உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کوروناوائرس پازیٹو جماعتی مانگ رہے ہیں گھر کھانا، نگر نگم کے کھانے سے انکار

    بڑی خبر: جماعت کے غیر ملکی اراکین ہوئے رہا، 10-7 ہزار روپئے جرمانہ ادا کر کے لوٹ سکیں گے اپنے ملک

    بڑی خبر: جماعت کے غیر ملکی اراکین ہوئے رہا، 10-7 ہزار روپئے جرمانہ ادا کر کے لوٹ سکیں گے اپنے ملک

    کورونا وائرس پازیٹو جماعتیوں سے انتظامیہ پریشان ہے۔ ذرائع کے مطابق 8جماعتی مریض کھانے میں چکن بریانی پھل اور گھر کا کھانا مانگ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے میونسپل کارپوریشن کے فوڈ پیکٹ کھانے سے انکار کررہے ہیں۔

    • Share this:
      مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں کورونا وائرس پازیٹو جماعتیوں سے انتظامیہ پریشان ہے۔ ذرائع کے مطابق 8جماعتی مریض کھانے میں چکن بریانی پھل اور گھر کا کھانا مانگ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے میونسپل کارپوریشن کے فوڈ پیکٹ کھانے سے انکار کردیا ہے۔ دراصل بھوپال میں فی الحال 32 جماعتیں ہیں اور ان میں 320 جماعتی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہاں 7 غیر ملکی جماعتی بھی موجود ہیں۔ وہیں 70 جماعتیوں کوروٹی۔سبزی پسند نہیں ہے۔

      دوسری طرف خبر ہے کہ ریاست میں باہر سے آئے مسافروں میں کئی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ان کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کی فکربڑھ گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد سنیچر تک 17000 مسافر ریاست آئے تھے۔ ان میں سے ابھی تک 1277 مسافروں کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ انٹیلی جنس ریاست میں آنے والے لوگوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ انٹلیجنس کے چیف آدرش کٹیار نے تمام اضلاع کے ایس پی کو ہدایات دی ہیں کہ وہ باہر سے آنے والے لوگوں کی نگرانی کریں۔ کٹیار نے پولیس کی فیملی کو ضروری سامان بھی مہیا کرانے کیلئے اضلاع میں نوڈل افسران کو ذمہ داری دی ہے۔
      بتادیں کہ دو دن کے اندر مرینا ضلع میں 12 کوروناوائرس پازیٹو مریض پائے گئے ہیں۔ اس سے دہشت پھیل گئی ہے۔ دراصل 17 مارچ کو دبئی میں ویٹر کی حیثیت سے کام کرنے والا ایک نوجوان اپنی دادی کے شرادھ میں شامل ہونے کے لئے مرینا آیا تھا۔ 20 مارچ کو ہوئی تیرہویں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے سے انتظامیہ دنگ رہ گئی۔ انتظامیہ ان افراد کی پہچان اور تفتیش کر رہی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ مرینا میں 12 کورونا مثبت مریضوں کے ملنے کے بعد ریاست میں اب متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کرتقریبا 182 ہوگئی ہے۔ ان میں سے اب تک 11 افراد کی موت ہوچکی ہے۔
      Published by:sana Naeem
      First published: