ہوم » نیوز » وطن نامہ

کوروناوائرس کے خلاف ہرڈ امیونٹی کی جانب گامزن دہلی ، نئے سروے میں ہوا یہ بڑا انکشاف

دہلی حکومت کی جانب سے حال ہی میں کرائے گئے سروے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ راجدھانی کے 29.1 فیصد لوگوں میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈیز پائی گئی ہیں ، جس کا سیدھا مطلب ہے کہ دہلی کی تقریبا دو کروڑ سے زائد آبادی میں 59 لاکھ افراد کورونا سے ٹھیک ہوچکے ہیں ۔

  • Share this:
کوروناوائرس کے خلاف ہرڈ امیونٹی کی جانب گامزن دہلی ، نئے سروے میں ہوا یہ بڑا انکشاف
کروناوائرس کے خلاف برڈ امیونٹی کی جانب گامزن دہلی ، نئے سروے میں ہوا یہ بڑا انکشاف

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں راجدھانی دہلی سے تھوڑی راحت بھری خبر سامنے آئی ہے کہ کورونا کے خلاف ویکسین کے انتظار کے درمیان دہلی حکومت کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ دہلی ہرڈ امیونٹی کی جانب گامزن ہے اور تقریبا آدھا راستہ طے کرچکی ہے ۔ دہلی حکومت کی جانب سے حال ہی میں کرائے گئے سروے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ راجدھانی کے 29.1 فیصد لوگوں میں کورونا کے خلاف اینٹی باڈیز پائی گئی ہیں ، جس کا سیدھا مطلب ہے کہ دہلی کی تقریبا دو کروڑ سے زائد آبادی میں 59 لاکھ افراد کورونا سے ٹھیک ہوچکے ہیں ۔


دراصل مولانا آزاد میڈیکل کالج کے اشتراک سے  کورونا کے 11 اضلاع میں ہوئے دوسرے سیرو سروے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دہلی میں تقریبا 29.1 فیصد افراد میں اینٹی بائیوٹکس پائی گئی ، جبکہ پہلے سروے میں تقریبا 22 فیصد افراد میں اینٹی بائیوٹکس پائی گئی تھی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دہلی میں 29.1 فیصد ، یا تقریبا 59 لاکھ افراد کورونا سے انفیکشن ہوکر ٹھیک ہوچکے ہیں ، لیکن پھر بھی 70 فیصد سے زیادہ لوگوں میں کورونا انفیکشن کا خطرہ ہے ۔ سروے میں 18 سال سے کم عمر کے 25 فیصد ، 18 سے 50 کے درمیان 50 اور 50 سال سے اوپر والوں میں سے 25 فیصد شامل تھے ۔ اینٹی باڈیز تقریبا 28.3 فیصد مردوں اور 32.2 فیصد خواتین میں پائی گئی ہیں ۔ یہ سروے اگلے ماہ کی تاریخ سے دوبارہ شروع کیا جائے گا ۔


دہلی کے وزیر صحت سیندر جین نے پریس کانفرنس کرکے اعداد و شمار اور سروے رپورٹ جاری کی ۔ یکم اگست سے 7 اگست کے درمیان یہ سروے ہوا ہے ۔ حالانکہ پہلے سیرولوجیکل سروے میں 22 فیصد لوگوں میں اینٹی باڈیز پائی گئی تھیں ۔ اینٹی باڈیز کے معنی یہ ہیں کہ اب یہ لوگ کورونا انفکشن ہو کر ٹھیک ہو گئے ہیں۔ اس بار دہلی کے 29.1 فیصد افراد میں سیرولوجیکل سروے میں اینٹی بائیوٹکس پایا گیا ہے ۔ اگر دہلی کی آبادی 2 کروڑ ہے تو اس کے مطابق تقریبا 59 لاکھ افراد میں اینٹی بائیوٹکس ہیں اور وہ کورونا سے متاثر ہوکر ٹھیک ہوگئے ہیں ۔


سروے کاسیمپل سائز اور طریق کار

سروے میں ہر عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا اور عمر کے لحاظ سے چار گروپ بنائے گئے ۔ 18سے کم عمر کے 25 فیصد افراد کو لیا گیا ۔ 18 سے 50 سال تک کی عمر کے 50 فیصد اور 50 سال سے اوپر عمر کے 25 فیصد افراد کو لیا گیا ۔ کل 15000 نمونے لئے گئے تھے ۔ اس میں خواتین اور مردوں کی اوسط کو بھی مدنظر رکھا گیا ۔ 18 سال سے کم عمر افراد میں سب سے زیادہ 34.7 فیصد اینٹی باڈیز پائی گئیں ۔ جبکہ 18 اور 50 سال کے درمیان لوگوں میں 28.5 فیصد اور 50 سال سے اوپر والوں میں 31.2 فیصد اینٹی باڈیز پائی گئیں ہیں ۔ اس سروے میں کچی آبادی کی کالونیوں ، مڈل کلاس اور اعلی متوسط طبقہ بھی شامل ہے ۔ شمال مشرقی ضلع میں سب سے کم اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ پہلے سروے میں 27.7 فیصد اینٹی باڈیز پائی گئی تھیں اور اس بار 6.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ پہلے جہاں زیادہ انفیکشن تھا ، وہاں پر شرح کم ہوگئی ۔ جنوب مشرقی ضلع میں سب سے زیادہ 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے ۔

گزشتہ اورموجودہ سروے کا موازنہ

گزشتہ سروے کی رپورٹ جولائی میں جاری کی گئی تھی ۔ اس سروے میں 21000 سیمپل لئے گئے تھے ۔ حالانکہ موجودہ سروے میں صرف 15000 نمونوں کو ہی شامل کیا گیا ہے ۔ گزشتہ سروے میں دہلی کے 20 فیصد لوگوں میں اینٹی باڈیز پائی گئی تھیں ۔ تاہم اب یہ شرح بڑھ کر 29.1 ہوچکی ہے ۔ راجدھانی کے علاقوں میں تناسب کی بات کریں ، تو شمال مشرقی دہلی میں پہلے سروے میں 27.7 کی شرح سے اینٹی باڈیز پائی گئی تھیں ۔ تاہم اب یہ بڑھ کر 29.6 ہوگئی ہیں ۔ 6 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ جنوبی دہلی میں 18.61سسے 27.2 تک شرح ہوگئی ہے ۔ اضافہ 46 فیصدی ہے ۔ جنوب مشرقی دہلی میں 22.12س سے 33.2 تک شرح پہنچی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ سب سے زیادہ 50 فیصدی اضافہ سامنے آیا ہے ۔ نئی دہلی میں 22.87س سے 24.6 یعنی سات فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔ اسی طرح جنوب مغربی دہلی میں 12.96سے 16.3 یعنی 25 فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔ شمالی دہلی 25.26سسے 31.6یعنی 24فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔ سینٹر ل دہلی میں 27.86 سے 31.4یعنی 12 فیصد ی اضافہ ہوا ہے ۔ شاہدرہ 27.61سسے 29.9یعنی 8فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔مغربی دہلی میں 19.13سسے 26.5یعنی 38فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔ مشرقی دہلی 23.9سسے 28.9یعنی 25فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔شما ل مغربی دہلی  میں 23.31سے 29.6یعنی 27فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔

دہلی میں کم ہورہے ہیں کیس

دہلی میں گزشتہ ایک مہینہ میں کورونا وائرس انفیکشن کے معاملات میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ گزشتہ مہینے راجدھانی میں تین ہزار کے قریب کیس روزانہ آرہے تھے ۔ تاہم ان میں واضح کمی ہوچکی ہے اور اب تقریبا ہزار کیس اوسطا روزانہ آرہے ہیں ۔ دہلی میں پہلے انفکیشن کی شرح 30 فیصد کے قریب تھی ۔ تاہم اب یہ شرح کم ہوکر7 فیصد رہ گئی ہے ۔ گزشتہ روز دہلی میں 1300 معاملات سامنے آئے تھے تو آج 1215 معاملات کورونا انفکشن کے سامنے آئے ہیں ۔ ایکٹیو کیس 11271ہیں جبکہ 22 مریضوں کی گزشتہ 24 گھنٹوں میں موت ہوئی ہے ۔ بڑی بات یہ ہے کہ صحتیابی کی شرح 90 فیصد ہوچکی ہے ۔ جبکہ شرح اموات 2.7 فیصد ہوگئی ہے ۔

ہرڈامیونٹی کب تک ملے گی

دہلی میں اینٹی باڈیز کو لے کر جس طرح کی رپورٹ آئی ہے ، اس میں بڑا سوال یہی ہے کہ دہلی کب تک ہرڈ امیونٹی حاصل کرلے گی ۔ تاہم ماہرین کی رائے ہرڈ امیونٹی کو لے کر الگ الگ ہے ۔ کچھ ماہرین 60-70 فیصد لوگوں میں بیماری سے لڑکر صحتیاب ہونے کا پیمانہ ہرڈ امیونٹی کہلاتا ہے ۔ تاہم بہت سے ماہرین 40 فیصدی سے 60 فیصدی افراد کے بیماری سے صحتیاب ہو نے پر ہرڈ امیونٹی کی بات کرتے ہیں ۔ غورطلب ہے کہ ہرڈ امیونٹی کا مطلب یہ ہے کہ بیماری سے لڑنے کی صلاحیت جب آبادی کے بڑے حصہ میں پیدا ہوجائے تو ہرڈ امیونٹی کہلاتی ہے ۔ اس طرح سے جولوگ انفکشن میں مبتلا نہیں ہوئے ہیں ، ان کی بھی حفاظت ہوتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 20, 2020 11:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading