ہوم » نیوز » وطن نامہ

 بیوی کا آدھار کارڈ لیکر ویکسین کے ڈر سے درخت پر چڑھ گیا شخص، جانیں پھر کیا ہوا

کورونا ویکسینیشن سے ایک شخص اتنا ڈر گیا کہ خود تو ویکسین ویکسین نہیں لگوائی اور جب بیوی ویکسین لگوانے گئی تو اس کا آدھار کارڈ لیکر درخت پر چڑھ گی

  • Share this:
 بیوی کا آدھار کارڈ لیکر ویکسین کے ڈر سے درخت پر چڑھ گیا شخص، جانیں پھر کیا ہوا
کورونا ویکسینیشن سے ایک شخص اتنا ڈر گیا کہ خود تو ویکسین ویکسین نہیں لگوائی اور جب بیوی ویکسین لگوانے گئی تو اس کا آدھار کارڈ لیکر درخت پر چڑھ گی

مدھیہ پردیش کے راج گڑھ میں عجیب و غریب واقعہ ہو گیا۔ یہاں کورونا ویکسینیشن سے ایک شخص اتنا ڈر گیا کہ خود تو ویکسین ویکسین نہیں لگوائی اور جب بیوی ویکسین لگوانے گئی تو اس کا آدھار کارڈ لیکر درخت پر چڑھ گیا۔ ویکسین کی ڈوز ختم ہونے کے بعد ہی وہ پیڑ سے اترا۔ واقعہ ضلع کے پاٹن کلا گاؤں کا ہے۔ جانکاری کے مطابق گاؤں کے کنور لال کے من میں کورونا ویکسین کو لیکر زبردست ڈر بیٹھا ہوا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ ویکسین کے بعد بخار آتا اور ساتھ میں کئی پریشانیاں ہوتی ہیں۔


اس ڈر کی وجہ سے ابھی تک اس نے نہ خود ویکسین لگوائی اور نہ ہی بیوی کو لگوانے دی۔ گزشتہ دنوں بھی انتظامی عملے نے کنورلال کو ٹیکے لگانے کے لئے بلایا۔ گاؤں والوں نے اس کی بیوی کو اس کیلئے راضی کیا اور ہیلتھ سینٹر پہنچے۔


گاؤں والوں میں نظر آ رہا ہے جوش۔۔۔

کنور لال کو جیسے ہی اس بات کی جانکاری لگی وہ بیوی کا آڈھار کارڈ لیکر بھاگ گیا اور گاؤں کے ایک درخر پر چڑھ گیا۔ نہ اس نے بیوی کو ٹیکہ لگنے دیا، نہ خود لگوایا۔ حالانکہ پاٹن کلا گاؤں میں ویکسینیشن کو لیکر گاؤں والوں میں جوش دیکھا جا رہا ہے۔ گاؤں والے بڑی تعداد میں ویکسین لگوانے پہنچ رہے ہیں۔ بلاک میڈیکل کی ٹیم بھی گاؤں میں پہنچ کر لوگوں کو شیئر کر رہی ہے۔

کورونا سے جڑی اس خبر بھی ڈالیں نظر۔۔
ملک میں کورونا کے اکیاون ہزار چھ سو سڑسٹھ نئے معاملوں کی تصدیق ہوئی ہے۔۔اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں چونسٹھ ہزار پانچ سو ستائس مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔۔ اسی عرصے میں ایک ہزار تین سو انتیس افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔۔۔ملک میں کورونا کے چھ لاکھ بارہ ہزار آٹھ سو اٹہتر ایکٹو معاملے میں۔۔جبکہ ابتک ملک میں دو کروڑ سے زائد افراد کورونا کو مات دے چکے ہیں۔۔۔دوسری طرف ویکسی نیشن کی بات کریں تو ابتک ملک میں تیس کروڑ سے زائد لوگوں کو ویکسین لگ چکی ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 26, 2021 01:36 PM IST