 جون سے بچوں میں کوویکسین کے ٹرائل کی شروعات کی جاچکی ہے ۔ یہ ٹرائل دو سے اٹھارہ سال کے بچوں پر کیا جارہا ہے ۔ اس کے نتائج ستمبر ۔ اکتوبر تک آسکتے ہیں ۔ انہوں نے بھی کہا کہ بچوں میں انفیکشن تو ہوسکتا ہے ، لیکن یہ عام طور پر سنگین نہیں ہوتا ہے ۔

بتادیں کہ وزارت صحت اور ملک کے بڑی اپکسپرٹس کی جانب سے کہا جاچکا ہے کہ کورونا کی اگلی لہروں کیلئے بھی کورونا پروٹوکول پر عمل کرنا ضروری ہوگا ۔ ماسک ، ہاتھ دھونا اور سماجی فاصلہ جیسے ضوابط پر اب بھی کارگر ہیں ۔ ملک میں ڈیلٹا پلس ویریئنٹ کے بڑھتے معاملات کے درمیان تیسری لہر کا اندیشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے ۔ حالانکہ جون میں ملک میں ویکسینیشن کی رفتار میں اچھی خاصی تیزی نظر آئی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 30, 2021 07:32 PM IST