உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا ویکیسن لگوانے کیلئے کسی کو مجبور تو نہیں کیا جارہا؟ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کیا سوال

    کورٹ نے صاف کہا ہے کہ کسی کو جبرا وکیسن نہ لگوائی جائے یا ویکسین نہ لگوانے کی وجہ سے کسی کی نوکری نہ چھینی جائے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ ویکسین کے اثر پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نوٹس جاری کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ویکسین پر کوئی شک ہے۔

    کورٹ نے صاف کہا ہے کہ کسی کو جبرا وکیسن نہ لگوائی جائے یا ویکسین نہ لگوانے کی وجہ سے کسی کی نوکری نہ چھینی جائے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ ویکسین کے اثر پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نوٹس جاری کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ویکسین پر کوئی شک ہے۔

    کورٹ نے صاف کہا ہے کہ کسی کو جبرا وکیسن نہ لگوائی جائے یا ویکسین نہ لگوانے کی وجہ سے کسی کی نوکری نہ چھینی جائے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ ویکسین کے اثر پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نوٹس جاری کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ویکسین پر کوئی شک ہے۔

    • Share this:
      کورونا ویکسین کیلئے کلینیکل ٹرائل کے ڈیٹا کو عوامی طور پر لانے کی مانگ پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی کورٹ نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا کسی کو ویکسین لینے کیلئے مجبور بھی کیا جا رہا ہے۔ کورٹ نے صاف کہا ہے کہ کسی کو جبرا وکیسن نہ لگوائی جائے یا ویکسین نہ لگوانے کی وجہ سے کسی کی نوکری نہ چھینی جائے۔ اس مسئلے پر اب اگلی سماعت چار ہفتوں کے بعد ہوگی۔
      مفاد عامہ کی درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ میں دو مطالبات کیے گئے تھے۔ پہلا یہ کہ کورونا ویکسین کے کلینیکل ٹرائل کا ڈیٹا پبلک کیا جائے۔ دوسرا  اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی کو بھی کورونا ویکسین لینے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ان دونوں سوالات پر مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنا ہوگا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ ویکسین کے اثر پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نوٹس جاری کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ویکسین پر کوئی شک ہے۔
      بتادیں کہ کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دینے سے پہلے اس کا کلینیکل ٹرائل کیا گیا تھا۔ یعنی پہلے جانوروں پر اور پھر انسانوں پر جانچ کرکے دیکھا گیا کہ کورونا ویکسین کتنی موثر ہے۔ اس کے کوئی ضمنی اثرات تو نہیں ہیں۔ اس سے انسانوں کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچے گا۔
      کلینیکل ٹرائلز سے متعلق معلومات۔
      مفاد عامہ کی درخواست میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس ڈیٹا کو پبلک کیا جائے۔ بتایا جائے کہ کتنے لوگوں پر ویکسین کا تجربہ کیا گیا ہے اور اس کے نتائج کیا ہیں۔ کیا یہ مکمل طور پر محفوظ ہے یا نہیں؟ درخواست گزار کا موقف ہے کہ جب تک تمام چیزیں منظر عام پر نہیں لائی جاتیں  لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات باقی رہیں گے۔
      حکومت اپنا موقف رکھے
      سپریم کورٹ نے اس پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صورتحال ایسی ہے کہ اس میں زیادہ سوالات نہیں اٹھائے جا سکتے۔ آج بھی لوگ کورونا سے مر رہے ہیں۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ویکسین ہی کورونا سے لڑنے کا واحد ہتھیار ہے۔ پھر بھی ، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنا موقف رکھے۔
      کیا ویکسین لینے کیلئے لوگوں کو کیا جا رہا ہے مجبور؟ 
      جسٹس ایل ناگیشور راؤ نے کہا کہ معاملہ اب بھی انتہائی نازک صورتحال میں ہے ، پھر بھی حکومت کو اپنا موقف پیش کرنے دیں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے کورونا ویکسین کو کسی کے لیے بھی ضروری نہیں بنایا ہے۔ یہ رضاکارانہ ہے۔ اس کے بعد بھی لوگوں کو کئی جگہوں پر ویکسین لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو ویکسین لینے پر مجبور کر رہی ہیں۔ بہت سی جگہوں پر ، کچھ سرکاری سہولت یا سروس لینے کے لیے ویکسین کو بھی ضروری بنایا جا رہا ہے۔ یہ غیر قانونی ہے۔

      ویکسین کی وجہ سے کسی کی نوکری نہ جائے
      سپریم کورٹ نے اس پر یہ بھی کہا کہ اگر ایک شخص بھی ویکسین نہیں لیتا تو وہ دوسروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ویکسین کسی کو زبردستی نہیں دی جائے یا ویکسین کی وجہ سے کسی کی نوکری نہ چلی جائے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے چار ہفتوں میں ان سوالات کے جواب مانگے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: