ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

IndiaFightsCOVID19 : حوصلے بلند ہوں تو ہر جنگ جیتی جاسکتی ہے، پٹنہ کی 105 سالہ خاتون اور اہل خانہ نے کورونا کو ہرایا

کہتے ہیں حوصلے بلندہوں تو کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ بس صبر و تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل پیرا ہونے کی حاجت ہے اور انہیں صبر اور جذبے کا مظاہرہ 105 سالہ کورونا کی مریض خاتون بزرگ نے کیا ہے۔

  • Share this:

ملک میں کورونا کا قہر جاری ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کورونا کا خوف بڑھتا جا رہا ہے ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے کورونا کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن اس درمیان کچھ راحت بھری خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ بچے، بڑے ، بوڑھے کورونا سے صحت یاب ہونے میں کامیابی حاصل کرتے نظر آرہے ہیں۔ کئی خبریں ایک کے بعد ایک سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے لوگوں نے جنگ جیتی ہے۔ وہیں ایک اور خبر پٹنہ سے ہے۔ کہتے ہیں حوصلے بلندہوں تو کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ بس صبر و تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل پیرا ہونے کی حاجت ہے اور انہیں صبر اور جذبے کا مظاہرہ 105 سالہ کورونا کی مریض خاتون بزرگ نے کیا ہے۔ اس خاتون کا پورا خاندان کووڈ سے متاثر ہوا تھا لیکن انہوں نے ہمت بنائے رکھی۔ حوصلہ اور ہمت کے ساتھ انسان ہر جنگ جیت سکتا ہے۔


وہیں ایک اور راحت بھری خبر کے ساتھ حوصلہ اور ہمت کا مظاہرہ نوے سالہ کورونا کی مریض خاتون بزرگ نے کیا۔ جنہوں نے تیرہ دنوں میں ہی کورونا کوشکست دے دی۔ بھوپال کی باشندہ دلیپ کور کوبارہ اپریل کو ایک پرائیوٹ اسپتال میں داخل کرایاگیا تھا۔ تیرہ دن کے علاج کے بعدوہ اسپتال سے شفایاب ہو کر نکلیں۔ ان کےاہل خانہ نےآکسیجن لیول کافی کم ہونے کی وجہ سے دلیپ کور کو اسپتال میں ایڈمٹ کرایاتھا۔یہ سبق آموز واقعہ ان تمام لوگوں کو درس دیتا ہے جو کورونا کے نام سے ہی خوف زدہ ہوجاتے ہیں اور گھبرانے لگتے ہیں بلکہ ایسے وقت میں طاقت وقوت کامظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوروناسے جنگ جیتنے میں آسانی ہو۔


ملک میں کورونا کا قہر جاری ہے ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کورونا کا خوف بڑھتا جا رہا ہے ۔ پچھلے کچھ دنوں سے کورونا کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن زمین سطح پر اس کے روک تھام کے لئے جو قدم اٹھائے گئے ہیں ۔۔وہ ناکافی معلوم ہورہے ہیں ۔۔اسپتالوں میں آکسیجن اور بیڈس کی کمی ہے ۔۔غریب ۔۔امیر سبھی کے سامنے جان بچانے کے لالے لگے ہوئے ہیں ۔۔۔اموات کا آنکڑا دن بدن خوفناک ہوتا جا رہا ہے ۔۔خاص بات یہ ہے کہ کورونا کی یہ وبا اب دیہی علاقوں اور گاؤن گاؤن تک پہنچ رہی ہے ۔۔ایسے خطر مزید بڑھ گیا ہے ۔۔۔سوال یہی اٹھتا ہے کہ آخر کورونا کا یہ طوفان کیسے تھمے گا۔۔کورونا پر قابو پانے کے لئے اب کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس پرخطر ماحول میں اطمنان کی بات یہ ہے کہ ۔۔لوگ ایک دوسری کی مدد کر رہے ہیں ۔۔ایسے مشکل حالات میں کئی تنظیموں نے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔۔بہت سے لوگ بلا لہاظ مذہب و ملت


ملک میں کورونا کا قہر جاری ہے ۔۔ہر گزرتے دن کے ساتھ کورونا کا خوف اور در بڑھتا جا رہا ہے ایک طرف جہاں کورونا کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے تو وہیں اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہورہاہے لیکن اس پرخطر ماحول میں اطمینان کی بات یہ ہے کہ لوگ ایک دوسری کی مدد کر رہے ہیں ۔ ایسے مشکل حالات میں کئی تنظیموں نے مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔ بہت سے لوگ بلا لحظ مذہب و ملت مدد کے لئے آگے آرہے ہیں ۔ مسجد اور مندر اور درگاہوں میں کورونا وارڈ بنا دیئے گئے ہیں۔ ۔ہندو، مسلم ، سکھ عیسائی سبھی مذاہب کے لوگ اس مشکل وقت میں عوام کی مدد کے لئے سامنے آرہے ہیں اور یہی ہندوستان کی ثقافت تہذیب ہے، جہاں ایک دوسرے کا درد ابھی بھی سمجھا جاتا ہے۔ وہیں کچھ ایسے ہی لوگ بھی ہیں جو اس مشکل گھڑی میں پریشان حال لوگوں کے لئے فرشتہ بن کر سامنے آئے ہیں۔

لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کورونا کے اس مشکل دور سے باہر کب نکلیں گے۔ کیا اب یہ مان لیا جائے ۔ کہ موجودہ وقت کورونا کا سب سے خطرناک دور ہے اور اگر اس پر قابو پالیا جائے تو آگے حالات بہتر ہو جائیں گے لیکن پھر سوال یہی اٹھتا ہے کہ موجودہ مشکل دور سے باہر کیسے نکلا جائے اور سب سے اہم یہ کہ اس خطرناک دورمیں بچا کیسے جائے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 28, 2021 03:28 PM IST