ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کورونابحران :کیاہے ہیلی کاپٹرمنی؟وزیراعلیٰ کے سی آر نے مرکزی حکومت کواس پر عمل کرنےکامشورہ کیوں دیا؟

سرکاری خزانہ سے اس طرح معاشی بد حالی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو اصطلاح ہے ۔اسےQuantitative easingکہا جاتا ہے ۔لیکن یہ ہیلی کاپٹر منی کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔

  • Share this:
کورونابحران :کیاہے ہیلی کاپٹرمنی؟وزیراعلیٰ کے سی آر نے مرکزی حکومت کواس پر عمل کرنےکامشورہ کیوں دیا؟
کورونا بحران: وزیراعلیٰ کے سی آر نے وزیراعظم مودی کو کیوں ہیلی کاپٹرمنی کی تجویز؟

ذرا سوچئے ایک بستی میں کسی آفت کی وجہ سے لوگ معاشی بد حالی کا شکار ہیں اور پھر وہاں ایک ہیلی کاپٹر نمو دار ہوتا ہے اور اس سے کرنسی نوٹوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے اور اسکے بعد لوگ نہ صرف اشیائے ضروریہ بلکہ اپنی روزی روٹی کمانے کے ساز و سامان وغیرہ دوبارہ جمع کرتے ہوئے اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔


یہ محض ایک حسین تصور نہیں بلکہ ایک معاشی اصول ہے۔ جسے اب تک یورپ اور امریکہ میں دو بار اپنایا گیا ہے۔تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراؤ نے کورو نا کی وجہ سے پیدا شدہ موجودہ معاشی مشکلات کا حل، ہیلی کاپٹر منی کی شکل میں تجویز کیا ہے ۔وزیراعلیٰ کےسی آر نےتاریخ کے دو معاشی بحرانوں کی مثالیں دیں۔ پہلی 1918 کا اسپینش فلو کی وباء جس کی وجہ سے پوری دنیا میں خاص طور پر اسپین اور امریکہ میں بہت بڑی تعداد میں میں لوگ ہلاک ہوئے تھے اور جس طرح اب پوری دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے حالات ہیں۔ اسی طرح کے حالات 1918 میں یورپ اور امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ دوسرا معاشی بحران جس کا حوالہ کے سے آر نے دیا وہ سال 2008 کا معاشی بحران ہے۔ امریکا نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے یے اپنی جی ڈی پی کا 10 فیصد یعنی دو ٹریلین ڈالر عوام اور معاشی طور سے دیوالیہ صنعتی اداروں کے لیے مہیا کروایا تھا۔ اسی طرح حکومت برطانیہ نے اپنی جی ڈی پی کا 15 فیصد حصہ مہیا کروایا تھا ۔


سرکاری خزانہ سے اس طرح معاشی بد حالی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو اصطلاح ہے ۔اسےQuantitative easingکہا جاتا ہے ۔لیکن یہ ہیلی کاپٹر منی کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ ناگہانی صورتحال میں جو علم معاشیات کے روایتی اصول ہوتے ہی ہیں اسے پس پشت ڈالتے ہوئے سرکاری خزانے کے ایک حصہ کو عوام کی راحت کے لیے مختص کیا جاتا ہے کے چندر شیکھر رآو نے وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ حال ہی میں ہوئی ویڈیو کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے منجمد معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوامی زندگی کے ساتھ ہی ساتھ معاشی ترقی کی صورتحال بھی بحال ہو سکے ۔اسکے لیے مرکزی حکومت کو اپنی جی ڈی پی کا کم از کم پانچ فیصد حصہ یعنی 10 لاکھ کروڑ روپیے کی قربانی دینی ہوگی۔


کے سی آر کا ماننا ہے کہ10 لاکھ کروڑ روپئے عوام کو اس صورت میں مہیا کروائے جا سکتے ہیں کہ ہمارے روز مرہ محنت مزدوری کرنے والے مزدوروں ، کسانوں اور چھوٹے موٹے تاجروں و کاریگروں کو مختلف طریقوں سے مالی مدد کی جائے ۔ عوام کے لیے تین ماہ کا راشن مفت مہیا کروایا جائے ۔ اس طرح کھانے پینے کے مسائل سے چھٹکارا پاتے ہوئے اپنی زندگی کے دوسری ضروریات کو مہیا شدہ نغدی کے استعمال سے پورا کیا جا سکتا ہے ۔ اس طرح عوام کی قوت خرید کی بحالی سے ہماری منجمد معشیت دوبارہ بحال ہو جائے گی ۔

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندر شیکھرراؤ کی مرکزی حکومت سے کی گئی اس اپیل کا دوسری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی خیر مقدم کیا ۔ ممتاز سیاسی تجزیہ نگار ناگیشور راؤ نے موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانہ پر فلاحی اقدامات کو ہی واحد حل قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بغیر کام اور پیسے کے عوام بے چین ہو جائیں گے۔ انہوں نے حال ہی میں سورت میں پیش آئے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالی امداد ہی اس کا بہتر حل ہوگا ۔انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ عوامی مفاد کے مد نظر مرکزی حکومت کیلئے10 لاکھ کروڑ کے خسارے کو برداشت کر نا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوگا ۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Apr 15, 2020 08:13 PM IST