ہوم » نیوز » عالمی منظر

کووڈ۔ 19 کے سبب ٹی بی کے خاتمے کی مہم پٹری سے اتر سکتی ہے: ڈبلیو ایچ او

واضح رہے کہ ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص ہونے کے بعد ان کا علاج شروع ہونے سے اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ باقاعدہ علاج کی عدم موجودگی سے ٹی بی سے موت کا خطرہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ دنیا کے ایک چوتھائی ٹی بی مریض ہندوستان میں ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 14, 2020 08:28 PM IST
  • Share this:
کووڈ۔ 19 کے سبب ٹی بی کے خاتمے کی مہم پٹری سے اتر سکتی ہے: ڈبلیو ایچ او
کووڈ۔ 19 کے سبب ٹی بی کے خاتمے کی مہم پٹری سے اتر سکتی ہے: ڈبلیو ایچ او

جنیوا۔ کووڈ۔ 19 کے باعث تپ دق (ٹی بی) کے مریضوں کی تشخیص اور ان کے علاج ومعالجے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس سے ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری عالمی ٹی بی رپورٹ 2020 میں کہا گیا ہے کہ کووڈ ۔19 اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک میں ٹی بی کے مریضوں کی شناخت میں کافی کمی دیکھی گئی ہے۔ ٹی بی کے سب سے زائد مریضوں والے تینوں ممالک ہندوستان ، انڈونیشیا اور فلپائن میں سال کے پہلے مہینے میں نئے مریضوں کی تعداد میں 25 سے 30 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ تشخیص کم ہونے سے اس سال ٹی بی سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


واضح رہے کہ ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص ہونے کے بعد ان کا علاج شروع ہونے سے اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ باقاعدہ علاج کی عدم موجودگی سے ٹی بی سے موت کا خطرہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔ دنیا کے ایک چوتھائی ٹی بی مریض ہندوستان میں ہیں۔


اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ہندوستان میں مارچ کے اواخر سے لے کر اپریل کے آخر تک قومی سطح پر لاک ڈاؤن نافذ ہونے کی وجہ سے ٹی بی کے نئے مریضوں کی ہفتہ وار اور ماہانہ تعداد میں 50 فیصد سے زائد کی کمی درج کی گئی ہے۔ اس کے بعد مریضوں کی شناخت میں قدرے اضافہ ہوا ہے ، لیکن جون کے آخر تک بھی یہ مارچ سے پہلے کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ سرکاری اور غیر سرکاری دونوں طرح کے اسپتالوں میں مریضوں کی تشخیص میں کمی واقع ہوئی ہے۔


ہندوستان نے 2025 تک ٹی بی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ مریضوں کی تشخیص نہیں ہو پانے کی وجہ سے ان کا علاج شروع نہیں ہو پائے گا۔ ایسے میں ٹی بی کے خاتمے کے ہدف میں تاخیر کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں جنوری میں ٹی بی کے جتنے مریض سامنے آئے تھے جون میں اس کے مقابلے میں تین چوتھائی مریضوں کی شناخت ہو پائی ہے۔ اپریل میں یہ تعداد کم ہوکر 40 فیصد ہوگئی تھی۔

فائل فوٹو


ڈبلیو ایچ او کا اندازہ ہے کہ سنہ 2019 میں ملک میں 26 لاکھ 40 ہزار ٹی بی کے مریض تھے جو دنیا بھر میں ٹی بی کے 26 فیصد مریض ہیں۔ ان میں سے 71 ہزار ایچ آئی وی سے بھی متاثر تھے۔ فی لاکھ آبادی میں 193 افراد اس بیماری کی زد میں تھے۔ ہندوستان نے ٹی بی کی صورتحال سے متعلق پہلے پبلک سروے کی رپورٹ جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا ، لیکن اس وبا کی وجہ سے ابھی تک سروے شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال تقریبا ایک کروڑ افراد تپ دق کی زد میں آئے ، جن میں میں سے 30 لاکھ کی شناخت ہی نہیں ہو پائی تھی۔ دنیا میں ٹی بی کی وجہ سے سال 2019 میں 14 لاکھ افراد کی موت ہو گئی تھی۔ ان میں سے 31 فیصد کیسز ہندوستان میں سے ہیں۔ عالمی سطح پر سنہ 2015 اور 2019 کے درمیان ٹی بی کے خاتمے کے سلسلے میں کافی پیش رفت ہوئی۔ اس دوران نئے مریضوں کی تعداد میں نو فیصد اور اس بیماری کی وجہ سے ہونے والی اموات میں 14 فیصد کمی آئی تھی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 14, 2020 08:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading