ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

پٹنہ میں کورونا کے قہر سے بچنے کے لئے حکومت نے لگایا ایک ہفتہ کا لاک ڈاؤن

دس جولائی سے لیکر سولہ جولائی تک لاک ڈاون رہے گا جس میں صبح چھ بجے سے دس بجے تک اور شام چار بجے سے سات بجے تک ضروری اشیاء کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

  • Share this:
پٹنہ میں کورونا کے قہر سے بچنے کے لئے حکومت نے لگایا ایک ہفتہ کا لاک ڈاؤن
پٹنہ میں کورونا کے قہر سے بچنے کے لئے حکومت نے لگایا ایک ہفتہ کا لاک ڈاؤن

پٹنہ۔ یہاں شہر میں 1600 سے زیادہ کورونا مریضوں کی تعداد ہو گئی ہے۔ لگاتار بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بڑھ رہی کورونا مریضوں کی تعداد پر مسلسل سیاست ہو رہی تھی۔ اپوزیشن سمیت کئی تنظیموں نے حکومت سے لاک ڈاون کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پٹنہ ضلع انتظامیہ نے پٹنہ کے شہری علاقہ میں ایک ہفتہ کے لئے لاک ڈاؤن لگایا ہے۔ تاہم، لاک ڈاون میں ضروری چیزیں جیسے میڈیکل اسٹور، کرانہ، پھل، دودھ کی دکان، سبزی مارکیٹ وغیرہ کو ایک خاص وقت میں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔


دس جولائی سے لیکر سولہ جولائی تک لاک ڈاون رہے گا جس میں صبح چھ بجے سے دس بجے تک اور شام چار بجے سے سات بجے تک ضروری اشیاء کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ دن کے دس بجے سے پانچ بجے تک کرفیو جیسا ماحول رہےگا۔ آج پہلے دن پولیس محکمہ نے باقاعدہ مائک کے ذریعہ اعلان کر لوگوں کو لاک ڈاون کو فالو کرنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی دکانوں اور بازاروں کو دس بجے سے پہلے بند کرا دیا ہے۔ سبزی مارکیٹ، مچھلی بازار، گوشت کی دکانوں کو دس بجے سے پہلے پولیس کی جانب سے بند کرایا گیا ہے۔ یہ مانا جارہا ہے کہ ایک ہفتہ کا لاک ڈاون پٹنہ کو دوبارہ پٹری پر لے آئے گا۔


دراصل کورونا کے مریضوں سے پٹنہ کے اسپتالوں کا بیڈ بھر چکا ہے۔ مزید اگر نئے مریضوں کی تعداد بڑؑھتی ہے تو مشکلوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ نتیجہ کے طور پر حکومت نے لاک ڈاون کو سختی سے نافذ کرنے کے ساتھ ہی مختلف ضلعوں میں بھی لاک ڈاون کو کامیاب بنانے کی پہل کی ہے۔ بہار کے چھ ضلعوں میں دوبارہ لاک ڈاون لگایا گیا ہے۔ امید ہے کہ اس بار کے لاک ڈاون سے حالات کو قابو کرنے میں مدد ملےگی۔ واضح رہیکہ سرکاری دفاتر میں بھی اس بات کا خیال رکھا جارہا ہے کہ کوئی بھی شخص جسمانی دوری سے غفلت نہیں برتے۔ ماسک پہن کر نہیں جانے والوں کے خلاف جرمانہ لگایا جارہا ہے۔ وہیں پٹنہ میں غیر ضروری طریقہ سے گھروں سے باہر نکلنے والوں پر پولیس کی جانب سے کاروائی کی جارہی ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 10, 2020 12:31 PM IST