ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیرسے باہر لاک ڈاؤن میں پھنسے کشمیری بے یارو مددگار،حکومت سے لگائی مددکی گوہار

پچھلے دو دن میں ایک مثبت بات یہ ہوئی کہ یہ کہ شملہ سے 50 کے قریب مزدوروں کو گھر واپس لایا گیا۔ وہیں کوٹہ سے آج 372طلبا کو گھر واپس لایاجارہا ہے۔ اس بات کی جانکاری سرکاری ترجمان روہت کنسل نے ٹویٹ کے ذریعہ دی ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیرسے باہر لاک ڈاؤن میں پھنسے کشمیری بے یارو مددگار،حکومت سے لگائی مددکی گوہار
جموں و کشمیر سے باہر لاک ڈاؤن میں پھنسے کشمیری بے یار و مدد گار ،حکومت سے لگائی مدد کی گوہار

پانچ کشمیری طالبات ایک چھوٹے سے کمرے میں، ڈری سہمی ، گھر واپس لیجانے کی اپیل کر رہی ہیں۔ہم حوز خاص دہلی میں ایک پرائیویٹ ہوسٹل میں پھنسی ہیں۔کھانے کو اب کچھ نہیں بچا، مکان مالک کرایہ مانگ رہا ہئے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ کیا کریں ؟ ہماری کوئی نہیں سنتا۔جہاں فون کرتے ہیں بس یہی جواب ملتا ہئے ،خود منیج کرو ۔" ان لڑکیوں کا ویڈیو اب وائرل ہوگیا ہے۔لیکن یہ صرف ان 5 طالبات کا معاملہ نہیں ہئے۔ کشمیر سے باہر ملک کی کئی ریاستوں میں سینکڑوں کشمیری مزدور' شال تاجر' طلبا و طالبات لاک ڈاؤن میں پھنسے ہیں اور ان کی حالت کچھ ایسی ہی ہے۔ پنجاب، دہلی، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش سمیت کئی ریاستوں سے روانہ درجنوں ایسے ویڈیو سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن چینلوں کو ملتے ہیں ۔جن کے ذریعے لاک ڈاؤن میں پھنسے یہ لوگ اپنی کسم پرسی اور مشکلات بیان کرتے ہیں۔


کشمیر سے سردیوں میں ہزاروں لوگ روزی کی تلاش میں ملک کی ان ریاستوں کا دخ کرتے ہیں ۔ کوئی شال کی تجارت کرتا ہیے اور کوئی تعلیم کے حصول کے لئے۔ سردیاں ختم ہوتے ہی یہ لوگ کشمیر لوٹ آتے ہیں لیکن اس بار لاک ڈاؤن کے چلتے اکثر لوگ وہیں پھنس کے رہ گئے۔کپواڑہ کے ایک شال تاجر فاروق احمد نے کہا " ہم پنجاب کے فیروزپور میں پھنسے ہیں۔جو کمایا تھا وہ لاک ڈاؤن میں ختم ہوگیا۔ اب کرایہ تک نہیں بچا۔ کیا ہماری ریاستی سرکار بہری ہوگئی ہئے۔ ایک طرف فاقہ کشی کی نوبت آگئی اور اس پر گرمی ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کریں. ہم کشمیر میں کورنٹاین میں رہیں گے لیکن یہاں سے نکلوائیے۔


ریاستی سرکار نے دہلی میں کشمیر کے ریزیڈنٹ کمشنر کو نوڈل افسر مقرر تو کیا اور لوگوں کو کئی ہیلپ لاین نمبر بھی دیئے گئے لیکن سرینگر کے ایک تاجر مظفر احمد نے بتایا کہ اب ہیلپ لاین پر بیٹھے لوگ بھی ہیلپ لیس دکھائی دے رہئے ہیں۔ " ہم نے 800 افراد کی ایک فہرست انکو دی ، ڈویژنل کمشنر سے لیکر گورنر کے مشیر تک اپنی حالت زار پہنچائی لیکن لا حاصل۔ انہوں نے کہا۔ادھر کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں کشمیر سے باہر لوگوں کو واپس گھر لانے کی اپیل کررہی ہیں لیکن ان کا بھی کوئی اثر نہیں ہورہا۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ کچھ ریاستوں میں ان لوگوں کو کھانے کے پیکٹ دئیے گئے۔ رکن پارلیمان میر فیاض نے نیوز18 کو بتایا۔میں حیران ہوں کہ اگر گجرات ' اتر پردیش جیسی ریاستیں اپنے لوگوں کو گھر واپس لیجانے کے لئے گاڑیاں بھیج سکتی ہیں تو پھر ہماری حکومت کیوں نہیں۔ کیا ہمارے لوگ بے کس ہیں۔ان کو واپس لاکر یہاں کورنٹاین مراکز پر رکھا جا سکتا ہے۔ اب اگر سرکار نہیں لاتی اور یہ لوگ خود لکھن پور پہنچ جاتے ہیں تو انکو واپس بھیج دیا جاتا ہئے۔


پچھلے دو دن میں ایک مثبت بات یہ ہوئی کہ یہ کہ شملہ سے 50 کے قریب مزدوروں کو گھر واپس لایا گیا۔ وہیں کوٹہ سے آج 376طلبا کو گھر واپس لایاجارہا ہے۔ اس بات کی جانکاری سرکاری ترجمان روہت کنسل نے ٹویٹ کے ذریعہ دی ہے۔


انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ آہستہ آ ہستہ باقی لوگوں کی واپسی کے لیے بھی انتظامات کیے جائیں گے۔اس سے کچھ امید جاگی ہے۔ لیکن فی الحال کوئی پختہ منصوبہ حکومت نے وضح نہیں کیا ہے۔ادھر مشکلوں میں پھنسے ان لوگوں کے مسائل بڑھتے جارہئے ہیں۔ واضح رہے کہ جموں کشمیر میں پچھلے کچھ دنوں میں کویڈ 19 سے متاثر افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔کل چوبیس گھنٹے میں 42 افراد کویڈ مثبت پائے گئے جو ابھی تک کی سب سے بڑی تعداد تھی۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Apr 26, 2020 02:37 PM IST