ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اہم خبر: فروری تک ہندستان کی آدھی آبادی ہو سکتی ہے کورونا وائرس سے متاثر، سرکاری پینل

Coronavirus in India: موجودہ پھیلاؤ کے بارے میں کمیٹی کا اندازہ مرکزی حکومت کے سیرولوجیکل سروے (central government's serological surveys) سے کہیں زیادہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ستمبر تک صرف 14 فیصد آبادی متاثر تھی۔

  • Share this:
اہم خبر: فروری تک ہندستان کی آدھی آبادی ہو سکتی ہے کورونا وائرس سے متاثر، سرکاری پینل
فروری تک 50 فیصد آبادی کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتی ہے۔

ہندستان کے 1.3 ارب لوگوں میں سے کم سے کم آدھے لوگوں کو آئندہ فروری تک کورونا وائرس (Covid-19 pandemic)  سے متاثرہ ہونے کے امکان ہیں۔ اس سے متعلق اندازوں کی جانکاری دینے کیلئے بنائی گئی ایک مرکزی حکومت کمیٹی (Central Government Committee)  کے ایک رکن نے پیر کو کہا کہ اس سے بیماری کے پھیلنے کی رفتار کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔  ہندستان میں اب تک کورونا وائرس کے 75 لاکھ سے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ ہندستان کورونا وائرس سے متاثر معاملوں میں ریاستہائے متحدہ امریکہ (United States of America) کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

رائٹرس ٹیلی کے مطابق ستمبر کے وسط میں پیک کے بعد کووڈ-19  (Covid-19 Infection) کم ہو رہا ہے۔ ہر دن اوسط 61,390  نئے معاملے سامنے آرہے ہیں۔ کانپور میں ہندستانی انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی ( Indian Institute of Technology)  کے پروفیسر اور کمیٹی کے ممبر منیندر اگروال (Manindra Agrawal) نے کہا "ہمارے ریاضی کے ماڈل (mathematical model) کا اندازہ ہے کہ فی الحال تقریبا 30 فیصد آبادی متاثر ہے اور فروری تک یہ 50 فیصد تک جاسکتی ہے۔

اس وائرس کے موجودہ پھیلاؤ کے بارے میں کمیٹی کا اندازہ مرکزی حکومت کے سیرولوجیکل سروے (central government's serological surveys) سے کہیں زیادہ ہے  جس سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ ستمبر تک صرف 14 فیصد آبادی  متاثر تھی  لیکن  منیندر اگروال (Manindra Agrawal) نے کہا کہ سیرولوجیکل سروے شاید اس بات کا نمونہ نہیں لے سکتے کہ وہ جس آبادی کا سروے کررہے تھے اس کے سائز (size ) کی وجہ سے یہ سیمپل مکمل نہیں ہے۔

سیرولوجیکل سروے (serological surveys) سروے کے مطابق 14  فیصد آبادی تھی متاثر

اس کے بجائے ، وائیرو لوجسٹ (virologists)، سائنسدانوں (scientists)  اور دیگر ماہرین کی کمیٹی جن کی رپورٹ اتوار کو پبلک کی گئی تھی، نے ریاضی ماڈل ( mathematical model) پر بھروسہ کیا ہے۔

منیندر اگروال (Manindra Agrawal) نے کہا "ہم نے ایک نیا ماڈل تیار کیا ہے جو واضح طور پر غیر تصدیق شدہ معاملوں کو دھیان میں رکھتا ہے  لہذا ہم متاثر لوگوں کو دو کیٹگریز (Categories) میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کئے گئے معاملے اور وہ  معاملے جو رپورٹ نہیں کئے گئے۔ "
احتیاط نہیں برتی تو تیزی سے بڑھ سکتے ہیں معاملے
کمیٹی نے انتباہ دیا ہے کہ اگر احتیاط نہیں برتی گئی اور اگر ایک مہینے میں سماجی دوری ، ماسک پہننے جیسی چیزوں کے استعمال کو نظر انداز کر دیا گیا تو ان کے اندازے کے مطابق ایک ماہ میں وائرس کے کل معاملے 26  لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں۔
ماہرین نے انتباہ دیا  ہے کہ اس مہینے اور نومبر کے وسط میں بالترتیب درگا پوجا اور دیوالی جیسے تہواروں کے ساتھ منانے ، ہندوستان میں چھٹی کے موسم کے طور پر منتقلی کے سبب  وائرس  بڑھ سکتا ہے۔

ہندوستان میں کورونا وائرس (Coronavirus in India) کے نئے معاملات اور تازہ اموات میں گزشتہ کچھ دنوں سے کمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ اس درمیان حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی سائنسدانوں کی ایک کمیٹی نے اتوار کو ملک میں کورونا 19 کو لے کر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ کمیٹی کا اندازہ ہے کہ ہندوستان میں اب کورونا وائرس کا پیک گزر چکا ہے ۔ حالانکہ اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے کہا کہ ملک میں اس وبا کی دوسری لہر کے اندیشہ کو خارج نہیں کیا جاسکتا ہے اور اس وجہ سے فروری 2021 میں ہندوستان میں کورونا کے کیسز 1.06  کروڑ سے زیادہ ہونے کا امکان ہے ۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسے میں ملک میں کورونا وائرس کے خلاف بچاو والے ضروری اقدامات ایسے ہی جاری رہنے چاہئیں ۔

 
Published by: sana Naeem
First published: Oct 20, 2020 12:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading