உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا سے مرنے والوں کی آخری رسومات کے لئے کولکاتہ کا دھاپا شمشان گھاٹ بھی پڑنے لگا  چھوٹا

    کورونا وائرس کا قہر

    کورونا وائرس کا قہر

    کوروناوائرس سے مرنے والوں کے لئے کولکاتہ کا دھاپا شمشان گھاٹ چھوٹا پڑنے لگا ہے۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کی نظر اب مٹیابرج شمشان گھاٹ پر ہے جہاں کورونا سے مرنے والوں کی اخری رسومات اداکی جاٸے گی۔

    • Share this:
    کوروناوائرس سے مرنے والوں کے لئے کولکاتہ کا دھاپا شمشان گھاٹ چھوٹا پڑنے لگا ہے۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کی نظر اب مٹیابرج شمشان گھاٹ پر ہے جہاں کورونا سے مرنے والوں کی اخری رسومات اداکی جاٸے گی۔ اس تعلق سے کولکاتہ میونسپل کارپوریشن منصوبہ بنارہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت کارپوریشن اہلکاروں نے مٹیابرج شمشان گھاٹ کا دورہ بھی کیا۔ تاہم مقامی لوگ کارپوریشن کے اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
    بنگال میں کوروناوائرس متاثرین مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ وہیں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جارہا یے۔ بنگال کے مختلف اضلاع سمیت کولکاتا ، ہوڑہ و چوبیس پرگنہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ کورونا سے متاثر ہوکر مرنے والوں کی اخری رسومات کے لٸے انتظامیہ کو شہر کے کسی بھی شمشان گھاٹ میں جگہ نہیں ملی۔
    مقامی لوگوں کے زبردست احتجاج کے بعد حکومت نے لاوارث لاشوں کی اخری رسومات کے لٸے مخصوص شہر سے دور دھاپا شمشان گھاٹ میں کورونا سے مرنے والوں کی بھی اخری رسومات شروع کی گٸی لیکن اب دھاپا شمشان گھاٹ میں بھی جگہ کم پڑ رہی ہے کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے کے مطابق دھاپا شمشان گھاٹ over loaded ہورہا ہے۔ ایسے میں ایک دوسرے شمشان گھاٹ کو متبادل کے طور پر کورونا سے مرنے والوں کے لٸے مخصوص کرنا ضروری ہے۔ کارپوریشن حکام کے مطابق ہگلی ندی کے قریب کسی شمشان گھاٹ کو مخصوص کئے جانے پر بھی غور کیا جارہا لیکن اس فیصلے پر بھی مقامی لوگوں کا احتجاج سامنے ارہا ہے، کہیں بھی جگہ نہیں دی جارہی ہے ۔

    وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی اسطرح کے حالات کو افسوسناک بتایا تھا اور حکومت کی بے بسی کا اظہار کیا تھا اب نواب واجد علی شاہ کی نگری مٹیابرج شمشان گھاٹ جو ابادی سے دورہ ہے اس پر کارپوریشن کی نظر ہے یہاں کورونا سے مرنےوالوں کی اخری رسومات کا فیصلہ کیا گیا تاہم مقامی لوگوں نے کارہوریشن کے فیصلے پر ناراضگی جتاٸی ہے
    Published by:Sana Naeem
    First published: