ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس: متحدہ عرب امارات میں خوف کے سائے میں جی رہے ہیں ہندوستانی! جانیں کیوں

متحدہ عرب امارات میں تقریبا 33 لاکھ ہندوستانی مختلف عہدوں پر مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو متحدہ عرب امارات سے ہندوستانیوں کی اچانک اپنے ملک واپسی اپنے آپ میں نئے چیلنجوں کو جنم دے گی۔

  • Share this:
کورونا وائرس: متحدہ عرب امارات میں خوف کے سائے میں جی رہے ہیں ہندوستانی! جانیں کیوں
علامتی تصویر

نئی دہلی۔ جیسے جیسے متحدہ عرب امارات میں کورونا وبا کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے ہی ہندوستانی تارکین وطن کے مابین غیر یقینی صورتحال کا احساس تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ اب جب کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ورک فورس پر "سخت پابندیاں" لگانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اس سے ہندوستانیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جو خلیجی ملک کی کل آبادی کا تقریبا 30 فیصد ہیں۔


نیشنل بینک آف فجیرہ میں کام کرنے والے ایک ملازم نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’میں اس حقیقت کے باوجود اب بھی دفتر جاتا ہوں کہ میرے لئے وہاں کوئی کام نہیں ہے"۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں بینک کی جس شاخ میں کام کر رہا تھا اسے بند کردیا گیا ہے لیکن گھر سے کام کرنے کے بارے میں یا ملازمت سے برخاستگی کے بارے میں ابھی کوئی رسمی بیان موصول نہیں ہوا ہے۔ دبئی میں مقیم بینک کار نے بتایا کہ فی الحال ہمیں اپنی تنخواہیں مل گئی ہیں لیکن ہم مستقل خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ ’’متحدہ عرب امارات کی حکومت ہر ایک کی قومیت سے قطع نظر ان کا بھرپور خیال رکھ رہی ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کی جانچ کی گئی ہے اور یہاں صحت کی سہولیات پریمیم ہیں۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر اس کورونا وائرس کی وجہ سے حالت اسی طرح برقرار رہی تو وہ ہمیں کچھ دنوں کے بعد وطن واپس بھیج دیں گے‘‘۔


اڑتیس سالہ بینک ملازم نے آگے کہا ’میں نے اپنی ایم بی اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک شاندار زندگی گزارنے کا خواب لئے 2011 میں یہاں (متحدہ عرب امارات) چلا آیا تھا۔ میں یہاں پچھلے 9 سالوں سے رہ رہا ہوں اور ایسی صورت حال اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی اور میں نے یہاں اس وقت ملازمت شروع کی تھی جب سال 2008 کی کساد بازاری سے حالات بہتر ہو رہے تھے‘‘۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر


وطن واپس آنے کے خیال پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ہندوستان میں ملازمت کے مواقع محدود ہیں اور ان میں سے بیشتر (بینک) اس سے قریب بھی نہیں دے سکتے ہیں جو میں ان گذشتہ برسوں میں کما رہا ہوں‘‘۔ بہار سے تعلق رکھنے والے بینکار نے مزید کہا ، "گھر واپس آنا اچھی بات نہیں ہے۔ اس وبائی حالت میں گھر واپس جانے کی بجائے بے روزگار رہنا اور یہاں (متحدہ عرب امارات) ٹھہرے رہنا ابھی بھی قابل قبول ہے‘‘۔

اب جب کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے بے روزگار ورک فورس کو واپس ان کے گھر بھیجنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ، نجی کمپنیوں ، خاص طور پر تعمیرات سے متعلق کمپنیوں نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس جانے کے لئے معاوضہ والی چھٹیوں کو ختم کر لیں۔ کچھ معاملات میں کمپنی مالکان نے اپنے کارکنوں سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی ملازمتیں محفوظ رہیں گی لیکن انہیں غیر معینہ مدت کے لئے بلا معاوضہ چھٹی لینا ہوگی اور اپنے آبائی ملک لوٹنا پڑے گا۔

ہندوستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر ڈاکٹر احمد عبدالرحمٰن البنا نے وہاں سے ہندوستانیوں کو نکالنے میں مدد کی پیش کش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف کووڈ۔ 19 کے منفی ٹیسٹ والے افراد کو ہی بھیجا جائے گا۔ دریں اثنا ، اس معاملے میں وزارت خارجہ کی طرف سے ابھی تک کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں تقریبا 33  لاکھ ہندوستانی مختلف عہدوں پر مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو  متحدہ عرب امارات سے ہندوستانیوں کی اچانک اپنے ملک واپسی اپنے آپ میں نئے چیلنجوں کو جنم دے گی۔

 

 
First published: Apr 14, 2020 04:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading