உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    WHO: کورونا سے موت کو روکنے میں ویکسین کارگر، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے دیا بڑا بیان

    WHO का ALERT- ڈیلٹا اور اومیکرون دوگنا خطرناک، لا سکتے ہیں کورونا سونامی

    WHO का ALERT- ڈیلٹا اور اومیکرون دوگنا خطرناک، لا سکتے ہیں کورونا سونامی

    ٹیڈروس نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کئی کارکنوں پر زبردست دباو پڑرہا ہے۔ حاملہ خواتین کو شدید بیماری کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ انہیں کلینیکل ٹرائلز میں شامل کیا جانا چاہئے اور انہیں ویکسینیشن تک رسائی حاصل ہونی چاہئے۔

    • Share this:
      عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس (Tedros Adhanom Ghebreyesus) نے کہا کہ دنیا بھر کے اسپتالز میں داخل ہونے والے افراد کی اکثریت وہ ہے، جس سے ویکسین نہیں لی۔ انھوں نے کہا کہ ویکسین کورونا وائرس سے موت کو روکنے میں کارگر ہے۔

      ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ اگرچہ ویکسینیشن سنگین بیماری اور موت کو روکنے میں موثر ہے لیکن اس کی منتقلی کو روکا نہیں جا سکتا۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ دنیا بھر کے اسپتالز میں داخل ہونے والے لوگوں کی اکثریت غیر ویکسین شدہ ہے۔ اگرچہ ویکسین شدید بیماری اور موت کو روکنے کے لیے بہت کارآمد رہتی ہیں، لیکن وہ ٹرانسمیشن کو مکمل طور پر نہیں روکتی ہیں۔

      انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ ٹرانسمیشن کا مطلب زیادہ اسپتالز میں داخل ہونا، زیادہ اموات، زیادہ سے زیادہ لوگ متاثر ہونا اومی کرون (Omicron) سے بھی زیادہ منتقلی اور زیادہ مہلک ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ حاملہ خواتین کو کلینیکل ٹرائلز میں حصہ لینا چاہیے اور انہیں ویکسین تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔

      ٹیڈروس نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کئی کارکنوں پر زبردست دباو پڑرہا ہے۔ حاملہ خواتین کو شدید بیماری کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ انہیں کلینیکل ٹرائلز میں شامل کیا جانا چاہئے اور انہیں ویکسینیشن تک رسائی حاصل ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ بچہ دانی میں یا پیدائش کے دوران ماں سے بچے کی منتقلی بہت کم ہوتی ہے اور چھاتی کے دودھ میں کسی فعال وائرس کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔

      ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ویکسین کی عدم مساوات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں اور ملازمتوں کا قاتل ہے اور عالمی اقتصادی بحالی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہے الفا، بیٹا، ڈیلٹا، گاما اور اومی کرون اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جزوی طور پر ویکسینیشن کی شرح کم ہونے کی وجہ سے ہم نے وائرس کی مختلف اقسام کے ظہور کے لیے بہترین حالات پیدا کیے ہیں۔

      انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین اور صحت کے ضمن میں عدم مساوات مجموعی طور پر پچھلے سال کی سب سے بڑی ناکامی تھیں۔ جب کہ کچھ ممالک کے پاس اس وبائی مرض کے دوران ذخیرہ کرنے کے لیے کافی حفاظتی آلات، ٹیسٹنگ کٹس اور ویکسین کو محفوظ کرلیا ہے، بہت سے ممالک کے پاس بنیادی بنیادی ضروریات یا معمولی اہداف کو پورا کرنے کے لیے وسائل ہی کافی نہیں ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: