ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش کے کووڈ-19 سینٹر کو بند کرنے کا فیصلہ

مدھیہ پردیش میں کورونا کی وبائی بیماری بھلے ہی ابھی جاری ہو اور یومیہ طور پر سیکڑوں نئے کورونا مریض سامنے آرہے ہو مگر مدھیہ پردیش حکومت نے ریاست کے سبھی کووڈ سینٹر کو بند کرنے کا احکام جاری کردیاہے۔ حکومت کے احکام کے خلاف نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے ۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش کے کووڈ-19 سینٹر کو بند کرنے کا فیصلہ
کووڈ19 مراکز بند کرنے کا فیصلہ۔۔

مدھیہ پردیش میں کورونا کی وبائی بیماری بھلے ہی ابھی جاری ہو اور یومیہ طور پر سیکڑوں نئے کورونا مریض سامنے آرہے ہو مگر مدھیہ پردیش حکومت نے ریاست کے سبھی کووڈ سینٹر کو بند کرنے کا احکام جاری کردیاہے۔ حکومت کے احکام کے خلاف نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ ایم پی میں کووڈ سینٹر کو بند کئے جانے کو لیکر مدھیہ پردیش محکمہ صحت کی جانب سےجاری کئے گئے احکام میں راجدھانی بھوپال کو چھوڑکر ریاست کے باقی اضلاع کے کووڈ سینٹر کو بند کرنے کا احکام جاری کیا ہے۔احکام میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی ضلع میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو وہاں پر ریاستی حکومت کی اجازت کے بعد وہاں دوبارہ کووڈ سینٹر شروع کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے احکام کے خلاف نہ صرف سیاسی سطح پر احتجاج شروع کیاگیا ہے۔ کانگریس نےشیوراج سنگھ حکومت کےاس فیصلہ کو عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ اور تانا شاہی کے فیصلہ سے تعبیر کیا ہے۔


بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے حکومت کے ذریعہ ریاست میں کووڈ سینٹر بند کئے جانے کے فیصلہ کو حکومت کے جبر سے تعبیر کیا ہے۔ عارف مسعود کا کہنا ہے کہ حکومت کے فیصلہ سے تو یہی لگتا ہے کہ ریاست میں کورونا کی وبا ختم ہوگئی ہے مگر دوسری جانب حکومت کے ہی ہیلتھ بلیٹن بتا رہے ہیں کہ ریاست میں یومیہ طور پر سات سو سے نوسو بیچ کے کورونا کے نئے مریض سامنے آرہے ہیں ۔ ریاست میں کورونا کے ایکٹو مریض باقی ہیں مگر حکومت عوام کو طبی سہولیات دینے کے بجائے اپنی من مانی کرنے پر امادہ ہے ۔ حکومت کے اس احکام کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے اور میری وزیر اعلی سے گزارش ہے کہ ریاست میں کووڈ سینٹر بند کئے جانے کے احکام کو فورا واپس لیا جائے اور کوو ڈ سینٹر کو تب تک جاری رکھا جائے جب تک ریاست سے کورونا کا خاتمہ نہیں ہو جا تاہے ۔

وہیں مائناریٹیز یونائیٹیڈ آرگنائزیشن کے سکریٹری عبد النفیس کہتے ہیں کہ حکومت شروع سے ہی اپنی من مانی کر رہی ہے ۔ حکومت کے فرمان میں بھوپال کو چھوڑکر باقی ریاست میں کووڈ سینٹر بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے جبکہ بھوپال سے زیادہ کورونا کے مریض اندور میں ہیں۔سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کو ٹھیک سے علاج نہیں ملا رہا ہے۔ راجدھانی بھوپال کے ہی سب سے بڑے حمیدیہ اسپتال میں ناقص طبی سہولیات کے سبب کتنے لوگوں کی موت ہوچکی ہے مگر حکومت آج تک ان پر کوئی کاروائی نہیں کی ۔ اب اسے نئے فرمان سے عوام کی صحت سے ہی کھلواڑ ہوگا۔حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی ہے تو اس کے خلاف سڑک پر اترنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

وہیں مدھیہ پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے فیصلہ کا دفاع کر رہی ہے ۔ ایم پی بی جے پی ترجمان کرشن گوپال پاٹھک کہتےہیں کہ کانگریس عوام کو گمراہ کر کے سیاست میں بنی رہنا چاہتی ہے ۔ کورونا کو لیکر جتنے اچھے انتظام ایم پی میں کئے گئے ہیں وہ ملک میں ایک نظیر ہے ۔ سبھی اضلاع میں کورونا کے بہترین انتظامات کے سبب ہی شفایابی کی شرح بانوے فیصد سے اوپر پہنچ گئی ہے ۔حکومت کو عوام کی ہر قدم پر فکر ہے ۔مدھیہ پردیش کے سبھی اضلاع میں بہترین انتظامات جاری ہیں اور آگے بھی جاری رہیں گے ۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 04, 2021 05:47 PM IST