ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی یونیورسٹی نصف درجن اسپتالوں کے خلاف کرے گی کارروائی! جانئے کیوں

دراصل پروفیسر ولی اختر کے علاج میں جس طریقے سے لاپرواہی سامنے آئی ہے، اس کے بعد یونیورسٹی کے اساتذہ کے درمیان کافی زیادہ بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

  • Share this:
دہلی یونیورسٹی نصف درجن اسپتالوں کے خلاف کرے گی کارروائی! جانئے کیوں
دراصل پروفیسر ولی اختر کے علاج میں جس طریقے سے لاپرواہی سامنے آئی ہے، اس کے بعد یونیورسٹی کے اساتذہ کے درمیان کافی زیادہ بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

نئی دہلی۔ دہلی یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے پروفیسر ولی اختر کی کورونا وائرس سے ہوئی موت کے معاملے میں دہلی یونیورسٹی آدھا درجن اسپتالوں کے خلاف کاروائی کرنے جا رہی ہے۔ یونیورسٹی اساتذہ ایسوسی ایشن کی جانب سے وائس چانسلر جگدیش تیاگی کو باضابطہ اس سلسلے میں خط بھیجا گیا ہے۔ دراصل پروفیسر ولی اختر کے علاج میں جس طریقے  سے لاپرواہی سامنے آئی ہے، اس کے بعد یونیورسٹی کے اساتذہ کے درمیان کافی زیادہ بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر راجیب رائے اور سکریٹری راجندر سنگھ کے ذریعے  وائس چانسلر کو لکھے گئے خط  میں 8 نکاتی مطالبات کیے گئے ہیں۔ خط میں حالات کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے وضاحت کی گئی ہے اور لکھا گیا ہے کہ پروفیسر ولی اختر کو کئی اسپتالوں میں علاج کے لیے لے جایا گیا لیکن انہیں وقت پر علاج دینے سے انکار کردیا گیا۔ اس کو بڑے پیمانے پر رپورٹ بھی کیا گیا۔ اس صورتحال سے کورونا وائرس  کے خلاف ہماری تیاریوں کی حقیقت سامنے آگئی اور واضح ہوگیا کہ ہمارا صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔


اس خط میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ یونیورسٹی کو ان اسپتالوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جنہوں نے علاج کرنے سے منع کر دیا تھا۔ ایسوسی ایشن کے صدر راجیب رائے نے بتایا کہ یونیورسٹی کی طرف سے انہیں ایک فون آیا ہے اور وہ اس سلسلے میں کاروائی کی امید کر رہے ہیں  لیکن اگر کچھ نہیں ہوا تو دہلی کے وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت تک معاملے کو لے جایا جائے گا۔

اساتذہ ویلفیئر فنڈ کو کیا جائے ایکٹیویٹ

وہیں، ایسوسی ایشن کی جانب سے کورونا وائرس کے علاج و معالجہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس خط میں یونیورسٹی کے تمام اساتذہ اور دیگر ملازمین کو بھی یونیورسٹی کی صحت امداد میں شامل کیے جانے  پر زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اساتذہ ویلفیئر فنڈ کو ایکٹیویٹ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس فنڈ میں اساتذہ کا 10 کروڑ روپیہ موجود ہے۔

علاج کے لیے کیسے اسپتال در اسپتال پہنچے  تھے  ولی اختر
کورونا کی علامات اور بخار کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں پریشانی کا سامنا کر رہے پروفیسر ولی اختر کو موت سے قبل سات اسپتالوں میں علاج کے لیے لے جایا گیا تھا لیکن اسپتالوں نے انہیں بھرتی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جامعہ نگر کے الشفاء اسپتال میں بالآخر ان کی موت ہوگئی۔ یہ سات اسپتال بنسل اسپتال ، کیلاش اسپتال نوئیڈا، مول چند اسپتال، فورٹیز اسکارٹ اسپتال ،ہولی فیملی اسپتال اور کربس اسپتال ہیں۔ ان تمام اسپتالوں کے ذریعے نا تو پروفیسر ولی اختر کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا اور نہ ہی انہیں علاج کے لیے ایڈمٹ کیا گیا۔ آٹھ جون کو ان کی موت کے دن ان کا ٹیسٹ ہوا تھا اور موت کے ایک دن بعد یعنی 9 جون کو ان کےکورونا مثبت ہونے کی رپورٹ آئی تھی۔
First published: Jun 17, 2020 07:13 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading