ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا انفیکشن کا ’ہاٹ اسپاٹ‘ بنے تبلیغی جماعت کے اجتماع واقعہ پر مسلمانوں کا ملا جلا ردعمل

پیر کی دیر شام جب یہ خبر پھیلی کہ دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے چھ افراد کی کورونا وائرس کی مثبت جانچ کے بعد موت ہو گئی تو ملک بھر میں ہنگامہ مچ گیا۔

  • Share this:
کورونا انفیکشن کا ’ہاٹ اسپاٹ‘ بنے تبلیغی جماعت کے اجتماع واقعہ پر مسلمانوں کا ملا جلا ردعمل
تبلیغی جماعت کے افراد: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ پیر کی دیر شام جب یہ خبر پھیلی کہ دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے چھ افراد کی کورونا وائرس کی مثبت جانچ کے بعد موت ہو گئی تو ملک بھر میں ہنگامہ مچ گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب ہر کوئی سختی سے لاک ڈاون پر عمل پیرا ہے، مسلم سماج میں یہ افواہ پھیلنی شروع ہو گئی کہ نظام الدین کا یہ واقعہ کس طرح سے الگ تھلگ کردینے والا واقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔


سوشل میڈیا پر بھی دیر نہیں لگی۔ پیر کی رات بھر ’کورونا جہاد‘ کا ٹرینڈ چلتا رہا اور یہ لفاظی شروع ہو گئی کہ ’ویشنو دیوی میں عقیدت مند پھنسے ہوئے ہیں جبکہ مسلمان نظام الدین میں روپوش ہیں‘۔


شاہین باغ کے ایک مقامی رہائشی نے اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "سی اے اے مخالف مظاہروں نے پہلے سے ہی مسلمانوں کی ایک خاص قسم کی شبیہہ بنا دی تھی اور اب تبلیغی جماعت جیسی باوقار مسلم تنظیم کو بدنام کیا جارہا ہے۔"


نظام الدین واقع تبلیغی جماعت کا مرکز عالمی شہرت یافتہ مرکز ہے
نظام الدین واقع تبلیغی جماعت کا مرکز عالمی شہرت یافتہ مرکز ہے


ایک 28 سالہ شخص جو ماضی میں تبلیغی جماعت سے وابستہ رہے ہیں، انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’تبلیغی جماعت نے جو کچھ کیا وہ بطور تنظیم ایک غیر ذمہ دارانہ عمل تھا۔ لیکن حکومت متاثرہ ممالک سے آنے والے غیر ملکی وفود کو جماعت میں شامل ہونے سے کم ازکم روک تو سکتی تھی یا ہوائی اڈے پر ان کی اسکیننگ کر سکتی تھی‘‘۔

انہوں نے مزید کہا ، "تبلیغی جماعت نے اپنے حالات کے بارے میں حکام کو بروقت سمجھانے کے باوجود اب یہ محسوس کیا ہے کہ پوری برادری کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے جنہوں نے صورت حال کی سنگینی کو نہیں سمجھا اور کسی مقصد کے لئے جمع ہونے سے متعلق احکامات کی خلاف ورزی کی‘‘۔

جماعت اسلامی ہند (جے آئی ایچ) اور اسٹوڈنٹس آف اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) کے پیغامات پر مشتمل واٹس ایپ اسٹیٹس جاری تھا۔ ان پیغامات میں ایسے ہی جذبات تھے کہ ایسے صحت بحران کے درمیان "پولرائزیشن" کی ضرورت نہیں ہے اور حکومت "اپنی ناکامیوں کو چھپانے" کی کوشش کر رہی ہے۔

دارالحکومت دہلی میں نظام الدین علاقے میں بیرون ممالک سے آئے کئی لوگوں کے رابطے میں رہنے والے مقامی لوگوں میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنےکا خدشہ ہے، لہٰذا تقریباً ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کا میڈیکل ٹسٹ کروایا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو


اردو روزنامہ انقلاب جس نے 31 مارچ کے دہلی ایڈیشن میں تبلیغی جماعت کے کورونا وائرس کے پازیٹیو مریضوں کی نشاندہی کے بارے میں صفحہ اول کے ایک چوتھائی حصے پر ہی خبر شائع کی تھی، اس کے اگلے دن یعنی بدھ کے ایڈیشن میں اس نے صفحہ اول پر اس خبر کو بھرپور کوریج دیا۔۔ اس میں وزارت صحت کا بیان شائع ہوا تھا جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ "یہ غلطیاں ڈھونڈنے کا وقت نہیں ہے"۔ وہیں، حیدرآباد کے اردو روزنامہ سیاست نے اپنی ایک سرخی میں "میڈیا تنظیموں کو اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام لگایا‘‘۔ جب کہ روزنامہ کشمیر عظمیٰ نے تبلیغی جماعت کی وضاحت کو نمایاں طور پر شائع کیا جس مین کہا گیا ہےکہ "تنظیم حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں تھی"۔ سری نگر سے شائع ہونے والے ایک اور اردو روزنامہ آفتاب نے بھی ایک اسٹوری شائع کی ہے جس میں مسلم تنظیموں کے ذریعہ تبلیغی جماعت کے "غیر ذمہ دارانہ" اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔
First published: Apr 01, 2020 04:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading