ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

4کروڑ کوویکسن کی خوراکیں غائب،پیداواراورٹیکا لگانے کے تخمینے میں اضافہ نہیں ہوا:رپورٹ

کرشنا ایلا نے 5 جنوری کو ویکسی نیشن مہم شروع ہونے سے پہلے ہی کہا تھا کہ کمپنی نے ویکسین کی 2 کروڑ خوراک ذخیرہ کرلی ہے۔ جو کل 7.5 کروڑ تک لے جاتا ہے۔ جنوری اور فروری میں پیداوار میں اضافہ ہوا۔ جو مارچ اور اپریل کے مقابلے میں بہت کم سطح پر تھا اور اب تک یہ تعداد آٹھ کروڑ خوراک ہونی چاہیے۔

  • Share this:
4کروڑ کوویکسن کی خوراکیں غائب،پیداواراورٹیکا لگانے کے تخمینے میں اضافہ نہیں ہوا:رپورٹ
ھارت بائیوٹیک (Bharat Biotech) نے 20 اپریل کو ریکارڈ پر کہا تھا کہ مارچ میں 1.5 کروڑ خوراکیں تیار کی گئیں

سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں جمعرات کی صبح تک تقریبا 2.1 کروڑ کوویکسین خوراکیں دی گئی ہیں۔ تاہم ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق برآمد کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تک 6 کروڑ سے زیادہ خوراکیں دی جانی  چاہیے تھا۔بھارت بائیوٹیک (Bharat Biotech) نے 20 اپریل کو ریکارڈ پر کہا تھا کہ مارچ میں 1.5 کروڑ خوراکیں تیار کی گئیں اور اپریل میں 2 کروڑ خوراکیں ماہانہ بنائی گئی ۔ بھارت بائیوٹیک کے سی ایم ڈی کرشنا ایلا نے بھی کہا کہ مئی میں پیداوار 3 کروڑ ہوئی۔


فرض کریں کہ اسکیلنگ نہیں ہوئی ہے، اس کا مطلب مئی کے آخر تک 5.5 کروڑ کی مقدار ہونا چاہیے تھا۔ مرکز نے بھی کم از کم دو الگ الگ حلف ناموں میں جن میں سے ایک ہائی کورٹ میں 24 مئی کو بیان کیا تھا ، کہ کوویکسین کی پیداوار ایک ماہ میں 2 کروڑ خوراک ہے۔


کرشنا ایلا نے 5 جنوری کو ویکسی نیشن مہم شروع ہونے سے پہلے ہی کہا تھا کہ کمپنی نے ویکسین کی 2 کروڑ خوراک ذخیرہ کرلی ہے۔
کرشنا ایلا نے 5 جنوری کو ویکسی نیشن مہم شروع ہونے سے پہلے ہی کہا تھا کہ کمپنی نے ویکسین کی 2 کروڑ خوراک ذخیرہ کرلی ہے۔


کرشنا ایلا نے 5 جنوری کو ویکسی نیشن مہم شروع ہونے سے پہلے ہی کہا تھا کہ کمپنی نے ویکسین کی 2 کروڑ خوراک ذخیرہ کرلی ہے۔ جو کل 7.5 کروڑ تک لے جاتا ہے۔ جنوری اور فروری میں پیداوار میں اضافہ ہوا۔ جو مارچ اور اپریل کے مقابلے میں بہت کم سطح پر تھا اور اب تک یہ تعداد آٹھ کروڑ خوراک ہونی چاہیے۔

یقینا اس میں سے کچھ برآمد کی جا سکتی ہے جب ملک ویکسین ڈپلومیسی میں مصروف تھا۔ لیکن بھارت کی ویکسین کی تمام برآمدات کو ایک ساتھ ملا کر تقریبا 6.6 کروڑ خوراکیں ہیں۔ اس کا زیادہ تر حصہ کووی شیلڈ رہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ہم فرض کرلیں کہ 2 کروڑ کوواکسن تھے تو اس وقت تک بھارت میں استعمال کے لیے 6 کروڑ خوراک دستیاب ہونی چاہئے۔

اس سے کم از کم 4 کروڑ خوراک کا خسارہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں۔ جب ملک میں ویکسین کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ریاستوں میں ہر دوسرے دن ویکسین کی قلت محسوس کی جارہی ہے۔یکم مئی سے ’نجی ویکسین پالیسی‘ (liberalised vaccine policy) نافذ کرنے کے باوجود یہ مرکز ہی ہے جو ریاستی حکومتوں کے لئے 18 سے 46 سال کی عمر کو ویکسین کے لئے رقم مختص کررہا ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 28, 2021 10:20 PM IST