ہوم » نیوز » وطن نامہ

کورونا ویکسی نیشن، غلط فہمیاں اور علما ء و دانشوروں کا کردار

اگر کورونا ویکسین کے تعلق سے بڑھتی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اہم اور نتیجہ خیز کوششیں نہیں کی گئیں تو منظر نامہ مزید خراب ہوسکتا ہے 

  • Share this:
کورونا ویکسی نیشن، غلط فہمیاں اور علما ء و دانشوروں کا کردار
اگر کورونا ویکسین کے تعلق سے بڑھتی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اہم اور نتیجہ خیز کوششیں نہیں کی گئیں تو منظر نامہ مزید خراب ہوسکتا ہے 

پوری دنیا میں بالخصوص ہندوستان میں کورونا سے ہونے والی تباہی نے تشکیک غیر یقینی اور عدم تحفظ کی جو صورت حال پیدا کی ہے اس سے نکلنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور نظر آتا ہے۔ تاہم امید اور یقین ہی انسان کا سہارا بھی ہے۔ کورونا کے سبب ہونے والے اقتصادی نقصانات اپنی جگہ ہیں لیکن جانی نقصانات اور تباہکار یوں کا ازالہ نا ممکن ہے۔ میڈیکل سائنس سے لے کر سیاسی سماجی اور مذہبی بلکہ یوں کہا جائے کہ زندگی کے سبھی محاذوں پر لوگ انسانی جانوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس کے لئے تحقیقات بھی بدستور جاری ہیں تمام احتیاطی تدابیر اپنی جگہ ان تدبیروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم دنیا کے اہم وائرولوجسٹ، ڈاکٹرز اور ماہرینِ کیمیا اس خیال کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس جان لیوا وئرس سے بچنے کا واحد اور موثر علاج صرف اور صرف ویکسین ہے جو پر شخص کے لئے لازمی ہے۔ یہی محفوظ رہنے کے ایک واحد علاج ہے۔


اسے ملک کی بدنصیبی کہا جائے جہالت اور توہم پرستی سے تعبیر کیا جائے ،منفی سیاست کا حربہ قرار دیا جائے یا ارباب حکومت کے رویوں اور کارفرمائیوں کا لا زمی بدل کہ لوگ ویکسی نیشن کو لے کر غلط فہمیوں کا شکار ہو گئے ہیں ۔بلکہ یوں کہا جائے کہ متنفر اور خوف زدہ نظر آتے ہیں۔اس حوالے سے شہروں اور دیہاتوں کے منظر نامے ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں کہا یہ بھی جارہا ہے کہ لوگوں میں بیداری نہ ہونے اور علم کے فقدان کے سبب مضافاتی منظر نامہ افسوس ناک ہی نہیں بلکہ تشویش ناک بھی ہے۔


دیکھا جا رہاہے کہ بہت سے مقامات بالخصوس مضافاتی علاقوں میں ویکسی نیشن کی فراہمی کے لیے پہنچنے والے میڈیکل اسٹاف کو مخالفت اور ناراضگی کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ لوگوں کے غم و غصے کا بھی شکار ہونا پڑا ہےلوگوں کی غلط فہمیاں اور شک و شبہات دور کرنے کے لئے سرکار کی طرف سے بھی کوششیں کی جارہی ہیں اور مذہبی رہنماؤں اور ڈاکٹروں کی جانب دے بھی اعلانات کیے جارہے ہیں مولانا خالد رشید نے اس ضمن میں شرعئی حوالے پیش کرتے ہوئے مہلک وائرس سے نجات کے لئے ویکسی نیشن کو لازمی قرار دیا صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اسلامک سینٹر میں حکومت کی مدد سے باقاعدہ ایک ویکسی نیشن سینٹر بھی قائم کرانے میں تعاون کیا اس پیش رفت کا بنیادی سبب یہی تھا کہ لوگ مذہبی بنیادوں پر ویکسی نیشن سے دور نہ جا سکیں۔



معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نقوی مولانا سیف عباس اور مولانا علی حسین قمی نے بھی ویکسی نیشن لینے کے لئے لوگوں سے درخواستیں کیں ۔ اسی طرح کی درخواستیں ڈاکٹر کوثر عثمان، ڈاکٹر سلمان خالد اورکئی اہم ڈاکٹروں کے ذریعے کی گئیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ کچھ دانشوروں اور صحافیوں نے جس انداز سےاپنے خیالات کا اظہار کیا اس سے محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری سطح پر پہلے لوگوں کو یقین حاصل کرنے ، گاوں دیہات اور مضافات میں بیداری مہمیں چلانے سے صورت حال بہتر ہوسکتی ہے معروف سماجی و ملی رہنما سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں اور بالخصوص بر سر اقتدار جماعت کے رہنماؤں نے گزشتہ چند سال میں لوگوں سے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب لوگوں کو ان کی صحیح بات پر بھی یقین مشکل سے ہوتا ہے۔ عدم لتحفظ کے احساس زندہ انسانوں اور نعشوں کی بے حرمتی ،مسلسل ٹوٹتے وعدوں اور خوابوں کے سبب سرکار پر سے ان کا یقین اٹھ گیاہے اس لئے یہ فضا نظر آتی ہے اس پر ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ویکسین کے تعلق سے حزبِ اختلاف اور کچھ وائرولوجسٹ کے منفی نظریوں سے بھی لوگ خوف کے ساتھ ساتھ خدشوں اور اندیشوں میں مبتلا ہوئے ہیں مشترکہ اور مثبت کوششوں سے ہی یہ منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 27, 2021 04:42 PM IST