உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کووڈ احتیاطی خوراک کے لیے اہل افراد کو دوبارہ CoWIN ایپ پر رجسٹر کرنے کی ضرورت، جانیے تفصیلات

    CoWIN

    CoWIN

    ایک سرکاری ذریعہ نے وضاحت کی تھی کہ خیال یہ ہے کہ خوراک بہت زیادہ احتیاط کے معاملے کے طور پر پیش کی جارہی ہے کیونکہ ایک نظریہ ایسا بھی ہے کہ ہندوستانیوں میں پہلے سے ہی قوت مدافعت ہے

    • Share this:
      ویکسینیشن رجسٹریشن پلیٹ فارم کے چیف ڈاکٹر آر ایس شرما نے کہا کہ کووِڈ 19 کی احتیاطی خوراک کے لیے اہل افراد کو کووین CoWIN ایپ پر دوبارہ رجسٹریشن نہیں کرانا پڑے گا۔ ایک ہی اکاؤنٹ سے ان کو احتیاطی خوراک دی جائے گی۔

      گذشتہ25 دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے صحت کی دیکھ بھال اور فرنٹ لائن کارکنوں کے ساتھ ساتھ ساتھ بزرگوں کے لیے احتیاطی خوراک کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نے اسے بوسٹر خوراک نہیں کہا کیونکہ تیسری خوراک کو دنیا بھر میں بوسٹر خوراک کہا جاتا ہے۔ جب کہ انھوں نے ساے احتیاطی خوراک کہا ہے۔

      مرکز نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بتایا کہ 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو کووڈ-19 ویکسین کی احتیاطی خوراک کی انتظامیہ کے وقت کسی ڈاکٹر سے کوئی سرٹیفکیٹ پیش کرنے یا جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ احتیاطی خوراک یا تیسری خوراک لینے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔

      ملک میں کووڈ ٹاسک فورس کے ہیڈ ڈاکٹر این کے اروڑہ (Dr. NK Arora) نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر (Covid Third Wave) آچکی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ میٹرو سیٹیز میں اومیکران (Omicron) سے وابستہ معاملات زیادہ تعداد میں مل رہے ہیں ۔ ڈاکٹر اروڑہ نے کہا ہے کہ ممبئی ، دہلی اور کولکاتہ جیسے شہروں میں اس وقت 75 فیصدی معاملات اومیکران ویریئنٹ سے جڑے ہوئے ہیں ۔

      این ڈی ٹی وی سے بات چیت میں ڈاکٹر اروڑہ نے کہا کہ دیکھئے دسمبر کے شروعاتی ہفتہ میں اومیکران کا پہلا معاملہ ملک میں ملا تھا ، اب اگر پچھلے ہفتہ کی بات کریں تو قومی سطح پر بارہ فیصدی معاملات اس سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اس کے بعد جو ہفتہ گزرا ، اس میں 28 فیصد  کی شرح سے اضافہ ہوا ، اس لئے یہ انتہائی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے ۔ یہ بھی کہنا ہوگا کہ بڑے شہروں خاص طور پر دہلی  میں 75 فیصدی معاملات اومیکران سے جڑے ہوئے ہیں ۔
      اس سے پہلے کورونا ویکسین اسٹریٹجی پینل کے سربراہ ڈاکٹر این کے اروڑہ نے کہا کہ بوسٹر ڈوز کی اہمیت کو لے کر ابھی تصویر مزید صاف ہونی باقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک ویکسین کی چار ڈوز کو لے کر بھی غور کررہے ہیں ۔ نیوز18 کے ساتھ بات چیت میں ڈاکٹر اروڑہ نے کہا کہ بوسٹر ڈوز کے بارے میں ہماری سمجھ اور سائنس کے درمیان بڑا فرق ہے ۔

      ایک سرکاری ذریعہ نے وضاحت کی تھی کہ خیال یہ ہے کہ خوراک بہت زیادہ احتیاط کے معاملے کے طور پر پیش کی جارہی ہے کیونکہ ایک نظریہ ایسا بھی ہے کہ ہندوستانیوں میں پہلے سے ہی قوت مدافعت ہے
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: