ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

لاک ڈاؤن سے نقل وحمل کا نظام متاثر، ہندوستانی کسان مویشیوں کو شہتوت کھلانے پر مجبور

ہندوستان میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کے گھروں میں قید ہو جانے کی وجہ سے ملک بھر میں ٹرانسپورٹ یعنی نقل وحمل کا نظام بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ ایسے حالات میں کسانوں کو اپنے پھل اور سبزی وغیرہ بازاروں تک پہنچانے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔

  • Agencies
  • Last Updated: Apr 03, 2020 12:37 PM IST
  • Share this:
لاک ڈاؤن سے نقل وحمل کا نظام متاثر، ہندوستانی کسان مویشیوں کو شہتوت کھلانے پر مجبور
ضلع ستارا سے تعلق رکھنے والے انل سلونکھے اپنی گایوں کو شہتوت کھلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہتوت کے اصل خریدار سیاح اور آئس کریم تیار کرنے والے لوگ ہیں۔

نئی دہلی۔ عالمی وبا کوروناوائرس نے دنیا بھر میں قہر برپا کر رکھا ہے۔ کورونا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ہندوستان بھر میں 21 دنوں کا لاک ڈاؤن جاری ہے۔ اس کے تحت ہر کوئی اہنے گھروں میں ہی قید ہو کر رہ گیا ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگوں کے گھروں میں قید ہو جانے کی وجہ سے ملک بھر میں ٹرانسپورٹ یعنی نقل وحمل کا نظام بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ نظام کے متاثر ہونے سے کسانوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ایسے حالات میں کسانوں کو اپنے پھل اور سبزی وغیرہ بازاروں تک پہنچانے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ نتیجتا وہ اپنے مویشیوں کو پھل جیسے شہتوت، انگور اور سبزی جیسے بند گوبھی وغیرہ کھلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔


اس طرح کے پھلوں اور سبزیوں کی مانگ ہندوستان میں موسم گرما میں عام طور پر زیادہ بڑھ جاتی ہے، لیکن چونکہ اس وقت ہندوستان کی زرعی سپلائی کا سلسلہ بدنظمی کا شکار ہے، ایسے میں کسان اپنی پیداوار بازاروں تک پہنچا نہیں پا رہے ہیں۔


رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس صورت حال سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی والے ملک میں لاکھوں کسان زبردست متاثر ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں کورونا کے معاملات دو ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ اس سے گزشتہ بدھ کے روز تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔


ممبئی کے جنوب مشرق سے تقریبا 250 کلومیٹر کی دوری پر واقع ضلع ستارا سے تعلق رکھنے والے انل سلونکھے اپنی گایوں کو شہتوت کھلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہتوت کے اصل خریدار سیاح اور آئس کریم تیار کرنے والے لوگ ہیں۔ انل نے اپنی دو ایکڑ زرعی زمین پر شہتوت اگا رکھے ہیں۔

ٹرانسپورٹ نظام کے متاثر ہونے سے کسانوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔


وہ 800،000 روپئے (10،600 امریکی ڈالر) کمانے کی امید کر رہے تھے ، لیکن اب تقریبا 250،000 روہئے کی لاگت بھی وہ نکال نہیں پا رہے ہیں، کیونکہ بڑے شہروں میں پیداوار کو بھیجنا مشکل ہوچکا ہے۔

اسی طرح، بنگلورو واقع ہندوستان کے آئی ٹی ہب کے قریب رہنے والے کاشتکار منیشامپپا نے 15 ٹن انگور فروخت کرنے میں ناکامی کے بعد اسے قریبی جنگل میں پھینک دیا۔ انہوں نے اس پر 500،000 روپئے خرچ کئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے آس پاس رہنے والے دیہاتیوں سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ یہاں آئیں اور مفت میں انگور جمع کر کے لے جائیں لیکن کچھ ہی لوگ اس کے لئے یہاں آئے۔

ملک میں انگوروں کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ساہیادری فارمس کے ڈائنش اوگل نے کہا ، ہندوستان کے انگور بھی یورپ کو برآمد کیے جاتے ہیں ، لیکن کورونا کے بڑھتے قہر سے گذشتہ چند ہفتوں میں تیزی سے اس کی خریداری میں کمی آئی ہے۔

دریں اثنا مہنگے پھول اگانے والے بھی موجودہ صورت حال کو لے کر بہت زیادہ فکرمند ہیں کیونکہ ایسے حالات میں شادیوں کی منسوخی کی وجہ سے ان کے پھول فروخت نہیں ہو پا رہے ہیں۔

 
First published: Apr 03, 2020 12:35 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading