ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

Fights Back India: انسانیت، انور پٹھان نے دوسو کلو میٹر کا سفر کر کے سوشل میڈیا پر مدد مانگنے والی پنکی یادو کے والد کو پہنچائی آکسیجن

انور پٹھان کہتے ہیں کہ پہلے بھی سماجی خدمت کا کام کرتے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں لیکن زندگی اتنی بد رنگ ہو جائے گی ایسا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اجین کی پنکی یادو کا جب فون آیا اور انہوں نے ہم سے آکسیجن سلینڈر کی مدد مانگی ،ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے والد کو جو آکسیجن سلینڈر لگا ہوا ہے وہ بشمکل تین سے ساڑھے گھنٹے کا ہی بیک اپ دے پائے گا۔

  • Share this:
Fights  Back India: انسانیت، انور پٹھان نے دوسو کلو میٹر کا سفر کر کے سوشل میڈیا پر مدد مانگنے والی پنکی یادو کے والد کو پہنچائی آکسیجن
انور پٹھان کہتے ہیں کہ پہلے بھی سماجی خدمت کا کام کرتے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں لیکن زندگی اتنی بد رنگ ہو جائے گی ایسا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

Fights  Back India: کورونا Covid-19 pandemic کے بڑھتے قہر کے بیچ بھلے ہی کچھ مقامات پر انسانی رشتوں کا تقدس پامال ہورہا ہو مگر ہمارے سماج میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انسانی خدمت کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردینے پر یقین رکھتے ہیں۔ بھوپال کے انور پٹھان بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں جو انسانی خدمت کو فرض اولین سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ اجین کی پنکی یادو کے والد جب کورونا کی وبائی بیمار کا شکار ہوئے اور انہیں علاج کے لئے آکسیجن پر رکھا گیا تو پنکی یادو کو یہ امید نہیں تھی کہ انکے والد کو آکسیجن  (Oxygen Cylinders) مہیا کرنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ پنکی یادو نے جب اپنے والد کی آکسیجن کو ختم ہوتے دیکھا تو انہوں نے اپنے تمام عزیزو اقارب کی چوکھٹ پر دستک دی۔ جب عزیزو اقارت مدد کے لئے آگے نہیں آئےتو انہوں نے اپنے شہر اجین کے لوگوں سے مدد مانگی اور جب وہ ہر جگہ سے مایوس ہوگئیں تو انہیں سوشل میڈیاپر انور پٹھار کا نمبر نظر آیا۔ پنکی یادو کو یہ امید نہیں تھی کہ بھوپال کا کوئی شخص فرشتہ بن کر آکسیجن سلینڈر کے ساتھ ان کے گھر پر حاضر ہوجائے گا۔

انور پٹھان کہتے ہیں کہ پہلے بھی سماجی خدمت کا کام کرتے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں لیکن زندگی اتنی بد رنگ ہو جائے گی ایسا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اجین کی پنکی یادو کا جب فون آیا اور انہوں نے ہم سے آکسیجن سلینڈر کی مدد مانگی ،ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے والد کو جو آکسیجن سلینڈر لگا ہوا ہے وہ بشمکل تین سے ساڑھے گھنٹے کا ہی بیک اپ دے پائے گا۔


ہم نے پنکی یادو کو فون پر مدد کرنے کی یقین دلایا اور اپنے دوستوں سے مشورہ کرنے کے بعد جمبو آکسیجن سلینڈر بھوپال سے اجین کے لئے نکل پڑے۔ ہم تینوں دوستوں کا روزہ تھا اس لئے راستہ میں گاڑی روک کر کچھ کھانے پینے کا بھی سوال نہیں تھا ۔عمر اسلم اور ذیشان خان کے ساتھ ہم نے دو سو کلومیٹر کا سفر تین گھنٹے میں طے کیا اور اجین کے شتیلا ماتا چوک پر جب پنکی یادو کے گھر آکسیجن سلینڈر لیکرجب ہم پہنچے تو وہ لوگ حیرت میں تھے۔


ہمیں خوشی ہے کہ پنکی یادو کی حالت بہتر ہے اور انکی صحت میں تیزی سے افاقہ ہو رہا ہے ۔ ہمارا مقصد خدمت کرنا ہے اور ہم تو اپنے کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں خدمت کے لئے پسند کیا ہے ۔لوگوں سے یہی گزارش ہے کہ یہ وقت صرف خدمت کرنے کاہے ۔ہم اپنا خیال بھی رکھیں اور ضرورتمندوں کی مدد کریں تو ہمارا بیمار معاشرہ خود بخود صحت مند ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ انور پٹھان اور انکے دوست گزشتہ سال سے بھوپال میں کورونا مریضوں کے بیچ اسپتال میں جاکر خدمت کا کام کر رہے ہیں ۔ مریضوں کی دوا،آکسیجن اور کھانہ پہنچانے کے ساتھ اب تک انور پٹھان کئی لوگوں کی آخری رسومات کو بھی ادا کر چکے ہیں ۔
بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 28, 2021 06:16 PM IST