ہوم » نیوز » وطن نامہ

کچھ مہینے تک کووی شیلڈ کو نہیں کیا جائے گا ایکسپورٹ ، پرائیویٹ مارکٹ کو بھی نہیں دیں گے : ادار پونہ والا

ہندوستان میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کووی شیلڈ نام سے آکسفورڈ کی کورونا ویکسین بنارہی ہے ۔ اس کمپنی کے سی ای او ادار پونہ والا نے کہا کہ ویکسین کی پانچ کروڑ ڈوز تقسیم کیلئے تیار ہیں ۔ ہمیں سرکار سے خریداری آرڈر کا انتظار ہے ۔

  • Share this:
کچھ مہینے تک کووی شیلڈ کو نہیں کیا جائے گا ایکسپورٹ ، پرائیویٹ مارکٹ کو بھی نہیں دیں گے : ادار پونہ والا
کووی شیلڈ کا ابھی نہیں ہوگا ایکسپورٹ ، پرائیویٹ مارکٹ کو بھی نہیں دیں گے : ادار پونہ والا (PTI)

دنیا کے 16 ممالک میں کورونا ویکسین کا پروسیس شروع ہوچکا ہے ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین آکسفورڈ ایسٹراجینیکا کے ایمرجنسی استعمال کو ہندوستانی حکومت سے منظوری مل گئی ہے ۔ ہندوستان میں یہ ویکسین کووی شیلڈ کے نام سے آئے گی ۔ ویکسین کیسے اور کب سے ملے گی ؟ کتنے وقت میں کمپنی پروڈکٹ سے لے کر ڈیلیوری تک کا عمل پورا کرے گی ، ان سبھی امور پر سیرم انسٹی ٹویٹ آف انڈیا کے چیف ایگزیکٹو افسر ادار پونہ والا نے جانکاری دی ۔ پونہ والا نے کہا کہ فی الحال کچھ مہینوں تک کووی شیلڈ ویکسین کو دیگر ممالک میں ایکسپورٹ نہیں کیا جائے گا ۔


ہندوستان میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کووی شیلڈ نام سے آکسفورڈ کی کورونا ویکسین بنارہی ہے ۔ اس کمپنی کے سی ای او ادار پونہ والا نے کہا کہ ویکسین کی پانچ کروڑ ڈوز تقسیم کیلئے تیار ہیں ۔ ہمیں سرکار سے خریداری آرڈر کا انتظار ہے ۔ پونہ والا نے کہا کہ اس سال تیار ہوئے زیادہ تر ٹیکوں کو پہلے سے ہی امیر ممالک نے ریزور کرلیا ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑے ویکسین تیار کرنے والے کمپنی سیرم کے ترقی پذیر ممالک کے لئے ویکسین بنانے کا زیادہ امکان ہے۔


ایسوسی ایٹیڈ پریس کو فون پر دئے گئے انٹرویو میں ادار پونہ والا نے کہا کہ اتوار کو ڈرگس ریگولیٹری نے کووی شیلڈ کے ایمرجنسی استعمال کو منظوری دی ہے ، لیکن سیرم ادارہ پہلے ملک کی اقتصادی طور پر کمزور آبادی تک ویکسین کی ڈوز پہنچائے گی ۔ بعد میں ویکسین کے شاٹس کو ایکسپورٹ کیا جائے گا ۔ پونہ والا نے یہ بھی کہا کہ کمپنی ابھی پرائیویٹ مارکیٹ میں ویکسین بھی نہیں بیچے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ہم صرف ہندوستانی حکومت کو کورونا ویسکین کی ڈوز دیں گے ۔ پرائیویٹ مارکیٹ کو بیچنے کے بارے میں فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔


پوہ والا نے یہ بھی بتایا کہ پرائیویٹ بازار میں اس ویکسین کی ایک خوراک کی قیمت ایم آر پی کے حساب سے 1000 روپے ہوسکتی ہے۔ وہیں بیرون مالک میں ایکسپورٹ کے اعتبار سے اس ویکسین کی ایک خوراک کی قیمت تین سے پانچ ڈالر کے درمیان ہوگی ۔ ہم جن ممالک کے ساتھ ڈیل کریں گے ، اس کی بنیاد پر یہ اوپر نیچے ہوسکتا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس میں مارچ ۔ اپریل تک وقت لگ سکتا ہے ، کیونکہ سرکار نے ہمیں اس سے پہلے ایکسپورٹ کرنے سے منع کردیا ہے ۔ ہم اس کو پرائیویٹ مارکیٹ کو نہیں دے سکتے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 04, 2021 02:23 PM IST