ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

مرکزی حکومت کشمیری قیدیوں پر رحم کرے، 4 جی انٹرنیٹ بھی بحال کرے: عمر عبداللہ

عمر عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ کے باہر جمع ہونے والے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا: 'اس ریاست کی سیاست، اس ریاست کے حالات اور اس ریاست کے ساتھ پانچ اگست 2019 کو کیا گیا، اس پر میں کھل کر بات کروں گا۔ لیکن پہلے دو چیزیں ہیں۔ ایک تو اس کورونا وائرس نامی بیماری سے نجات ملے۔ ہمیں اس سے بچنے کے لئے حکومت کی طرف سے جاری ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ اپنے آپ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی بچائیں'۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 24, 2020 07:17 PM IST
  • Share this:
مرکزی حکومت کشمیری قیدیوں پر رحم کرے، 4 جی انٹرنیٹ بھی بحال کرے: عمر عبداللہ
سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ

جموں۔کشمیر: آٹھ ماہ کی طویل نظربندی کے بعد رہائی پانے والے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیری قیدیوں کی رہائی اور تیز رفتار والی تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا خطرہ ٹلنے کے بعد وہ دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کے بٹوارے پر کھل کر بات کریں گے۔

عمر عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ کے باہر جمع ہونے والے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا: 'اس ریاست کی سیاست، اس ریاست کے حالات اور اس ریاست کے ساتھ پانچ اگست 2019 کو کیا گیا، اس پر میں کھل کر بات کروں گا۔ لیکن پہلے دو چیزیں ہیں۔ ایک تو اس کورونا وائرس نامی بیماری سے نجات ملے۔ ہمیں اس سے بچنے کے لئے حکومت کی طرف سے جاری ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ اپنے آپ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی بچائیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'اس کے ساتھ ساتھ ہمارے جتنے سارے لوگ بند ہیں۔ چاہے وہ ریاست کے اندر بند ہوں یا ریاست کے باہر بند ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مشکل حالات میں مرکزی حکومت ان پر رحم کرے اور انہیں گھر واپس لائے۔ ان کو رہا کرے۔ اس کے علاوہ میری مرکزی حکومت سے اپیل ہے کہ خدا را مواصلاتی پابندی کو ہٹایا جائے۔ تیز رفتار والی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کی جائیں۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہمیں کورونا وائرس سے بچنے کا سبق انٹرنیٹ سے حاصل کرنا چاہیے لیکن سست رفتار والی انٹرنیٹ خدمات پر یہ ممکن نہیں ہے'۔

عمر عبداللہ نے پانچ اگست 2019 کے فیصلوں پر بات کرتے ہوئے کہا: 'میں کورونا وائرس سے نجات ملنے کے بعد دفعہ 370 اور ریاست کی تقسیم پر کھل کر بات کروں گا'۔

دریں اثنا عمر عبداللہ نے اپنی رہائی کے بعد ٹویٹر پیغامات کے ذریعے اپنے وکلا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قرنطینہ میں جانے والوں اور لاک ڈاؤن میں رہنے والوں کو مشورے دینے کے لئے میرے پاس کئی ماہ کا تجربہ ہے۔

عمر عبداللہ نے قریب آٹھ ماہ کی نظر بندی کے خاتمے کے فوراً بعد اپنے ٹویٹر ہینڈل جس کو ان کی بہن سارہ عبداللہ گذشتہ چند ہفتوں سے چلارہی تھیں، کو اپنی تحویل میں لے کر خود ٹویٹ کرنے کے سلسلے کو بحال کیا۔
.
First published: Mar 24, 2020 07:16 PM IST