ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کورنٹاین مرکزمیں بنیادی سہولیات کافقدان،لاک ڈاؤن توڑنے کی کوشش کوپولیس نے بنایاناکام

کورنٹاین مرکز میں 100 سے زائد لوگ کورنٹاین میں ہیں۔ لیکن ان افراد کا الزام ہے کہ انہیں کھانے پینے کی عدم سہولیات کے ساتھ ساتھ غیر مناسب سینٹایزیشن و صفائی و ستھرائی کا سامنا کرنا پڑ رہا

  • Share this:
کورنٹاین مرکزمیں بنیادی سہولیات کافقدان،لاک ڈاؤن توڑنے کی کوشش کوپولیس نے بنایاناکام
کورنٹاین سینٹروں میں سہولت کا نہ ملنا ایک سوالیہ نشان

اننت ناگ: کورونا کی وبا ءکے چلتے ضلع اننت ناگ کے ریڈ زونس و بفر زونز میں لوگوں نے انتظامیہ پر عدم توجہی اور عدم سنجیدگی کا الزام لگایا ہے۔ جبکہ کورنٹاین مراکز میں سہولیات کی عدم دستیابی کولیکر بھی لوگ نالاں ہیں۔ جسکے نتیجے میں اننت ناگ کے بوائز ڈگری کالج میں قائم کورنٹاین مراکز میں قیام پزیر لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرہ بازی کرتے ہوئے لاک ڈاؤن توڑنے کی کوشش کی۔ جسکے بعد پولیس نے حرکت میں آکر مظاہرین کو کے پی روڈ کی جانب پیش قدمی کرنے سے روک دیا۔ تفصیلات کے مطابق اس کورنٹاین مرکز میں 100 سے زائد لوگ کورنٹاین میں ہیں۔ لیکن ان افراد کا الزام ہے کہ انہیں کھانے پینے کی عدم سہولیات کے ساتھ ساتھ غیر مناسب سینٹایزیشن و صفائی و ستھرائی کا سامنا کرنا پڑ رہا جبکہ اس مسلے کو کئ بار متعلقہ حکام کی نوٹس میں لایا گیا تاہم ابھی تک انتظامیہ نے سہولیات کو بہم پہنچانے کےلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔


ان شکایات کو لیکر جب لوگوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی اور لاک ڈاؤن توڑنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا۔ اس دوران احتجاجیوں نے پولیس پر زیادتیوں اور لاٹھی چارج کا بھی الزام لگایا جسکی پولیس نے تردید کی۔ واقع کے خلاف نوگام شانگس ریڈ زون میں بھی لوگ گھروں سے باہر آئے اور انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرہ بازی کی۔ نوگام کے باشندوں نے الزام لگایا کہ وہاں کے کئ باشندوں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں کو کورونا کے مشتبہ معاملات کے طور پر کورنٹاین کیا گیا ہے لیکن کورنٹاین کیے گئے لوگوں نے مراکز میں عدم سہولیات کی لگاتار شکایت کی ہے۔ جسکا ازالہ ممکن بنانے میں انتظامیہ اب تک ناکام رہی ہے۔


لوگوں نے الزام لگایا کہ کورنٹاین میں بھیجے گئے لوگوں کو پہلے سے ہی کھانے پینے کی سہولیات کے حوالے سے شکایات تھیں اب انکو کامن باتھ روم اور بیت الخلاء استعمال کرنا پڑتا ہے اور وہاں پر صفائ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ لوگوں نے نوگام اور دیگر ریڈ زون والے علاقوں میں انہیں خدا کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا انتظامیہ پر الزام لگایا۔ جبکہ ان علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئ ہے اور انتظامیہ ہوم ڈلویری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ادھر کھرم کھڈ پورہ کے ریڈ زون سے بھی لوگوں نے سینیاٹائزیشن پر سوالیہ نشان لگایا ہے جبکہ جانوروں کو خوراک اور چارہ مہیا نہ کرنے پر بھی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔دریں اثنا ضلع انتظامیہ نے ان سارے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کورنٹاین مراکز میں میعار کے مطابق ہر طرح کی سہولیات کو دستیاب رکھا گیا ہے۔


اے سی آر اننت ناگ سید یاسر کے مطابق کورنٹاین میں مشتبہہ معاملات کو رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور کورونا کی زنجیر کو توڑنے کے لیے کورنٹاین ایک اہم مرحلہ ہے جسکے لئے عام لوگوں کے تعاون کی بے حد ضرورت ہے۔ سید یاسر نے کہا کہ ریڈ زون علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی ہوم ڈیلیوری کےلئے انتظامیہ نے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں اور لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات دروازوں پر مہیا رکھنے کے لیے اقدامات کو مزید وسیع بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی لوگوں کی مدد کےلئے کئ ہیلپ لائنز قائم کئے گئے ہیں اور ویب سائٹس پر بھی لوگ براہ راست مدد اور تعاون کے لیے پہل کر سکتے ہیں۔

اسپتال کے ڈاکٹروں و دیگر عملے نے کام کا بائیکاٹ کیا
اسپتال کے ڈاکٹروں و دیگر عملے نے کام کا بائیکاٹ کیا


ادھر اننت ناگ میں کورونا کے 8 نئے معاملات سامنے آنے کے بعد کورونا مریضوں کی تعداد 62 ہوگئی ہے جن میں سے کچھ دن قبل میٹرنٹی اسپتال میں ایک خاتون کی موت واقع ہوئی۔ تازہ معاملات میں کاڈی پورہ اور نوگام کے دو محکمہ صحت کے ملازم بھی شامل ہیں۔ جسے لوگوں میں مزید تشویش کی لہر دوڈ گئی ہے۔ تازہ معاملات سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے کاڈی پورہ اور شانگس کو بھی ریڈ زون زمروں میں شامل کر دیا ہے اور ان علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
First published: Apr 29, 2020 10:05 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading