ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کورونا قہر میں خدمت خلق کے لئے فیکٹری کے سبھی آکسیجن سلینڈر کو کیا دان: جانیں کون ہے وہ شخص

انسانی خدمت کے لئے ایک دو آکسیجن سلینڈر نہیں بلکہ اندور میں واقع انڈین انجینئرنگ ورکس کے ایم ڈی ظفر منصوری نے اپنی فیکٹری کے سبھی آکسیجن سلینڈر کو دان کردیا ہے۔

  • Share this:
کورونا قہر میں خدمت خلق کے  لئے فیکٹری کے سبھی آکسیجن سلینڈر کو کیا دان: جانیں کون ہے وہ شخص
انسانی خدمت کے لئے ایک دو آکسیجن سلینڈر نہیں بلکہ اندور میں واقع انڈین انجینئرنگ ورکس کے ایم ڈی ظفر منصوری نے اپنی فیکٹری کے سبھی آکسیجن سلینڈر کو دان کردیا ہے۔

کورونا قہر میں آکسیجن سلینڈر کی فراہمی مدھیہ پردیش میں  مشکل ہی نہیں بلکہ نایاب بن ہوئی ہے ۔ ایک ایسے مشکل وقت میں جب آکسیجن نہیں ملنے سے مدھیہ پردیش کے اسپتالوں میں روزانہ کتنی موتوں کے واقعات سامنے آرہے ہیں  اور لوگ آکسیجن سلینڈر کو لیکر نہ صرف منھ مانگی قیمت دینے کو تیار  ایسے میں اگر یہ کہا جائے کہ کسی شخص نے صرف انسانی خدمت کے لئے ایک دو آکسیجن سلینڈر نہیں بلکہ اپنی فیکٹری کے سبھی آکسیجن سلینڈر کو دان کردیا ہے تو سن کر نہ صرف حیرت ہوتی ہے بلکہ اپنی سماعت پر بھی یقین نہیں ہوتا۔ مگر کورونا قہر میں انسانی خدمت کا عظیم کارنامہ اندور میں واقع انڈین انجینئرنگ ورکس کے ایم ڈی ظفر منصوری نے انجام دیا ہے۔ ظفر منصوری کہتے ہیں کہ ان کے پاس اندور شہر سے تھوڑی دوری پر انڈین انجینئرنگ ورکس کے نام سے فیکٹری ہے اور فیکٹری کے کام کے لئے ان کے پاس آکسیجن سلینڈر بڑی تعداد میں ہوتے ہیں ۔

کورونا قہر میں بہت سے دوستوں کو جب بھی ضرورت ہوئی ہے انہوں نے خاموشی سے انہیں آکسیجن سلینڈر فراہم کرنے کا کام کیا ہے مگر کل جب ان کے پاس اندور نگر نگم کی کمشنر پرتیبھا پال اور ڈپٹی کمشنر سندیپ سونی کا فون آیا اور انہوں نے اسپتال میں آکسیجن کی ضرورت کو بتاتے ہوئے آکسیجن سلینڈر فراہم کرنے کی مدد مانگی تو مجھ سے رہا نہیں گیا ۔حالانکہ وہ لوگ مجھے اس کی قیمت دینے کی بھی بات کر رہے تھے مگرہم نے مشکل وقت میں انسانی خدمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے فیکٹری کے سبھی آکسیجن سلینڈر کو انہیں دان کردیا تاکہ انسانی جان کو بچایا جا سکے ۔ ہم نے آکسیجن سلینڈر کو اپنی ہی گاڑی سے ان کے بتائے پتے پر بھیج  دیا ہے ، یہ تو معمولی سی خدمت ہے آگے بھی ضرورت ہوگی تو ہم اپنے شہر کے لوگوں کی جان بچانے کے لئے جو بھی ہوسکے گا وہ کریں گے اور دوسرے صنعتی اداروں کے مالکان سے بھی گزارش کرینگے کہ وہ مشکل وقت میں انسانی جان بچانے کے لئے اپنا بیش قیمتی نذرانہ پیش کریں۔



ماہ رمضان کا مہینہ ہے اور ہم تو صرف یہی چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری خدمت کو قبول کر لے ،اللہ راضی ہو جائے گا تو ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی مل جائے گی ۔

وہیں اندور نگر نگم کمشنر پرتیبھا پاٹل کہتی ہیں کہ ظفر منصوری جی کو ہم نے آکسیجن کے لئے فون کیا تھا ،ہم ان کے آکسیجن سلینڈر کے لئے قیمت بھی دینا چاہتے تھے مگر انہوں نے انسانی خدمت کے لئے گاڑی بھر کر آکسیجن سلینڈر بھیجے ہیں ۔ ان کا تعاون قیمتی ہے ،سماج کے لوگوں کو آگے آکر ایسے مشکل وقت میں مدد کرنا چاہیئے ۔
بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 16, 2021 09:01 PM IST