ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

#HumanityFirst: شوہر۔بیوری اپنی جمع پونجی رقم سے ضرورتمندوں اور اسپتالوں میں پہنچا رہے ہیں سحری اور افطار 

کورونابحران میں ہر انسان پریشان اور تکلیف میں مبتلا ہے ۔ ایسے حالات میں ممبئی میں ایک جوڑا ایسابھی ہے جو اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے رمضان کے مقدس مہینے میں ضرورت مندوں تک سحری اور افطار پہنچانے کا کام کر رہے ہیں تاکہ روزہ میں کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔

  • Share this:
#HumanityFirst: شوہر۔بیوری اپنی جمع پونجی رقم سے ضرورتمندوں اور اسپتالوں میں پہنچا رہے ہیں سحری اور افطار 
۔ جہاں لوگ کورونا کے خوف سے اسپتالوں میں جانے سے ہچکچا رہے ہیں وہیں یہ جوڑا اسپتالوں میں ضرورت مندوں تک کھانا پہنچانے میں لگے ہیں۔

کورونابحران میں ہر انسان پریشان اور تکلیف میں مبتلا ہے ۔ ایسے حالات میں ممبئی میں ایک جوڑا ایسابھی ہے جو اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے رمضان کے مقدس مہینے میں ضرورت مندوں تک سحری اور افطار پہنچانے کا کام کر رہے ہیں تاکہ روزہ میں کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ جہاں لوگ کورونا کے خوف سے اسپتالوں میں جانے سے ہچکچا رہے ہیں وہیں یہ جوڑا اسپتالوں میں ضرورت مندوں تک کھانا پہنچانے میں لگے ہیں۔ ممبئی کے ملاڈ مالونی سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کا نام فیاض شیخ اور مژگاں شیخ ہے۔ یہ مالونی کے امبوج واڑی کے جھوپڑ پٹی میں اسکول چلاتے ہیں۔


ٹرسٹی فیاض شیخ جو پرفیومس کی ایک مشہور کمپنی میں منیجر تھے لیکن ان دنوں ان کی نوکری چلی گئی ہے۔ ان کی اہلیہ مژگاں شیخ اسکول میں پرنسپل ہیں۔ اور امبوج واڑی میں گزشتہ دس برسوں سے zelنام کی اسکول چلاتی ہیں۔ فیاض شیخ کی ملازمت جانے کے بعد ان کے پاس جو بھی رقم جمع تھی اسی سے ضرورت مندوں کو کھانا فراہم کرنے کا کام شروع کردیا اور اب کچھ لوگ ان کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔




فیاض کا کہنا ہے کہ جو کچھ اللہ نے دیا ہے ،اسی میں سے لوگوں کو کھانا کھلانے کا کام کر رہے ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں بہت سے لوگوں کو روزگار کا مسئلہ ہے اور بہت سارے لوگوں کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو نا پڑا یے جس کی وجہ سے لوگوں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔



ایسی صورتحال میں ہم بس لوگوں کی تھوڑی بہت مدد کررہے ہیں۔ یادرہے کہ پچھلے سال لاک ڈاؤن میں اسی جوڑے نے اپنے پی ایف کی رقم سے لوگوں کے گھروں میں راشن پہنچا نےکا کام کیا تھا۔ ساتھ ہی جس اسکول کو چلاتے تھے ان اسکول کے بچوں کی 3 ماہ کی فیس تک معاف کردی تھی۔



واضح رہے کہ گزشتہ سال جب کورونا شروع ہوا تھا اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہوا اس دوران فیاض اور ان کی اہلیہ مالونی کے امبوج واڑی جھو پڑ پٹی کا اسکول چلا رہے تھے اور اپنے طلباء اور علاقے کے گھروں میں مسلسل راشن تقسیم کررہے تھے اور جب راشن دینے کے لئے پیسےختم ہوگئے اور ٹیچروں کو دینے کے لئے تنخواہ تک نہیں بچی تو اسکول کی پرنسپل نے اپنے شوہر کے پی ایف کی رقم جو گھر خریدنےکے لئے نکالے تھے اس پیسے کو غریبوں میں راشن باٹنے میں لگا دیا۔



صرف اتنا ہی نہیں اپنے اسکول کے تمام بچوں کی 3 ماہ کی فیس بھی معاف کردی تھی.فیاض شیخ اور ان سے وابستہ سبھی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں دوسروں کے کام آنا چاہئے یہی انسانیت ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 30, 2021 05:53 PM IST