ہوم » نیوز » وطن نامہ

ویکسین کی دونوں خوراک کے درمیان وقف نقصان دہ نہیں بلکہ فائدے مند ہوا ثابت: تحقیق

ویکسین Covid 19 Vaccination کی دوسری خوراک لینے میں تاخیر نہ صرف خوراک کی موجودہ فراہمی کو زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کی اجازت دیتی ہے بلکہ پہلی ویکسین خوراک میں دوسری خوراک دینے میں زیادہ وقت کا وقفہ حفاظتی قوت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

  • Share this:
ویکسین کی دونوں خوراک کے درمیان وقف نقصان دہ نہیں بلکہ فائدے مند ہوا ثابت: تحقیق
نئی تحقیق بتاتی ہے کہ جب دوسری ویکسین دیر سے لگائی جاتی ہے تو وائرس سے لڑنے کے لئے تیار ہونے والی اینٹی باڈیز 20٪ سے 300٪ زیادہ ہوتی ہیں۔

نئی دہلی. شاٹس کی محدود فراہمی اورٹیکہ کاری (Vaccination) کی منتظر بڑی آبادی کا سامنا کرنے کے بعد مزید ممالک ابتدائی طور پر متنازعہ حکمت عملی کا رخ کررہے ہیں۔ جو کہ پہلی اور دوسری ویکسین ڈوز (Vaccine Doses) ​​کے درمیان وقفہ کو دوگنا یا تین گنا کرنا ہے۔ سائنسدانوں نے بھی اب اس کی تصدیق کردی ہے۔


ویکسین Covid 19 Vaccination کی دوسری خوراک لینے میں تاخیر نہ صرف خوراک کی موجودہ فراہمی کو زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے کی اجازت دیتی ہے بلکہ پہلی ویکسین خوراک میں دوسری خوراک دینے میں زیادہ وقت کا وقفہ حفاظتی قوت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ جب دوسری ویکسین دیر سے لگائی جاتی ہے تو وائرس سے لڑنے کے لئے تیار ہونے والی اینٹی باڈیز 20٪ سے 300٪ زیادہ ہوتی ہیں۔


سنگاپور کیلئے اچھی خبر بنی یہ تحقیق

سنگاپور جیسی جگہوں کے لئے یہ خوش آئند خبر ہے۔ سنگاپور میں اب ویکسین کی درمیان مدت کو پہلے تین ہفتوں سے چار ہفتے کو اب چھی سے ّٹھ ہفتے کر دیا ہے۔ اس کا مقصد اگست تک پوری اٹھارہ سے اوپر عمر کی آبادی کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دینا ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان بھی کورونا وباء کا خوفناک سامنا کر رہا ہے ، ویکسین کی پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان وقفہ کو 12 سے 16 ہفتوں تک کر دیا گیا ہے۔

2020 میں جب تک ویکسینیشن شروع ہوئی ، اس وقت تک خوراک میں طویل وقت کے وقفے کی یقین دہانی کے لئے کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد ممالک نے سب سے زیادہ خطرے والی آبادی کوویکسین کی خوراک دینی شروع کی اور ان کی دوسری خوراک کے انتظار کو لیکر گارنٹی دی۔ برطانیہ نے سب سے پہلے ان رکاوٹوں کو 2020 کے آخر میں ایک بڑے پیمانے پر پھیلنے کے دوران ختم کیا - ایک ایسا اقدام جس کی شرعات میں تنقید کی گئی تھی لیکن اب یہ ثابت ہوچکا ہے۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پہلا شاٹ مدافعتی نظام کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے اس وائرس کے خلاف حفاظتی اینٹی باڈیز بننا شروع کردیتا ہے۔ اس ردعمل کو جتنا لمبا پختہ ہونے دیا جاتا ہے ، دوسرے بوسٹر شاٹ کا رد عمل اتنا ہی بہتر ہوتا ہے جو ہفتوں یا مہینوں بعد آتا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 22, 2021 06:54 AM IST