ہوم » نیوز » عالمی منظر

اس ملک میں صرف 900روپئے کے لئے اپنے بچوں کا جنسی استحصال کررہے ہیں والدین: جانئے کیوں

لاک ڈاؤن کے بعد فلپائنس میں زیادہ تر کام۔دھندہ بند ہے ایسے میں والدین اپنے ہی بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کررہے ہیں۔ بتادیں کہ گزشتہ دنوں میں ایک ایسا کنبہ سامنے آیا ہے جس میں والدین مل کر اپنے 5 بچوں کے ساتھ لائیو انٹرنیٹ پر جنسی استحصال کررہے تھے جس کے بعد انہیں ہر گھنٹے تقرئبا 1000 روپئے کی کمائی ہورہی تھی۔

  • Share this:
اس ملک میں صرف 900روپئے کے لئے اپنے بچوں کا جنسی استحصال کررہے ہیں والدین: جانئے کیوں
لاک ڈاؤن کے بعد فلپائنس میں زیادہ تر کام۔دھندہ بند ہے ایسے میں والدین اپنے ہی بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کررہے ہیں۔

فلپائنس (Philippines) بچوں کی پورن انڈسٹری  (Child Porn Industry)  اور بچوں کے آن لائن سیکس ریکٹ کیلئے دنیا بھر میں بدنام ہے۔ کوروناوائرس کے چلتے اب فلپائن میں لاک ڈاؤن جاری ہے جس کا سیدھا فائدہ بدنام انڈسٹری کو ہورہا ہے۔ غریبی اور بھکمری جیسے حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ صرف 10  برطانویی پاؤنڈ تقریبا 960  روپئے کیلئے والدین انے ہی بچوں کا جنسی استحصال کراکر ا ن کی آن لائن لائیو اسٹریمنگ کررہے ہیں۔ 

داسن کی ایک رپورٹ کے مطابق فلپائن سے جاری اس طرح کی لائیو اسٹریمنگ اور چائلڈ پورن کی مانگ میں سب سے زیادہ ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد فلپائنس میں زیادہ تر کام۔دھندہ بند ہے ایسے میں والدین اپنے ہی بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کررہے ہیں۔ بتادیں کہ گزشتہ دنوں میں ایک ایسا کنبہ سامنے آیا ہے جس میں والدین مل کر اپنے 5  بچوں کے ساتھ لائیو انٹرنیٹ پر جنسی استحصال کررہے تھے جس کے بعد انہیں ہر گھنٹے تقرئبا 1000  روپئے کی کمائی ہورہی تھی۔ سب سے چونکانے والی بات یہ ہے کہ اس فیملی میں سب سے چھوٹا بچہ صرف 3 سال کا ہے اور اس کے ساتھ بھی جنسی بد سلوکی کو انٹرنیٹ پر لائیو دیکھنے والوں کی بڑی تعداد تھی۔ لاک ڈاؤن کے دوران فلپائن کی اس بدنام زمانہ انڈسٹری نے تین گنا گروتھ درج کی ہے۔

یوکے کی کرائم ایجسی ڈھونڈ رہی ہے سراگ

ان ویڈویو کی برطانیہ میں سب سے زیادہ مانگ ہونے کے چلتے اب برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اس پورے ریکٹ کا پردہ فاش کرنے کیلئے ایکٹو ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ایجنسی ایف بی آی اور یوروپول بھی ان معاملوں کی جانچ کررہی ہیں۔ انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کے مطابق صرف برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران تقریبا 9 کروڑ لوگوں نے اس طرح کی چائلڈ پورن دیکھنے کیلئے سرچ کیا ہے۔ برطانیہ میں بچوں کی لائیو پورن کیلئے سرچ سب سے زیادہ ہے۔ اس کیلئے صرف 10 برطانوی پاؤنڈ سے لیکر 30 برطانوی پاؤنڈ  کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔


نیشنل کرائم ایجنسی کے چیف جان ٹناگو کے مطابق ،انٹرنیشنل جسٹس مشن نے گزشتہ 5 سالوں میں سیکس ٹریفکنگ کے شکار بچوں کو بڑی تعداد میں فلپائن سے ریسکیو کیا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس انڈسٹری میں اچانک تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے جو کہ ان بچوں کے مستقبل کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

جان نے کہا کہ فلپائن میں چلڈرن سیکس پورن انڈسٹری سب سے بڑی ہے اور یہاں لوگوں کو اپنی پسند کے مطابق آسانی سے ویڈیو یا لائیو مواد دستیاب کردیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کے صارفین زیادہ تر مغربی ممالک سے ہیں۔ تمام ادائیگی آن لائن ہے اور اس کے لئے بہت ساری جعلی ادائیگی ویب سائٹ بنائی گئی ہے۔
First published: Jun 10, 2020 12:24 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading