ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لاک ڈاؤن میں ضروری خدمات دینے والوں کیلئے کیجریوال نے جاری کیا نیا ہیلپ لائن نمبر

اروند کیجریوال نے ڈیجیٹل پریس کانفرنس میں بدھ کو کہاکہ جن لوگوں کے پاس شناخت کارڈنہیں ہے خواہ وہ سرکاری محکمہ میں کام کرتے ہوں یا پرائیویٹ اسپتالوں میں کام کرتے ہوں،دودھ و سبزی فروخت کرنے، منڈی میں کام والے، منڈی میں سبزی لے جانے والے کسان، دواؤں کی دکان والے اور دوائیں بنانے والے وغیرہ ہیں۔

  • Share this:
لاک ڈاؤن میں ضروری خدمات دینے والوں کیلئے کیجریوال نے جاری کیا نیا ہیلپ لائن نمبر
اروند کیجریوال نے ڈیجیٹل پریس کانفرنس میں بدھ کو کہاکہ جن لوگوں کے پاس شناخت کارڈنہیں ہے خواہ وہ سرکاری محکمہ میں کام کرتے ہوں یا پرائیویٹ اسپتالوں میں کام کرتے ہوں،دودھ و سبزی فروخت کرنے، منڈی میں کام والے، منڈی میں سبزی لے جانے والے کسان، دواؤں کی دکان والے اور دوائیں بنانے والے وغیرہ ہیں۔

نئی دہلی: وزیراعظم اروند کیجریوال نے کہاکہ جن لوگوں کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے اور وہ ضروری خدمات دستیاب کرانے میں مصروف ہیں وہ 1031نمبر پر فون کرکے ای پاس حاصل کرسکتے ہیں۔

اروند کیجریوال نے  ڈیجیٹل پریس کانفرنس میں بدھ کو کہاکہ جن لوگوں کے پاس شناخت کارڈنہیں ہے خواہ وہ سرکاری محکمہ میں کام کرتے ہوں یا پرائیویٹ اسپتالوں میں کام کرتے ہوں،دودھ و سبزی فروخت کرنے، منڈی میں کام والے، منڈی میں سبزی لے جانے والے کسان، دواؤں کی دکان والے اور دوائیں بنانے والے وغیرہ ہیں۔



موٹے طورپر دودھ، سبزی، راشن کی دکان، روز مرہ کی ضرورتوں اور دواوں کی دکان ان پانچ چیزوں سے متعلقہ دکانیں، ٹرانسپورٹ کرنے کے نظام، ان کی پیداوار اور اسٹور کرنے کے نظام، تمام لازمی خدمات کے زمرہ میں آئیں گے۔
یہ تمام لازمی خدمات احسن طریقہ سے جاری رہیں اس کے لئے ان تمام لوگوں کو پاس کی ضرورت ہے۔ ان لازمی خدمات کی پیداوار، ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج اور دکانوں میں لگے تمام لوگوں کو دہلی حکومت پاس جاری کرے گی۔ جن لوگوں کے پاس شناختی کارڈ ہیں، وہ ا س کا استعمال کریں۔ جن کے پاس شناختی کارڈنہیں ہیں ان کے لئے ہم ای پاس کا نظام شروع کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جن 75 اضلاع میں کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اُنہیں مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلے تمام بھارتی ریاستوں اور کابینہ سیکریٹریز کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں لیے گئے۔
First published: Mar 25, 2020 11:14 PM IST