اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کورونا کے خطرے کے درمیان ’کوویکس‘ پر فیصلہ آج!بوسٹر ڈوز کے طور پر ہوگی استعمال

    کورونا کے خطرے کے درمیان ’کوویکس‘ پر فیصلہ آج!بوسٹر ڈوز کے طور پر ہوگی استعمال

    کورونا کے خطرے کے درمیان ’کوویکس‘ پر فیصلہ آج!بوسٹر ڈوز کے طور پر ہوگی استعمال

    کوویکس کو سیرم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے نوواویکس سے ٹکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      کورونا کے خطرے کے درمیان حکومت کا پینل آج (11 جنوری) بالغوں کے لیے کورونا کی بوسٹر ڈوز کے طور پر کوویکس پر فیصلہ لے سکتا ہے۔ سینٹرل ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا ایک ماہر پینل بدھ کو فیصلہ کر سکتا ہے کہ سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی) کی کورونا ویکسین 'کوویکس' کو مارکیٹ میں لانچ کرنے کی منظوری دی جائے یا نہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کوویکس کی خوراک ان لوگوں کو دی جا سکتی ہے جنہوں نے کووی شیلڈ یا کوویکسین کی دونوں خوراکیں لی ہوئی ہیں۔

      سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) کی سبجیکٹ ایکسپرٹ کمیٹی کا اجلاس آج 11 جنوری کو ہونے والا ہے۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی) میں گورنمنٹ اور ریگولیٹری امور کے ڈائریکٹر پرکاش کمار سنگھ نے حال ہی میں ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی جی سی آئی) کو ایک خط لکھا، جس میں بالغوں کے لیے بوسٹر خوراک کے طور پر کوویکس کی منظوری مانگی گئی۔ ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ کچھ ممالک میں وبا کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے درمیان اس پر جلد فیصلہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

      ڈی سی جی آئی نے 28 دسمبر 2021 کو بالغوں کے لیے ایمرجنسی صورتحال میں شرطوں کے ساتھ استعمال کے لیے منظوری دی تھی۔ اس کے بعد کچھ شرطوں کے ساتھ 9 مارچ 2022 کو 17-12 عمر کے لوگوں کے لیے اور پھر 28 جون 2022 کو 11-7 سال کے بچوں کے لیے کوویکس کو منظوری دی گئی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      دنیا پر کوروناوائرس کی نئی لہر کا خطرہ، WHOنے کہا۔ نیا ویریئنٹ سب سے زیادہ خطرناک

      یہ بھی پڑھیں:
      مغربی بنگال میں کورونا کے نئے ویرینٹ BF.7 کے چار کیس ملے، امریکہ سے پہنچے تھے ہندوستان

      کوویکس کو سیرم انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے نوواویکس سے ٹکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے یورپی میڈیسن ایجنسی نے مشروط مارکیٹنگ کی اجازت کے لیے منظور کیا ہے۔ اسے 17 دسمبر 2021 کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے ہنگامی استعمال کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: