ہوم » نیوز » عالمی منظر

ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر الگ ہوا امریکہ، چین کو لے کر تھا تنازعہ

ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ادارہ مکمل طور پر چین کے کنٹرول میں ہے اور امریکہ اس سے اپنے تعلقات منقطع کر رہا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 08, 2020 10:40 AM IST
  • Share this:
ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر الگ ہوا امریکہ، چین کو لے کر تھا تنازعہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فائل فوٹو

واشنگٹن۔ عالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق باہمی اختلافات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر امریکہ کو اب عالمی ادارہ صحت سے الگ کر لیا ہے۔ امریکی رکن پارلیمنٹ باب مینینڈیز نے منگل کے روز ٹویٹ کرکے یہ اطلاع فراہم کی۔ انہوں نے کہا ’’کانگریس کو صدر دفتر سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ امریکہ کورونا وبا کے دوران باضابطہ طور پر ڈبلیو ایچ او سے الگ ہو گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس وبا کے بیچ ٹرمپ کا فیصلہ امریکہ کو الگ تھلگ کردے گا۔


واضح رہے کہ ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ادارہ مکمل طور پر چین کے کنٹرول میں ہے اور امریکہ اس سے اپنے تعلقات منقطع کر رہا ہے۔  ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او پر کورونا وائرس کی روک تھام کے تعلق سے بھی درست معلومات فراہم نہ نے کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ٹرمپ نے اپریل میں ڈبلیو ایچ او کو فراہم کی جانے والی اپنی مالی امداد پر روک لگا دی تھی اور کہا تھا کہ اگر ادارہ 30 دنوں میں کوئی بہتری نہیں لاتا تو امریکہ ڈبلیو ایچ او کو دی جانے والی مالی امداد پر ہمیشہ کے لئے روک لگا دے گا۔



اس کے بعد مئی میں ٹرمپ نے حالانکہ تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ڈبلیو ایچ او سے الگ ہو رہا ہے اور اس ادارے کو امدادی رقم عالمی صحت کی ضروریات کے لئے فراہم کی جائے گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین ڈبلیو ایچ او کو ایک سال میں 40 ملین ڈالر دینے کے باوجود اپنے کنٹرل میں رکھتا ہے ، جبکہ امریکہ ایک سال میں تقریبا 450 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کرتا ہے۔

ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او پر کورونا وائرس کو پہچاننے میں ناکام ہونے کا الزام بھی عائد کیا تھا اور چین کی حمایت کرنے کے تعلق سے تنقید بھی کی تھی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 08, 2020 10:40 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading