உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب دہلی میں Monkeypox کی دستک، 31 سالہ شخص کے جسم پر پڑے چھالے

    First monkeypox case in delhi: یہ ہندستان میں اب تک منکی پوکس وائرس کے انفیکشن کا چوتھا کیس ہے۔ تاہم یہ پہلا کیس ہے جس میں متاثرہ شخص کی کوئی سفری تاریخ نہیں ہے۔

    First monkeypox case in delhi: یہ ہندستان میں اب تک منکی پوکس وائرس کے انفیکشن کا چوتھا کیس ہے۔ تاہم یہ پہلا کیس ہے جس میں متاثرہ شخص کی کوئی سفری تاریخ نہیں ہے۔

    First monkeypox case in delhi: یہ ہندستان میں اب تک منکی پوکس وائرس کے انفیکشن کا چوتھا کیس ہے۔ تاہم یہ پہلا کیس ہے جس میں متاثرہ شخص کی کوئی سفری تاریخ نہیں ہے۔

    • Share this:
      منکی پوکس Monkeypox کی بیماری نے قومی راجدھانی دہلی میں بھی دستک دے دی ہے۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے وزارت صحت نے کہا کہ ایک بیمار شخص کو مولانا آزاد میڈیکل کالج دہلی میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس شخص کی عمر 31 سال ہے اور اس کی بیرون ملک سفر کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ بخار اور جسم میں چھالے ظاہر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

      یہ ہندستان میں اب تک منکی پوکس وائرس کے انفیکشن کا چوتھا کیس ہے۔ تاہم یہ پہلا کیس ہے جس میں متاثرہ شخص کی کوئی سفری تاریخ نہیں ہے۔ پہلے کے تینوں معاملات میں، متاثرہ افراد حال ہی میں غیر ملکی سفر سے واپس آئے تھے۔

      منکی پوکس انفیکشن کا پہلا کیس یہاں 14 جولائی کو کیرالہ کے کنور میں رپورٹ ہوا تھا۔ اس کے بعد 22 جولائی تک کل تین کیس رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے دو متحدہ عرب امارات سے واپس آئے تھے جبکہ ایک شخص تھائی لینڈ سے آیا تھا۔

      نہ صرف Monkeypox اور کورونا، بچوں پر منڈرا رہا ہے Encephalitisو Tomato Fever کا خطرہ


      صدر Ram Nath Kovind شام کو قوم سے کریں گے خطاب، آج ہی ختم ہو رہی ہے مدت

      ورلڈ ایتھلیٹکس میں اولمپک گولڈ سے سلور تک دیکھیں Neeraj Chopra کا سفر


      آپ کو بتاتے چلیں کہ مونکی پوکس وائرس دنیا کے 70 ممالک میں پھیل چکا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس کے اتنے تیزی سے پھیلاؤ کو ایک 'غیر معمولی' صورتحال قرار دیتے ہوئے ہفتے کے روز اس کے حوالے سے عالمی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا یہ اعلان اس بیماری کے علاج کے لیے سرمایہ کاری کو تیز کر سکتا ہے اور اس نے اس بیماری کے لیے ویکسین تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: