ہوم » نیوز » وطن نامہ

نئی پریشانی ! کورونا وائرس سے ٹھیک ہوچکے مریضوں کی یاد داشت ہورہی ہے کمزور

پوسٹ کووڈ کلینک میں علاج کرانے کیلئے آئے کورونا سے ٹھیک ہوچکے 250 افراد میں سے 80 میں دماغی پریشانی دیکھنے کو ملی ۔ ان میں سے 20 فیصد لوگوں کو اس بات کی شکایت تھی کہ ان کی یاد داشت کمزور ہوگئی ہے ۔

  • Share this:
نئی پریشانی ! کورونا وائرس سے ٹھیک ہوچکے مریضوں کی یاد داشت ہورہی ہے کمزور
نئی پریشانی ! کورونا وائرس سے ٹھیک ہوچکے مریضوں کی یاد داشت ہورہی ہے کمزور ۔ تصویر : پی ٹی آئی ۔

کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کو لے کر ایک نئی تشویشناک خبر سامنے آئی ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق کورونا سے ٹھیک ہوکر گھر جانے والے مریضوں میں یاد داشت کمزور ہونے کی پریشانی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کو ۔۔۔۔۔ کہا جاسکتا ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق جس مریض میں کورونا وائرس کی علامات جتنی زیادہ ہوتی ہیں ، ٹھیک ہونے کے بعد بھی اتنی ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔


کورونا مریضوں کو پیش آرہی اس پریشانی کو دیکھتے ہوئے راجیو گاندھی سپر اسپیشلیٹی اسپتال کے ڈاکٹر اجیت جین نے بتایا کہ کورونا کی جنگ جیت چکے مریضوں میں کئی طرح کی پریشانیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔ ڈاکٹر جین نے بتایا کہ پوسٹ کووڈ کلینک میں علاج کرانے کیلئے آئے کورونا سے ٹھیک ہوچکے 250 افراد میں سے 80 میں دماغی پریشانی دیکھنے کو ملی ۔ ان میں سے 20 فیصد لوگوں کو اس بات کی شکایت تھی کہ ان کی یاد داشت کمزور ہوگئی ہے ۔


کورونا کی جنگ جیت چکے مریضوں میں کئی طرح کی پریشانیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔
کورونا کی جنگ جیت چکے مریضوں میں کئی طرح کی پریشانیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔


ڈاکٹر جین نے بتایا کہ وائرس کا حملہ کئی مرتبہ نسوں پر ہوتا ہے اور ان میں لقوہ ہوجاتا ہے ، جس کا اثر کئی مرتبہ دماغ پر بھی پڑتا ہے اور مریض میں بھولنے جیسی پریشانی پیدا ہونے لگتی ہے ۔ ڈاکٹر جین نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے جن کے دماغ میں سوجن کی سنگین پریشانی تھی ، ان میں یاد داشت کمزور ہونے کی شکایت زیادہ دیکھی گئی ۔ اسی طرح کورونا سے ٹھیک ہونے والے 70 فیصد لوگوں میں کمزوری ، تھکاوٹ اور چکر آنا ایک بڑی پریشانی تھی ۔

ڈاکٹروں کے مطابق کمزوری ، تھکاوٹ اور چکر آنے کی پریشانی عام بات ہے ۔ جب جسم میں دوسرا وائرس حملہ کرتا ہے تب بھی اس طرح کی شکایت مریضوں میں دیکھنے میں ملتی ہے ۔ اپولو اسپتال کے ڈاکٹر یش گلاٹی نے کہا کہ وائرس سے لڑنے کیلئے جسم میں بنے اینٹی جن ، امیون سسٹم میں اس طرح کی تبدیلی کردیتے ہیں ، جس سے امیون سسٹم زیادہ رد عمل ظاہر کرنے لگتا ہے اور اس وجہ سے مریض کو ٹھیک ہونے کے بعد بھی بخار ، بدن درد اور دیگر پریشانیاں ہونے لگتی ہیں ، جو کچھ دن بعد اپنے آپ ٹھیک ہوجاتی ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 28, 2020 07:36 AM IST