ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ناندیڑ میں لگے دس روزہ لاک ڈاؤن سے ہزاروں مزدور بے روزگاری کا شکار ہوکر اپنے گھروں پر کی طرف لوٹنے پر مجبور

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام بند پڑ گئے جس کی وجہ سے ہزاروں مزدور بے روزگار ی کا شکار ہوگئے ہیں۔

  • Share this:
ناندیڑ میں لگے دس روزہ لاک ڈاؤن سے ہزاروں مزدور بے روزگاری کا شکار ہوکر اپنے گھروں پر کی طرف لوٹنے پر مجبور
لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام بند پڑ گئے جس کی وجہ سے ہزاروں مزدور بے روزگار ی کا شکار ہوگئے ہیں۔

ناندیڑ: کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات پر قابو پانے کیلئے ناندیڑ میں ضلع انتظامیہ نے دس دن کیلئے مکمل لاک ڈاؤن لگادیا ہے۔اچانک اس طرح سے لاک ڈاؤن لگنے سے سب سے زیادہ مزدور طبقہ کو متاثر ہوناپڑرہاہے۔ میں بھی وہ مزدور جو روزگار کی تلاش میں اتر پردیش اور بہار اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں سے ناندیڑ آ کر کام کررہے تھے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام بند پڑ گئے جس کی وجہ سے ہزاروں مزدور بے روزگار ی کا شکار ہوگئے ہیں۔حالانکہ انتظامیہ نے صرف دن کا مکمل لا ک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن مزدوروں کو اس بات پر یقین نہیں آرہاہے چونکہ پچھلے سال بھی پہلی مرتبہ ایسے ہی صرف دو ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن کی بات کی گئی تھی لیکن اس کو بڑھاتے بڑھاتے ہوئے تین مہینوں تک سارے معاملات روک دئے تھے۔اس باربھی مزدوروں کو یہی ڈر ستارہاہے کہ کہیں یہ لاک ڈاؤن طول نہ پکڑلے اور واپسی کے سارے راستہ ہی بند نہ ہوجائے اس لئے جب تک ٹرینیں چل رہی ہے اس کے ذریعہ اپنے اپنے گاؤں کی طرف لوٹنے میں ہی عافیت سمجھ رہے ہیں۔


گزشتہ سال جب واپسی کیلئے نہ ٹرینیں مل رہی تھی اور نہ بس جس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں مزدور پیدل ہی اپنے اپنے گاؤں کی طرف نکل پڑے تھے۔ناندیڑ کے ریلوے اسٹیشن پر مزدوروں کو اسی طرح اپنے اپنے گھروں کی طرف واپسی کی تیاریوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔جب سے لاک ڈاؤن کے حالات بنے ہیں ٹرینوں کی تعداد بھی بہت کم ہوگئی ہے۔ اس لئے مزدوروں کو اپنے گاؤں جانے والی ٹرینوں کے لئے اسٹیشن پر ہی رک کر انتظار کرنا پڑرہاہے۔ یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ مہاراشٹر میں بڑھتے ہوئے کورونا کے معاملات کو دیکھتے ہوئے ریل محکمہ نے چند ٹرینوں کو بھی منسوخ کردیاہے جبکہ ان حالات میں مزدروں کی سہولت کیلئے خصوصی ٹرینیں بھی چلانے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔




لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہر میں سبھی ہوٹلیں اور کیانٹین بھی بند ہوچکے اس لئے ٹرینوں کے انتظار میں اسٹیشن پر ٹھہرے ہوئے مزدوروں کیلئے کھانے پینے کی اشیا حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیاہے۔ ان لوگوں کی واپسی کا یہ سفر دو سے تین دنوں پر مشتمل ہے اور کھانے پینے کا انتظام بہت محدود پیمانے پریہ لوگ کرپائے اسلئے راستہ میں جو کچھ ملے گا بس اسی پر ان لوگوں نے انحصار کرلیا ہے۔



لاک ڈاؤن کے فیصلہ سے مزدور بہت نارا ض ہے۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم لوگوں کے کام بند پڑ جاتے ہیں۔اس بارے میں سرکار کو چوچنا چاہئے۔جو لوگ بے روزگار ہوئے ہیں ان کے کھانے پینے کا کوئی نظم نہیں کیا جارہاہے جس کی وجہ سے مجبوراً ہمیں اپنے گھر لوٹنا پڑرہاہے۔لاک ڈاؤن ہٹنے کے انتظار میں اگر یہی رکے رہے تھے تو کورونا سے پہلے بھوک سے ہی ہماری موت ہوجائے گی۔وہیں دوسری طرف انتظامیہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ ناندیڑ ضلع ملک کے ان دس اضلاع میں شامل ہوگیاہے جہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوتاجارہاہے۔روزانہ ایک ہزار سے زائد افرادکی کورونا جانچ رپورٹ مثبت آرہی ہے۔ایسے میں اگر کورونا کی پھیلتی چین کو روکنا ہے تو لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی موثر ذریعہ نہیں ہے۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے رابطہ میں نہیں آئے گے اور کورونا کی پھیلتی ہوئی زنجیر ٹوٹ جائے گی۔جیسے ہی کورونا متاثرین کی تعداد میں کمی آنے لگے گی لاک ڈاؤن کو بھی ختم کردیا جائے گا۔فی الحال لوگوں کی زندگیاں بچانا ہے اہم ہے۔روزگار کو بچانے کی فکر میں اگر بیماری بے قابو ہوجائے گی تو لوگوں کی جانیں بچانا مشکل ہوجائے گا۔اسلئے لاک ڈاؤن کا راستہ اپنایا گیاہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 26, 2021 05:06 PM IST