ہوم » نیوز » وطن نامہ

بھدرواہ میں سیاحت سے جڑے لوگوں کو جھیلنا پڑرہا ہے بھاری نقصان

کورونا وبا کے چلتے یہ سیاحتی مقام بھی سنسان پڑا ہوا ہے اور لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ مبشر ایک ٹیکسی اوپریٹر نے بتایا مارچ سے لے کر اکتوبر۔ نومبر تک ہم سیاحوں کو سیاحتی مقامات پر لے جاتے تھے لیکن اس بار ہماری گاڑیاں گزشتہ تین ماہ سے کھڑی ہیں۔

  • Share this:
بھدرواہ میں سیاحت سے جڑے لوگوں کو جھیلنا پڑرہا ہے بھاری نقصان
مبشر ایک ٹیکسی اوپریٹر نے بتایا مارچ سے لے کر اکتوبر، نومبر تک ہم سیاحوں کو سیاحتی مقامات پر لے جاتے تھے لیکن اس بار ہماری گاڑیاں گزشتہ تین ماہ سے کھڑی ہیں۔

جموں خطے کا بھدرواہ علاقہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران اہم سیاحتی مقام اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ کورونا وبا کے چلتے یہ سیاحتی مقام بھی سنسان پڑا ہوا ہےاور لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ قدرتی حُسن سے مالامال بھدرواہ علاقے کی معیشت کا 40فیصد روزگار سیاحت پر منحصر ہے۔ مینی کشمیر کے نام سے مشہور اس علاقے میں سیاحت کے لئے کافی مواقع موجود ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہاں رکارڈ توڑ سیاح پہنچ رہے تھے لیکن کوویڈ وبا کے بعد یہاں بھی حالات کافی ابتر ہیں۔ راشد چودھری ایک مقامی تاجر نے بتایا سب سے زیادہ نقصان اگر ہوا ہے اس وبا میں تو وہ کاروباری طبقے کو ہوا ہے کاروباری طبقے کی کمر ٹوٹ گئی ہے تمام سیاحتی مقامات ویران پڑے ہوے ہیں۔ سیاح یہاں آتے تھے ان سے ہمیں کاروبار میں کافی فائدہ ہوتا تھا لیکن پچھلے دو سالوں سے یہاں کوئی بھی سیاح نہیں آرہا ہے جس سے ہمیں کافی نقصان جھیلنا پڑ رہا ہے۔ ٹور اینڈ ٹریول اسوسیشن کے صدر تارک چودھری نے کہا ممبئی سے مارچ میں Bollywood سے بھدرواہ میں شوٹنگ کے لئے ایک ایجنسی ہمارے پاس آنے والی تھی انہوں نے ایڈوانس بھی دے دیا تھا لیکن جیسے ہی ان کی آنے کی تاریخ پختہ ہو گئی۔ کورونا نے ایسی دستک دی کہ وہ پروجیکٹ ہی بھدرواہ کے ہاتھ سے نکل گیا۔ چودھری نے مزید کہا اس پروجیکٹ کی تیاری کے لئے تمام گیسٹ ہاوس اور ہوٹل مالکان نے ان کی ضرورت کے مطابق سامان تیار کر رکھا تھا لیکن کرونا نے سب کے سپنوں پر پانی پھیر دیا۔ اگر یہ پروجیکٹ بھدرواہ میں ہو گیا ہوتا تو بھدرواہ کو تین سے پانچ کروڑ تک کا فائدہ ہوتا چاہے وہ ریڑھی والا ہو، پونی والا ہو۔ گاڑی والا ہو یا تاجر طبقہ لیکن کرونا نے سب تباہ کر دیا۔


سیاحوں کی آمد نا ہونے کے برابر سے بھدرواہ میں کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحت سے جڑے افراد کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ روی کمار ہوٹل کے مالک نے بتایا ہم نے پوری طرح سے سیاحوں کی خوش آمدید کے لئے پوری تیاریاں کر رکھی تھی ہم نے بنکوں سے قرضہ اُٹھا کر اپنے ہوٹل کو تیار کیا تاکہ پچھلے سال جو نقصان ہوا تھا اُس کی بھر پائی ہو پائے۔ روی نے مزید کہا اس سال بھی ہمیں ایک بہت بڑے نقصان کو جھیلنا پڑرہا ہے۔ اس میں ہمیں بنک کی قسط دینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ ہم ایل جی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں ہمارے لئے کسی خصوصی پیکیج کا علان کیا جائے۔


مبشر ایک ٹیکسی اوپریٹر نے بتایا مارچ سے لے کر اکتوبر، نومبر تک ہم سیاحوں کو سیاحتی مقامات پر لے جاتے تھے لیکن اس بار ہماری گاڑیاں گزشتہ تین ماہ سے کھڑی ہیں۔ ہم پچھلے سال بھی کرونا کی وجہ سے بنکوں کی قسط ادا نہیں کر پائے۔ ہم پچھلے تین مہینوں سے گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور انتظار میں ہیں کب کرونا کا یہ قہر ختم ہو اور بھدرواہ پھر سے سیاحوں کی چہل پہل سے کھِل اُٹھے۔ مبشر نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی کہ ہمیں بنک کی قسطے معاف کی جائیں تاکہ ہم پھر سے کام کرنے کے لائق بنے۔ اپریل سے ستمبر تک بھدرواہ میں سیاحتی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں اس مرتبہ جون شروع ہونے پہ بھی سیاحتوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ Bhaderwah Development Authority کے CEO راجندر کھجوریا نے نیوز 18 کو بتایا رواں سال علاقے کی سیاحت کے لئے مایوس کون ثابت ہو رہا ہے ایسا لگ رہا تھا ٹوریسٹ سیزن بھدرواہ میں شروع ہو جائے گا لیکن کوویڈ کی دوسری لہر کے بعد ٹوریسٹ پھر سے رک گئے ہیں۔ BDA نے نومبر 2020سے ہی ٹوریسٹ اکٹیوٹی شروع کر دی تھی تاکہ یہ سال بھدرواہ کے لئے اور ٹوریزم کے لئے اچھا ثابت ہو۔ راجندر کھجوریا نے کہا اگر ہم سرکار کی دی گئی گائڈ لائنز کو فالو کرتے رہے مجھے پوری امید ہے بہت جلد ہی ٹوریزم کی ایکٹوٹی شروع ہو جائے گی اور ٹوریزم پھر سے چلنا شروع ہو جائے گا۔ بھدرواہ میں بھی رواں برس سیاحت سے جڑے افراد کچھ کمانے سے قاصر ہیں۔


متاثرہ افراد نے ایل جی حکومت سے مناسب امداد کی اپیل کی ہے۔ سائر حُسین جموں خطے کا بھدرواہ علاقہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران اہم سیاحتی مقام اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ کورونا وبا کے چلتے یہ سیاحتی مقام بھی سنسان پڑا ہوا ہےاور لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر گیا ہے۔ قدرتی حُسن سے مالامال بھدرواہ علاقے کی معیشت کا 40فیصد روزگار سیاحت پر منحصر ہے۔ مینی کشمیر کے نام سے مشہور اس علاقے میں سیاحت کے لئے کافی مواقع موجود ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہاں رکارڈ توڑ سیاح پہنچ رہے تھے لیکن کوویڈ وبا کے بعد یہاں بھی حالات کافی ابتر ہیں۔ راشد چودھری ایک مقامی تاجر نے بتایا سب سے زیادہ نقصان اگر ہوا ہے اس وبا میں تو وہ کاروباری طبقے کو ہوا ہے کاروباری طبقے کی کمر ٹوٹ گئی ہے تمام سیاحتی مقامات ویران پڑے ہوے ہیں۔ سیاح یہاں آتے تھے ان سے ہمیں کاروبار میں کافی فائدہ ہوتا تھا لیکن پچھلے دو سالوں سے یہاں کوئی بھی سیاح نہیں آرہا ہے جس سے ہمیں کافی نقصان جھیلنا پڑ رہا ہے۔ ٹور اینڈ ٹریول اسوسیشن کے صدر تارک چودھری نے کہا ممبئی سے مارچ میں Bollywood سے بھدرواہ میں شوٹنگ کے لئے ایک ایجنسی ہمارے پاس آنے والی تھی انہوں نے اڈوانس بھی دے دیا تھا لیکن جیسے ہی ان کی آنے کی تاریخ پختہ ہو گئی کرونا نے ایسی دستک دی کہ وہ پروجیکٹ ہی بھدرواہ کے ہاتھ سے نکل گیا۔

چودھری نے مزید کہا اس پروجیکٹ کی تیاری کے لئے تمام گیسٹ ہاوس اور ہوٹل مالکان نے ان کی ضرورت کے مطابق سامان تیار کر رکھا تھا لیکن کرونا نے سب کے سپنوں پر پانی پھیر دیا۔ اگر یہ پروجیکٹ بھدرواہ میں ہو گیا ہوتا تو بھدرواہ کو تین سے پانچ کروڑ تک کا فائدہ ہوتا چاہے وہ ریڑھی والا ہو، پونی والا ہو، گاڑی والا ہو یا تاجر طبقہ لیکن کرونا نے سب تباہ کر دیا۔ سیاحوں کی آمد نا ہونے کے برابر سے بھدرواہ میں کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحت سے جڑے افراد کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ روی کمار ہوٹل کے مالک نے بتایا ہم نے پوری طرح سے سیاحوں کی خوش آمدید کے لئے پوری تیاریاں کر رکھی تھی ہم نے بنکوں سے قرضہ اُٹھا کر اپنے ہوٹل کو تیار کیا تاکہ پچھلے سال جو نقصان ہوا تھا اُس کی بھر پائی ہو پائے۔ روی نے مزید کہا اس سال بھی ہمیں ایک بہت بڑے نقصان کو جھیلنا پڑرہا ہے۔ اس میں ہمیں بنک کی قسط دینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ ہم ایل جی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں ہمارے لئے کسی خصوصی پیکیج کا علان کیا جائے۔

مبشر ایک ٹیکسی اوپریٹر نے بتایا مارچ سے لے کر اکتوبر، نومبر تک ہم سیاحوں کو سیاحتی مقامات پر لے جاتے تھے لیکن اس بار ہماری گاڑیاں گزشتہ تین ماہ سے کھڑی ہیں۔ ہم پچھلے سال بھی کرونا کی وجہ سے بنکوں کی قسط ادا نہیں کر پائے۔ ہم پچھلے تین مہینوں سے گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور انتظار میں ہیں کب کرونا کا یہ قہر ختم ہو اور بھدرواہ پھر سے سیاحوں کی چہل پہل سے کھِل اُٹھے۔ مبشر نے ایل جی انتظامیہ سے اپیل کی کہ ہمیں بنک کی قسطے معاف کی جائیں تاکہ ہم پھر سے کام کرنے کے لائق بنے۔ اپریل سے ستمبر تک بھدرواہ میں سیاحتی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں اس مرتبہ جون شروع ہونے پہ بھی سیاحتوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ Bhaderwah Development Authority کے CEO راجندر کھجوریا نے نیوز 18 کو بتایا رواں سال علاقے کی سیاحت کے لئے مایوس کون ثابت ہو رہا ہے ایسا لگ رہا تھا ٹوریسٹ سیزن بھدرواہ میں شروع ہو جائے گا لیکن کوویڈ کی دوسری لہر کے بعد ٹوریسٹ پھر سے رک گئے ہیں۔ BDA نے نومبر 2020سے ہی ٹوریسٹ اکٹیوٹی شروع کر دی تھی تاکہ یہ سال بھدرواہ کے لئے اور ٹوریزم کے لئے اچھا ثابت ہو۔ راجندر کھجوریا نے کہا اگر ہم سرکار کی دی گئی گائڈ لائنز کو فالو کرتے رہے مجھے پوری امید ہے بہت جلد ہی ٹوریزم کی ایکٹوٹی شروع ہو جائے گی اور ٹوریزم پھر سے چلنا شروع ہو جائے گا۔ بھدرواہ میں بھی رواں برس سیاحت سے جڑے افراد کچھ کمانے سے قاصر ہیں۔ متاثرہ افراد نے ایل جی حکومت سے مناسب امداد کی اپیل کی ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 04, 2021 05:41 PM IST