ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال کے اسپتالوں میں بلڈ اور پلازمہ کی کمی، عارف مسعود نے رضا کارانہ طور پر مفت خون اور پلازمہ مہیا کرانے کی شروع کی تحریک

کورونا قہر میں بھوپال کے اسپتالوں میں بلڈ اور پلازمہ کی بڑی کمی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد جہاں انتظامیہ اور حکومت کے ذمہ داران نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے وہیں بھوپال وسط سے ایم ایل اے عارف مسعود نے رضا کارانہ طور پر کورونا مریضوں کو مفت بلڈ اور پلازمہ مہیا کرنے کے لئے عملی طور پر تحریک شروع کردی ہے۔ تحریک کے تحت راجدھانی کے حمیدیہ اسپتال اور بھوپال میموریل اسپتال کو ابتدائی طور پر کیمپ لگاکر 487 یونٹ بلڈ مہیا کرنے کا کام کیاگیا ہے۔

  • Share this:
بھوپال کے اسپتالوں میں بلڈ اور پلازمہ کی کمی، عارف مسعود نے رضا کارانہ طور پر مفت خون اور پلازمہ مہیا کرانے کی شروع کی تحریک
بھوپال کے اسپتالوں میں بلڈ اور پلازمہ کی کمی، عارف مسعود نے شروع کی تحریک

کورونا قہر میں بھوپال کے اسپتالوں میں بلڈ اور پلازمہ کی بڑی  کمی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد جہاں انتظامیہ اور حکومت کے ذمہ داران نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے وہیں بھوپال وسط سے ایم ایل اے عارف مسعود نے رضا کارانہ طور پر کورونا مریضوں کو مفت بلڈ اور پلازمہ مہیا کرنے کے لئے عملی طور پر تحریک شروع کردی ہے۔ تحریک کے تحت راجدھانی کے حمیدیہ اسپتال اور بھوپال میموریل اسپتال کو ابتدائی طور پر کیمپ لگاکر 487 یونٹ بلڈ مہیا کرنے کا کام کیاگیا ہے۔ بھوپال وسط سے ایم ایل اے عارف مسعود کے ذریعہ شہر کے انکر گراؤنڈ میں منعقدہ بلڈ ڈونیشن کیمپ میں حالانکہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے سو یونٹ بلڈ ہی لینے کا انتظام کیاگیا تھا مگر جب یہاں پر کورونا مریضوں کی خدمت کے لئے سیکڑوں کی تعداد میں رضا کار پہنچے تو اسپتال انتظامیہ کو نہ صرف حیرت ہوئی بلکہ انہیں اتنی بڑی تعداد میں پہنچے رضا کاروں کا بلڈ لینے کے لئے علیحدہ سے انتظام کرنا پڑا۔


ایسا نہیں ہے کہ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے کورونا مریضوں کو بلڈ اور پلازمہ مہیا کرنے کے لئے صرف اعلان کر کے دوسروں سے رضاکارانہ طور پر بلڈ کا عطیہ کروایا ہو بلکہ انہوں نے مہم کا آغاز کرتے ہوئے پہلے خود بلڈ اور پلازمہ ڈونیٹ کیا اس کے بعد شہر کے رضا کاروں سے آگے آنے کی اپیل کی۔ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ ہمارا شہر بھوپال ابتدا سے گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار رہا ہے۔ لاک ڈاؤن میں بھی یہاں کے شہریوں نے بلالحاظ قوم و ملت سبھی کی خدمت میں اپنی نظیر پیش کی تھی اور جب  شہر کے اسپتالوں میں بلڈ اور پلازمہ کی کمی کا معاملہ سامنے آیا ہے تو یہاں کے باشندوں نے پھر اپنی اسی محبت کا ثبوت دیا ہے۔ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کو یہاں آکر دیکھنا چاہیئے کہ محبت اور آپسی بھائی چارہ کیا ہوتا ہے۔ یہاں جو لوگ اپنا خون دے رہے ہیں انہیں یہ نہیں معلوم کہ ان کا خون کس کے جسم میں جائے گا اور اس سے جس کی جان بچے گی اس کا مذہب کیا ہے۔ یہ لوگ تو بس انسانیت کا مذہب جانتے ہیں اور ان کا خون ہر قدم پر یہی پکارے گا کہ ہندستان میرا ہے۔


بھوپال انکر گراؤنڈ میں منعقدہ بلڈ ڈونیشن کیمپ میں آئے روہت بھوہیئر کہتے ہیں کہ کورونا مریضوں کو بلڈ اور پلازمہ کی ضرورت ہے اور یہاں اس کے لئے کیمپ لگایا گیا ہے ۔ پہلی نظر میں یہاں کا منظر دیکھ کر مجھے لگا شاید یہاں کوئی میلہ لگا ہوا ہے لیکن جب اندر جاکر دیکھا تو مجھے حیرت ہوئی کہ لوگ سوشل ڈسٹنسنگ کے ساتھ ماسک لگا کر خون دینے کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔ مجھے ان کا دیش کے لئے جوش اور جنون دیکھ کر بہت اچھا لگا  اور مجھ سے رہا نہیں گیا میں نے اور میرے دوستوں نے فورا فارم بھرا اور اپنا خون کا عطیہ دیا ہے۔ آج پہلی بار بلڈ ڈونیٹ کیا ہے مگر انسانیت کے لئے کئے گئے کام سے بہت خوش ہوں۔ خوشی اس بات کی بھی ہے کہ جب یہاں پر مورخ خون دینے والوں کا نام لکھے گا تو اس میں میرا اور میرے دوستوں کا نام انسانیت کے لئے خون دینے والوں میں ہوگا نہ کہ انسانیت کا خون بہانے والوں میں۔


بھوپال میموریل اسپتال اور حمیدیہ اسپتال کے کورونا مریضوں کی بلڈ اور پلازمہ کی کمی عارف مسعود کی اس تحریک سے وقتی طور پر تو پوری ہو گئی ہے لیکن عارف مسعود کی یہ کوشش ہے کہ مستقبل میں جب کبھی کسی بھی ضرورتمند کو بلڈ اور پلازمہ کی ضرورت ہو تو اسے کہیں بھٹکنا نہ پڑے اس کے لئے انہوں نے بھوپال بلڈ ڈونر ڈائریکٹری تیار کرنے کا کام بھی شروع کردیا ہے تاکہ اس سے لوگ استفادہ کر سکیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 14, 2020 08:10 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading