ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندوستان کےٹاپ وائرلوجسٹ ڈاکٹرشاہد جمیل،سائنسی مشاورتی گروپ کےصدر کے عہدے سے مستعفی،ڈاکٹر شاہد جمیل کی خدمات پرایک نظر

ڈاکٹر شاہد جمیل (Dr Shahid Jameel) نے اپنا استعفیٰ مرکزی وزارت صحت اور وزارت سائنس کے محکمہ بایوٹیکنالوجی (Union health ministry and the science ministry’s biotechnology department) کو روانہ کیا ہے۔

  • Share this:

ہندوستان کے معروف وائرلوجسٹ اور مشہور سائنسدان ڈاکٹر شاہد جمیل (Dr Shahid Jameel) نے حکومتی سائنسی مشاورتی گروپ (scientific advisory group) کے سربراہ کے عہدے سے اتوار کو استعفیٰ دے دیا ہے۔یہ سائنسی مشاورتی گروپ ہندوستان میں 10 اہم ترین سرکاری لیبارٹریز کا کنسورتیم (consortium) ہے۔ جو کہ کورونا وائرس کی نئی اقسام اور تغیر پذیر صورت حال سے متعلق تحقیقیات کرتے ہوئے نئے انکشافات کومنظرعام پرلاتی ہے۔


  • دوسری لہر کی پہلے ہی پیش گوئی کی تھی:


معروف وائرلوجسٹ اور مشہور سائنسدان ڈاکٹر شاہد جمیل نے چند روز قبل ہی کہا تھا کہ ہندوستان میں عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کی دوسری لہر میں انتہا درجہ کی شدت ہوگی اور اس میں لوگوں کو زیادہ متاثر کرنے کی صلاحیت ہے۔ لیکن اس دوران ان کی ان باتوں کو نظر انداز کیاگیا۔ڈاکٹر شاہد جمیل نے اپنا استعفیٰ مرکزی وزارت صحت اور وزارت سائنس کے محکمہ بایوٹیکنالوجی (Union health ministry and the science ministry’s biotechnology department) کو روانہ کیا ہے۔


  • نیو یارک ٹائمز کا گیسٹ مضمون:


ڈاکٹر جمیل نے اس سے قبل معروف اخبار نیو یارک ٹائمز میں ہندوستان میں کووڈ۔19 وبا پر ایک نہایت ہی جامع اور تفصیلی مضمون لکھا۔ جس میں انھوں نے لکھا کہ ان کے ساتھی سائنسدانوں کو ثبوت پر مبنی پالیسی سازی کے برخلاف حکومتی ضد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس اخبار کے ذریعے جن دو سینئر کنسورشیم سائنسدانوں نے رابطہ کیا ، انھوں نے ڈاکٹر جمیل کے استعفی کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے سے انکار کردیا۔ ان میں سے ایک نے کہا ہے کہ ’’ڈاکٹر جمیل کے استعفیٰ ہم بے حد مغموم ہیں۔ وہ پوری قوم کا اثاثہ ہے۔ ہم ان کی خدمات کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کرسکتے‘‘۔علامتی تصویر

  • سائنسی مشاورتی گروپ کیا کام کرتا ہے؟


واضح رہے کہ ڈاکٹر شاہد جمیل نے کنسورتیم میں سائنسی مشاورتی گروپ کی سربراہی کی۔ اس کنسورتیم کو ملک بھر میں کورونا وائرس کی مختلف شکلوں کی ترتیب دینے (sequencing coronavirus variants) کی ذمہ داری دی گئی ہے تاکہ وہ اس وبا کی مختلف حالتوں اور کیفیات کے بارے میں معلوم کرسکیں اور اگر ممکن ہو تو مستقبل میں ہونے والی تبدیلیوں کی پیش گوئی بھی کرے۔

کنسورتیم کی کاوشوں سے پتہ چلتا ہے کہ B.1.617 نامی کورونا وائرس کی مئی قسم پچھلے مختلف حالتوں کے مقابلے میں زیادہ متعدی اور مہلک ہے۔ جس کا انکشاف فروری کے دوران ہی کیا گیا تھا جو کہ ہندوستان بھر میں انفیکشن میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے B.1.617 کو تشویش کی ایک قسم (variant of concern) کے طور پر گذشتہ ہفتے نامزد کیا تھا۔

  • کون ہے ڈاکٹر شاہد جمیل؟


دی جارجیا انسٹی ٹیوٹ فاف کلوبل ہیلتھ (The George Institute For Global Health) کے مطابق ڈاکٹر شاہد جمیل اپریل 2013 سے ویلکم ٹرسٹ / ڈی بی ٹی انڈیا الائنس (Wellcome Trust/DBT India Alliance) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔

انہوں نے واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی (Washington State University ) سے بائیو کیمسٹری (Biochemistry) میں پی ایچ ڈی کی اور کولوراڈو میڈیکل اسکول (University of Colorado Medical School,USA) سے مولیکولر وائرولوجی (Molecular Virology) میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

انڈیا الائنس میں شامل ہونے سے پہلے ڈاکٹر جمیل 25 سال سے زیادہ عرصہ سے بین الاقوامی مرکز برائے جینیٹک انجینئرنگ اینڈ بائیوٹیکنالوجی (International Centre for Genetic Engineering and Biotechnology New Delhi) میں ویرولوجی کے گروپ لیڈر رہے، جہاں ان کی تحقیق ہیپاٹائٹس ای اور ایچ آئی وی (hepatitis E virus and HIV) پر مرکوز رہی۔

ڈاکٹر شاہد نے مختلف جدید سائنسی موضوعات پر 120 سے زیادہ نہایت اہم اور تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں اور حکومت ہند اور عالمی ادارہ صحت (World Health Organisation) کی مختلف جائزہ اور مشاورتی کمیٹیوں پر کام کیا ہے۔

ڈاکٹر جمیل کو میڈیکل سائنسز میں شانتی سوارپ بھٹ نگر ایوارڈ (Shanti Swarup Bhatnagar Award in Medical Sciences) ملا، جو ہندوستان کا سب سے بڑا کیریئر ریسرچ ایوارڈ ہے۔ وہ انڈیل نیشنل سائنس اکیڈمی (Indian National Science Academy)، انڈین اکیڈمی آف سائنسز (Indian Academy of Sciences) اور نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (National Academy of Sciences) کے فیلو بھی ہیں۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 17, 2021 03:33 PM IST