உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویرینٹ بچوں کیلئے ہے کتنا خطرناک ؟، تحقیق میں ہوا یہ بڑا انکشاف

    کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویرینٹ بچوں کیلئے ہے کتنا خطرناک ؟، تحقیق میں ہوا یہ بڑا انکشاف

    کورونا وائرس کا ڈیلٹا ویرینٹ بچوں کیلئے ہے کتنا خطرناک ؟، تحقیق میں ہوا یہ بڑا انکشاف

    Coronavirus Delta Variant : حال ہی میں امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی ڈیلٹا قسم بچوں میں بالغ افراد جتنی ہی متعدی ہوسکتی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      واشنگٹن : کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور متعدی ثابت ہورہی ہے اور اب بچوں پر بھی اس کے خطرناک اثرات سامنے آرہے ہیں۔ بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق حال ہی میں امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی ڈیلٹا قسم بچوں میں بالغ افراد جتنی ہی متعدی ہوسکتی ہے۔ چلڈرنز ہاسپٹل ایسوسی ایشن اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیا ٹرکس کے ڈیٹا کے مطابق امریکہ میں ڈیلٹا کے پھیلاؤ کے ساتھ بچوں میں کووڈ کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ڈیٹا کے مطابق 22 سے 29 جولائی کے دوران 18 سال سے کم عمر بچوں میں 71 ہزار سے زیادہ کووڈ کیسز رپورٹ ہوئے ، ہر 5 میں سے ایک نیا کیس بچوں یا نوجوانوں کا تھا ۔

      جونز ہوپکنز آل چلڈرنز ہاسپٹل کے ڈاکٹروں اور نرسوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہم مریض بچوں کی نگہداشت میں بہت مصروف رہے ۔ وبا کے آغاز کے بعد سے ہم نے اپنے اسپتال میں کووڈ کیسز کی سب سے زیادہ شرح کو دیکھا۔ تاہم بچوں میں ڈیلٹا سے بیماری کی شدت کے حوالے سے رپورٹس ملی جلی ہیں ۔ امریکی ریاستوں کے ڈیٹا کے مطابق کووڈ سے متاثر بچوں کے اسپتال میں داخلے کی شرح اتنی ہی ہے ، جتنی سابقہ اقسام کے پھیلاؤ کے دوران تھی یعنی 0.1 سے 1.9 فیصد۔

      جونز ہوپکنز آل چلڈرنز ہاسپٹل کی نائب صدر اینجلا گرین نے بتایا کہ اگرچہ مجموعی کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، مگر کووڈ سے اسپتال میں داخلے کی شرح پہلے جیسی ہی ہے ۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیا ٹرکس کے مطابق اس بار بھی ایسا ہی نظر آتا ہے کہ بچوں میں کووڈ 19 سے بیماری کی سنگین شدت زیادہ عام نہیں۔

      ممفس کے لی بون ہیور چلڈرنز ہاسپٹل کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر نک ہاشمٹ کے مطابق ماضی میں عموماً بچوں میں کووڈ کی تشخیص کسی اور طبی مسئلے کے علاج کے دوران ہوتی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بیماری کے علاج کے دوران معمول کے ٹیسٹ سے کووڈ کی بغیر علامات والی بیماری کا انکشاف ہوتا تھا ۔

      انہو ں نے کہاکہ ڈیلٹا سے حالات میں تبدیلی آئی ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران ہم نے بچوں میں کووڈ کو دیکھا اور اسپتال میں داخل کیا ، انہیں نظام تنفس کی علامات اور سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا ۔ ان کے خیال میں ڈیلٹا میں کچھ ایسا ہے جو سابقہ اقسام سے کچھ مختلف ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: