உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں Monkeypox کے دو اور مشتبہ مریض ملے، دونوں افریقی نژاد ہیں

    Monkeypox in Delhi: دونوں مشتبہ افراد متاثرہ افریقی نژاد شہری ہیں۔ ان دونوں کو دہلی کے ایل این جے پی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کے نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ وہ منکی پاکس سے متاثر ہیں یا نہیں۔

    Monkeypox in Delhi: دونوں مشتبہ افراد متاثرہ افریقی نژاد شہری ہیں۔ ان دونوں کو دہلی کے ایل این جے پی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کے نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ وہ منکی پاکس سے متاثر ہیں یا نہیں۔

    Monkeypox in Delhi: دونوں مشتبہ افراد متاثرہ افریقی نژاد شہری ہیں۔ ان دونوں کو دہلی کے ایل این جے پی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کے نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ وہ منکی پاکس سے متاثر ہیں یا نہیں۔

    • Share this:
      راجدھانی دہلی میں منکی پوکس Monkeypox انفیکشن کے دو اور مشتبہ مریض پائے گئے ہیں۔ دونوں مشتبہ افراد متاثرہ افریقی نژاد شہری ہیں۔ ان دونوں کو دہلی کے ایل این جے پی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کے نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ وہ منکی پاکس سے متاثر ہیں یا نہیں۔

      اب تک دہلی میں منکی پاکس کا صرف ایک تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اس مریض کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے LNJP ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر سریش کمار نے کہا کہ مریض تیزی سے صحت یاب ہو رہا ہے۔ انہیں جلد ہی اسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔ اسی وقت، ایل این جے پی اسپتال میں داخل ایک اور مریض کا نمونہ جانچ کے لیے این آئی وی، پونے بھیجا گیا، جہاں اس کی رپورٹ منفی آئی۔

       

      Monkeypox کو لیکر ایکشن میں حکومت، نگرانی کیلئے بنایا ٹاسک فورس

      بتادیں کہ دہلی کے ایل این جے پی اسپتال میں مونکی پوکس کے مریضوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہاں 10 بستروں پر مشتمل خصوصی آئسولیشن وارڈ بھی تیار کیا گیا ہے جہاں مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے 20 ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

      جنسی رویے کو درست کریں، گلے ملنا، کسنگ کم ہو،Monkeypox پر WHO کی گائیڈ لائن

      ہندستان میں پائے جانے والے 4 میں سے 3 کیسز میں Monkeypox جسمانی تعلقات سے پھیلا: ذرائع


      قابل ذکر ہے کہ ملک میں منکی پوکس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں مرکزی حکومت نے اتوار کے روز ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو مانکی پوکس کے معاملات کی نگرانی کرے گی۔ اس ٹیم کی سربراہی نیتی آیوگ کے رکن (صحت) ڈاکٹر وی کے پال کریں گے۔ اس کے دیگر اراکین میں مرکزی وزارت صحت، فارما اور بائیوٹیک کے سیکرٹری شامل ہوں گے۔ ذرائع نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو اس کی اطلاع دی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ منکی پاکس ہندوستان میں آہستہ آہستہ اپنے قدم پھیلا رہا ہے۔ حال ہی میں آندھرا پردیش کے گنٹور میں ایک آٹھ سالہ بچے میں اس خطرناک بیماری کی علامات پائی گئیں۔ اس کے بعد اس کا نمونہ جانچ کے لیے بھیج دیا گیا۔

      حکومت ہند منکی پوکس کے حوالے سے بالکل الرٹ موڈ میں ہے۔ اس بیماری کے حوالے سے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر نگرانی تیز کر دی گئی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: