உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Omicron: اومی کرون ویرینٹ ہوجائے تو کیسے محسوس ہوتا ہے؟ کیا ہیں اس کی علامات؟

    ڈبلیو ایچ او نے اطلاع جاری کی تھی کہ دیگر ویرینٹ کے مقابلے میں یہ ویرینٹ دوبارہ پھیلاو کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے اطلاع جاری کی تھی کہ دیگر ویرینٹ کے مقابلے میں یہ ویرینٹ دوبارہ پھیلاو کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر کوٹزی کے مطابق جنوبی افریقہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں میں بھی اومیکرون وائرس ہوا ہے۔ لہر کے آغاز میں بچوں اور نوجوان جو پہلے ہی سانس کی نالی کے انفیکشن کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھے، ان کا ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میں سے کچھ کو مثبت کورونا ہوا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ Omicron کی وجہ سے انفیکشن ہوا۔

    • Share this:
      ڈاکٹر اینجلیک کوٹزی (Dr Angelique Coetzee) ان ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے نئے ویرینٹ اومی کرون (Omicron) کی نشان دہی کی تھی۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس ویرینٹ سے متاثر مریضوں کو کورونا کی عام فلو جیسی علامات کے برعکس شدید سر درد، جسم میں درد، تھکاوٹ اور ہلکے بخار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

      ڈاکٹر کوٹزی کو مریضوں کی تشخیص کے دوران جنوبی افریقہ میں 100 سے زیادہ کووڈ۔19 مثبت مریضوں میں اومی کرون کا پتہ چلا ہے۔ انھوں نے نیوز 18 ڈاٹ کام کو بتایا کہ اومی کرون سے عام فلو جیسی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں۔

      انھوں نے کہا کہ ہمارے مریضوں کو کھانسی، ناک بہنا، تیز بخار یا گلے میں خراش نہیں ہے۔ یہ وہ کووڈ۔19 کی کلاسیکی علامات ہیں، جنہیں ہم آج تک جانتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہم شکایات سر میں شدید درد، جسم میں درد، تھکن اور گلے میں قدرے خارش شامل ہیں‘‘۔

      اگر مریض کو ویکسین نہیں لگائی جاتی ہے تو سر درد اور جسم کا درد شدید ہو سکتا ہے۔ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ یہ عام طور پر استعمال ہونے والی دوائیوں کے ساتھ گھر میں قابل انتظام ہے۔ ڈاکٹر کوٹزی پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر ہیلتھ پریکٹیشنرز کی ایسوسی ایشن، جنوبی افریقی میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرپرسن بھی ہیں، انھوں نے کہا کہ ایک معالج یہ فیصلہ کر سکے گا کہ مریض شدید بیمار نہیں ہے‘‘۔

      ’’اگر جسم میں درد، سر درد، تھکاوٹ جیسی علامات کا تذکرہ کیا جائے تو زیادہ شبہ ظاہر کریں۔ یہ عام فلو نہیں بلکہ اومی کرون ہو سکتا ہے۔ ان سے کووڈ۔19 کا ٹیسٹ کرنے کے لیے کہیے‘‘۔

      کیا Omicron بچوں کو متاثر کرتا ہے؟

      ڈاکٹر کوٹزی کے مطابق جنوبی افریقہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں میں بھی اومیکرون وائرس ہوا ہے۔ لہر کے آغاز میں بچوں اور نوجوان جو پہلے ہی سانس کی نالی کے انفیکشن کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھے، ان کا ٹیسٹ کیا گیا۔ ان میں سے کچھ کو مثبت کورونا ہوا  تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ Omicron کی وجہ سے انفیکشن ہوا۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: