ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

لاک ڈاؤن میں 1400 کلو میٹر اسکوٹی چلاکر پھنسے بیٹے کو گھر واپس لانے کا ایک ماں کا سفر: جانیں یہاں

رضیہ بیگم نے بتایا "ایک چھوٹی سی دو پہیا والی گاڑی پر چلنے والی عورت کے لئے یہ مشکل سفر تھا۔ لیکن میرے بیٹے کو واپس لانے کے ارادے نے میرے تمام ڈر پر پردہ ڈال دیا تھا۔ میں نے روٹیوں کو پیک کیا اور اپنے بیٹے کو لینے کے لیے سفر پر نکل پڑی"

  • Share this:
لاک ڈاؤن میں 1400 کلو میٹر اسکوٹی چلاکر پھنسے بیٹے کو گھر واپس لانے کا ایک ماں کا سفر: جانیں یہاں
رضیہ بیگم نے بتایا "ایک چھوٹی سی دو پہیا والی گاڑی پر چلنے والی عورت کے لئے یہ مشکل سفر تھا۔ لیکن میرے بیٹے کو واپس لانے کے ارادے نے میرے تمام ڈر پر پردہ ڈال دیا تھا۔ میں نے روٹیوں کو پیک کیا اور اپنے بیٹے کو لینے کے لیے سفر پر نکل پڑی"

ملک اور دنیا بھر میں کوروناوائرس  (Coronavirus) کے معاملے مسلسل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ ملک میں متاثر لوگوں کی تعداد ہزار کے قریب جا پہنچی ہے۔ اب تک 169 لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ پیر ملک میں وائرس کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن  (Lockdown) لگایاگیا ہے جسے 15 اپریل کے بعد بڑھانے پر غوروخوض کیا جارہا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے چلتے کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو لوگ اپنے گھر تک نہیں پہنچ سکے اور جہاں رہ رہے تھے وہیں پھنسے رہ گئے۔ ایسا ہی معاملہ تلنگانہ  (Telangana) میں سامنے آیا ایک ماں لاک ڈاؤن کے دوران تقریبا 1400 کلومیٹر اسکوٹی چلاکر اپنے بیٹے کو دوسری ریاست سے واپس گھر لیکر آئی۔


1400 کلو میٹر کا کیا سفر

تلنگانہ کے نظام آباد(Nizamabad) ضلع کے بودھا ٹاؤن کی رہنےوالی رضیہ بیگم آندھرا پردیش (Andhra Pradesh)کے نیلور(Nellore) ضلع کے رحمت آباد میں پھنسے بیٹے کو گھر واپس لانے کے لئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے درمیان 700 کلو میٹر دور گئیں اور پھر تین دن میں ایک اسکوٹر پر تقریبا 1400 کلومیٹر سفر طے کرکے بیٹے کو بدھ کی شام گھر واپس لیکر آئیں۔۔

رضیہ بیگم (48) مقامی پولیس کی اجازت سے پیر کی صبح اپنے بیٹے کو لینے کے لئے روانہ ہوئیں۔ وہ نیلور جاکر تقریبا 1400 کلو میٹر کا سفر طے کرکے اپنے بیٹے کوساتھ گھر واپس لائیں۔




رضیہ نے بتایا کتنا مشکل تھا سفر، لیکن بیٹے کیلئے پیار نے ڈال دیا ڈر پر پردہ۔۔
رضیہ بیگم نے بتایا "ایک چھوٹی سی دو پہیا والی گاڑی پر چلنے والی عورت کے لئے یہ مشکل سفر تھا۔ لیکن میرے بیٹے کو واپس لانے کے ارادے نے میرے تمام ڈر پر پردہ ڈال دیا تھا۔ میں نے روٹیوں کو پیک کیا اور اپنے بیٹے کو لینے کے لیے سفر پر نکل پڑی"۔ رضیہ بیگم حیدرآباد سے تقریبا 200 کلومیٹر دور نظام آباد کے ایک سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں۔
واضح رہےکہ ان کا بیٹا نظام الدین اپنے دوست کو چھوڑنے کے لئے 12 مارچ کو نیلور کے رحمت آباد گیا تھا اس کو کچھ دن وہاں رک کر واپس آنا تھا اور اس دوران کورونا وائرس پھیلنے کے سبب لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا اور نظام الدین واپس نہیں آسکا اور وہ وہاں پھنس گیا۔

رضیہ نے اپنے دوسرے بیٹے کو اس ڈر سے نہیں بھیجا اور خود جانے کا کیا فیصلہ
رضیہ اپنے بیٹے کو واپس لانے کے لئے بیتاب تھیں انہوں نے اپنے بڑے بیٹے کو نہ بھیج کر خود جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کو ڈر تھا کہ پولیس ان کے بڑے بیٹے کو بھی گرفتار نہ کرلے۔
رضیہ نے پہلے گاڑی سے جانے کا سوچا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اسکوٹی سے ہی جانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے اپنے کھانے کیلئے کچھ روٹیاں باندھی اور 6 اپریل کی صبح اپنے بیٹے کو لینے کے لئے نیلور کی جانب روانہ ہوگئیں۔ وہ اگلے دن بیلور پہنچی اور اسی دن اپنے بیٹے کو وہاں سے لے کر واپس اپنے گھر لوٹیں۔
First published: Apr 10, 2020 10:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading