ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: کورونا ٹاسک فورس کے ذمہ داران اسپتال میں ہوئے داخل

مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کا ہندسہ تینتس ہزار کو پار کرگیا ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: کورونا ٹاسک فورس کے ذمہ داران اسپتال میں ہوئے داخل
مدھیہ پردیش: کورونا ٹاسک فورس کے ذمہ داران اسپتال میں ہوئے داخل

مدھیہ پردیش میں کورونا کا قہر ایسا جاری ہے کہ خود کورونا کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائی گئی گیارہ رکنی کورونا ٹاسک فورس کے نصف اراکین ہی اسپتال میں داخل ہوگئے ہیں ۔صوبہ کے مکھیا وزیر اعلی شیوراج سنگھ  کورونا پازیٹو ہونے کے بعد اسپتال میں داخل ہی ہوئے تھے کہ کورونا ٹاسک فورس کے چیرمین اور ایم پی بی جے پی صدر بی ڈی شرما اور دوسرے اراکین بھی کورونا پازیٹو ہونے کے بعد اسپتال میں داخل ہوگئے ہیں ۔اور جو بچےتھے وہ کورینٹائن ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔اس طرح سے  ایم پی میں کورونا کے لئے بنائی گئی پوری ٹاسک فورس ہی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔


مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کا ہندسہ تینتس ہزار کو پار کرگیا ہے ۔صوبہ میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر تینتس ہزار چھ سو پچاسی ہوگئی ہے۔ کوروناسے ابتک  نوسو پانچ لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ  تیئس ہزار دو سو بیالیس مریض صحتیا ب ہوکر اسپتال سے اپنے گھر جا چکے ہیں ۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ  ایم میں کورونا کے سب  سے زیادہ معاملے انہیں اضلاع میں  جہاں سے کورونا ٹاسک فورس کے ذمہ داران کا تعئق ہے۔ مدھیہ پردیش میں کورونا کے آنکڑے پر نظر ڈالنے کو بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ ساٹھ فیصد کورونا مریضوں کا تعلق ان اضلاع سے جن اضلاع سے کورونا ٹاسک فورس کے ذمہ داران کا تعلق ہے ۔اس سے تو یہ بات صاف ہوگئی کہ کورونا ٹاسک فورس جس مقصد لئے قائم کی گئی تھی وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوگئی ہے۔کورونا ٹاسک  فورس کی تشکیل مدھیہ پردیش میں لاک ڈاؤن کے دوران تیرہ اپریل کو کی گئی تھی اور ایم پی بی جے پی کے صدر بی ڈی شرما کو اس کا نگراں بنایا گیا تھا۔

کورونا ٹاسک فورس میں جن لوگوں کو شامل کیاگیا تھا اس میں سی ایم شیوراج سنگھ کے علاوہ کیلاش وجے ورگی، ڈاکٹر نروتم مشرا،گوپال بھارگومینا سنگھ، تلسی سلاوٹ،جگدیش دیوڑا،راکیش سنگھ،راجیندر شکلا اور سہاس بھگت کے نام  قابل ذکر ہیں ۔اس فہرست پر نظر ڈالیں تو سی ایم شیوراج سنگھ، بی ڈی شرما اور سہا بھگت  اور تلسی سلاوٹ کورونا پازیٹو ہونے کے بعد اسپتال میں زیر علاج ہیں ۔کمیٹی کا کام کورونا کو لیکر وقت وقت پر تجزیہ کرنا اور کورونا کی روک تھام کے لئے حکومت کے ساتھ کوآرڈینیشن کرنا تھا۔پہلے تو اس کی میٹنگوں کا انعقاد کیاگیا لیکن جب سے شیوراج کابینہ کی تشکیل ہوئی اس کی میٹنگوں کا انعقاد بھی بند ہوگیا ہے۔


مدھیہ پردیش یوتھ کانگریس کے صدر اور ایم ایل اے کنال چودھری کہتے ہیں کہ ہ ٹاسک فورس بی جے پی کے اپنے لوگوں کی تھی اگر اس کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہوتا تو اس ٹاسک فورس میں سبھی پارٹیوں کے ذمہ دارا ن کو شامل کیاجاتا۔ کورونا کو لیکردوسروں کو نصحیت کرنے سی ایم شیوراج سنگھ اور ان کی پارٹی نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور اب بھی دھوکہ جاری ہے ۔ سی ایم اور ان کی کابینہ کے وزیروں کا علاج تو پرائیویٹ فائیو اسٹار اسپتالوں میں جاری ہے اور عوام جنتا کا علاج ان سرکاری اسپتالوں میں کیا جا رہا ہے جہاں سہولیات کا فقدان ہے ۔کمل ناتھ جی بھی بیمار ہوئے تھے اور انہوں نے اپنا علاج بھوپال کے حمیدیہ سرکاری اسپتال میں کوروایا تھا لیکن انکا کوئی بھی وزیر حمیدیہ اسپتال جانے کو تیار نہیں ہے ۔ انہیں معلوم ہے کہ وہاں پر علاج کے نام پر کچھ نہیں ہے ۔صوبہ میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض انہیں اضلاع میں اس لئے زیادہ آئے ہیں جہاں سے ٹاسک فورس کے لوگوں کا تعلق ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نےاقتدار کے نشے میں چور ہوکر کورونا کے ضابطہ کو خوب مذاق اڑایا اور ریلیوں رپ ریلیوں کی ہیں ۔کمل ناتھ کی حکومت میں ایم پی میں کورونا کا ایک مریض تھا اور ا ب مریضوں کی تعداد ساؒڑھے تینتس ہزار سے زیادہ ہے۔

وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ کہتے ہیں کہ کانگریس کے لوگوں کو بات کرنے کا حق نہیں ہے کورونا پر۔ کمل ناتھ حکومت میں کورونا کو لیکر کوئی میٹنگ ہی نہیں کی گئی ۔ اگر کوئی ریکارڈ ہو تو کانگریس بتا دے۔یہ لوگ صرف الزام لگا تے ہیں اور شیوراج سنگھ کی حکومت کام کرتی ہے۔ یہی فرق ہے کانگریس اور بی جے پی میں ۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر ترجمان بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ شیوراج حکومت ہر محاذ پر فیل ہوچکی ہے۔خود وزیر داخلہ نروتم مشرا مانتے ہیں کہ پانچ سو اٹھائیس پولیس جوان کورونا کی زد میں ہیں اور انکا علاج جاری ہے اور دو ہزار پولیس اہلکار و افسر کورینٹا’ئن میں ہیں ۔صوبہ میں کورونا کو لیکر حالات اتنے تشویشناک ہوچکے ہیں کہ محکمہ پولیس نے  پولیس اہلکاروں کی چھٹی پر پابندی لگا دی ہے ۔اسپتالوں میں بیڈ نہیں ہیں اور سرکار اور وزیروں کا علاج سرکاری خرچ پر شاہی انداز میں ہورہا ہے اور عوام سے کہا جارہا ہے کہ ان کے لئے پیڈ کورینٹائن کا انتظام کیاگیا ہے۔ ہماری سرکار سے مانگ ہے کہ کورونا کے علاج کو لیکر مرکزی حکومت اور ورلڈ بینک سے جو فنڈ جاری کیا گیا ہے ا س کی تفصیل عوام کے سامنے ظاہرکرے۔

مدھیہ پردیش کےو زیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کانگریس کے الزام کو بے بنیاد بتاتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ مدھیہ پردیش میں کہیں بھی اسپتالوں میں بیڈ کی کمی نہیں ہے۔ پانچ سو اٹھاسی پولیس اہلکار کورونا پازیٹو ہوئے ہیں اور سب کی چھٹیاں اس لئے کینسل کی گئی ہیں تو ان کے گھر اور خاندان کے لوگوں کو کورونا سے بچایا جا سکے اور کورونا کی چین کو توڑا جا سکے۔ جہاں ضرورت ہوگی کسی کے یہاں کوئی ایمرجنسی ہوگی اس کو چھٹی دی جائے گی ۔ میں یہاں پر کس لئے ہوں۔کانگریس کے ہاتھوں سے جب سے اقتدار گیا ہے تب سے انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے ۔ اگر یہ کھلی آنکھوں سے دیکھیں تو انہیں صاف نظر آئے گا کہ سرکار نے کورونا کو کنٹرول کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کیا ہے ۔اور پھر بیماری کو امیر غریب یا حکومت و اپوزیشن سے جوڑ کر نہیں دیکھنا چاہیئے ۔سبھی کو اپنا خیال رکھنا چاہیئے اورحکومت کی گائیڈ لائن کا نفاذ کرنا چاہیئے ۔سب مل کر کام کرینگے تو آسانی سے اس وبائی بیماری پر قابو پالیں گے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 04, 2020 08:19 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading