உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کوروناوائرس سے مدھیہ پردیش میں 64 مریض متاثر، 5کی موت

    لوگ عام قومی سطح کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ذاتی صفائی ستھرائی کے حوالے سے ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بار بار صابن اور پانی سے ہاتھ دھوئیں اور کھانسی چھینکتے وقت اپنا منھ ڈھانپ لیں۔۔(تصویر: علامتی فوٹو،نیوز18)۔

    لوگ عام قومی سطح کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ذاتی صفائی ستھرائی کے حوالے سے ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بار بار صابن اور پانی سے ہاتھ دھوئیں اور کھانسی چھینکتے وقت اپنا منھ ڈھانپ لیں۔۔(تصویر: علامتی فوٹو،نیوز18)۔

    مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں آج کوروناوائرس کے 17نئے معاملے سامنے آنے کے ساتھ ہی ریاست میں اس سے متاثر لوگوں کی تعداد بڑھکر 64ہوگئی ہے،جس میں اب تک پانچ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں آج کوروناوائرس کے 17نئے معاملے سامنے آنے کے ساتھ ہی ریاست میں اس سے متاثر لوگوں کی تعداد بڑھکر 64ہوگئی ہے،جس میں اب تک پانچ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ سرکاری اطلاع کے مطابق اندور میں آج سے کورونا کے 17نئے معاملے آنے کے بعد،وہاں متاثرین کی تعداد 27سے بڑھکر 44ہوگئی ہے،جو ریاست میں سب سے زیادہ ہے۔وہیں جبل پور دوسرے نمبر پر ہے،جہاں اب تک آٹھ کورونا پازیٹو مریض مل چکےہیں۔حالانکہ وہان پچھلے 24گھنٹوں کے دوران کورونا کے کوئی بھی نئے معاملے نہیں آئے ہیں۔اس کے علاوہ اجین میں پانچ کورونا پازیٹو اب تک مل چکے ہیں۔

      راجدھانی بھوپال میں اب تک کورونا کے تین مریض ملےہیں۔یہاں بھی پچھلے دو دن سے کورونا کا نیا معاملہ نہیں ملا ہے۔وہیں شیوپوری اور گوالیار میں اب تک دو دو مریض مل چکے ہیں۔ریاست کے سبھی 52ضلعوں میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرایا جارہا ہے۔اندور میں کورونا کے بڑھتے معاملوں کے پیش نظر ضلع انتظامیہ کے ذریعہ وہاں کل سے ہی لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرایا جارہا ہے۔

      محکمہ صحت کے ذریعہ کل رات یہاں جاری بلیٹن کے مطابق 788نمونے لئے گئے ہیں،جس میں 523کی رپورٹ نگیٹو آئی ہے۔ریاست مین اب تک کورونا سے متاثر پانچ مریضوں کی موت ہوگئی ،جس میں اندور میں تین اور اجین کے دو مریض شامل ہیں۔اس کے علاوہ ریاست کے سبھی ضلعوں کی سرحدیں بھی سیل کردی گئی ہیں اور باہر سے آنے والے لوگوں کے داخلے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔
      Published by:sana Naeem
      First published: