ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

اننت ناگ: جڑوا بچوں کو جنم دینے والی فوت ہوئی خاتون کا کوروناوائرس ٹیسٹ پازیٹو، جنازے میں کثیرتعداد میں لوگ ہوئے شامل

اننت ناگ کے زچہ بچہ اسپتال میں فوت ہوئی خاتون کا کورونا ٹیسٹ آیاپازیٹو۔ ڈبلیو ایچ او کی گائڈ لائنز کی خلاف ورزی کے ساتھ خاتون اور اس کے نوزائدہ بچوں کی ہوئی تدفین۔ قواعد و ضوابط کے مطابق ریڈ زون کے مریض کی اسپتال میں موت کے بعد اس کی لاش کو تب تک اہل خانہ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا ہے جب تک کہ اس کے ٹیسٹ رپورٹ نہیں آتے ہیں۔ یا پھر آخری رسومات کورونا مریضوں کی موت کے بعد ڈبلیو ایچ او ضوابط کے تحت انجام دۓ جاتے ہیں۔ لیکن خارپورہ میں نہ صرف خاتون کی میت مذہبی رسومات کے ساتھ دفنائی گئ بلکہ اس کے جنازے میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔

  • Share this:
اننت ناگ: جڑوا بچوں کو جنم دینے والی فوت ہوئی خاتون کا کوروناوائرس ٹیسٹ پازیٹو، جنازے میں کثیرتعداد میں لوگ ہوئے شامل
اننت ناگ کے زچہ بچہ اسپتال میں فوت ہوئی خاتون کا کورونا ٹیسٹ آیاپازیٹو۔ ڈبلیو ایچ او کی گائڈ لائنز کی خلاف ورزی کے ساتھ خاتون اور اس کے نوزائدہ بچوں کی ہوئی تدفین۔ قواعد و ضوابط کے مطابق ریڈ زون کے مریض کی اسپتال میں موت کے بعد اس کی لاش کو تب تک اہل خانہ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا ہے جب تک کہ اس کے ٹیسٹ رپورٹ نہیں آتے ہیں۔ یا پھر آخری رسومات کورونا مریضوں کی موت کے بعد ڈبلیو ایچ او ضوابط کے تحت انجام دۓ جاتے ہیں۔ لیکن خارپورہ میں نہ صرف خاتون کی میت مذہبی رسومات کے ساتھ دفنائی گئ بلکہ اس کے جنازے میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اننت ناگ کے زچہ بچہ اسپتال (Hospital) میں سنیچر کے روز درد زہ میں مبتلا خارپورہ کوکرناگ کی خاتون کے فوت ہونے کے بعد اس کے کورونا ٹیسٹ مثبت( coronavirus test Positive) آنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ جس کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کھارپورہ ریڈ زون سے آنے والی اس خاتون نے سنیچر کو اسپتال میں جڑواں بیٹوں کو جنم دیا تھا جس کے بعد ہو اپنے نوزائیدہ بچوں سمیت فوت ہوگئ۔


اس دوران خاتون کے رشتہ داروں نے ڈاکٹروں پر خاتون کے ریڈ زون میں رہائش کی وجہ سے لاپرواہی کا الزام لگایا اور اسپتال عملے کو تینوں اموات کےلئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ الزامات کی بنیاد پر اگرچہ انتظامیہ نے تحقیقات کا حکم دیا لیکن اسپتال انتظامیہ پر اس دوران ڈبلیو ایچ او گائڈ لاینز کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے۔ کیونکہ ریڈ زون سے منسلک اس خاتون اور نوازائدہ بچوں کی لاشوں کو ان کے اہل خانہ کے سپرد کرتے وقت پروٹوکول کو فالو نہ کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔


قواعد و ضوابط کے مطابق ریڈ زون کے مریض کی اسپتال میں موت کے بعد اس کی لاش کو تب تک اہل خانہ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا ہے جب تک کہ اس کے ٹیسٹ رپورٹ نہیں آتے ہیں۔ یا پھر آخری رسومات کورونا مریضوں کی موت کے بعد ڈبلیو ایچ او ضوابط کے تحت انجام دۓ جاتے ہیں۔ لیکن خارپورہ میں نہ صرف خاتون کی میت مذہبی رسومات کے ساتھ دفنائی گئ بلکہ اس کے جنازے میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔


تاہم کورونا کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد اب نہ صرف علاقے کے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڈ گئ ہے بلکہ ہسپتال کا عملہ بھی دم بخود ہو گیا اور اطلاعات کے مطابق کی ڈاکٹروں سمیت دیگر عملے کو بھی کارینٹین کیا گیا ہے۔ ادھر لوگوں نے ہسپتال انتظامیہ پر لاپرواہی کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے لوگوں کی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے تاہم جی ایم سی اننت ناگ کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت گیلانی کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے لاش کو سپرد کرتے وقت ڈبلیو ایچ او پروٹوکول کا برابر خیال رکھا ہے اور ایسے میں اگر لوگوں نے خاتون کی آخری رسومات میں شرکت کی ہے تو یہ ایک سنگین مسلہ ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔

وہیں معاملے کی حساسیت کے تناظر میں ڈی سی اننت ناگ بشیر احمد ڈار نے پہلے ہی اس واقع کی انکوائری کا حکم دیا ہے اور اب جبکہ خاتون کے کورو نا نتائج محبت آۓ ہیں ایسے میں ہسپتال انتظامیہ پر بھی کئ انگلیاں آٹھ رہی ہیں اور لوگ ملوث افراد کی لاپرواہی پر کاروائی کی مانگ کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کی بے حسی اور عدم سنجیدگی پر بھی نالاں ہیں۔ واضح رہے کہ اس خاتون میں موت کے ساتھ ہی کشمیر میں کورونا مریضوں کی ساتویں موت واقع ہوئی ہے۔ اگرچہ انتظامیہ خاتون کی موت کو کورونا کے ساتھ نہیں جوڑتے ہیں لیکن اس بات کی تصدیق ہوئ ہے کہ خاتون کی موت کے بعد اسکے خون کے حاصل کۓ گئے نمونے کورونا کےلئے مثبت پاۓ گۓ ہیں۔ جو یقینی طور پر ایک لمحہ فکریہ ہے۔
First published: Apr 26, 2020 11:31 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading